ترامیم وقت کی ضرورت ، آئینی عدالت کا قیام ناگزیر ہے؛ سینیٹر طلحہ محمود

Nov 09, 2025 | 19:23:PM
ترامیم وقت کی ضرورت ، آئینی عدالت کا قیام ناگزیر ہے؛ سینیٹر طلحہ محمود
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(24نیوز)پیپلزپارٹی کے سینیٹر طلحہ محمود نے کہاکہ یہ ترامیم وقت کی ضرورت ہے، پاکستان اس وقت چاروں طرف سے دشمنوں سے گھرا ہوا ہے، انڈیا کے ساتھ جو جنگ ہوئی اس میں پاکستان کو اللہ نے سر خرو کیا۔

سینیٹ  اجلاس کے دوران اظہار خیال کرتے ہوئے سینیٹر طلحہ محمودکا کہناتھا کہ آئینی معاملات کو حل کرنے کیلئے ایک الگ عدالت کا ہونا ضروری ہے۔ یہ ایک اہم ترمیم ہو گی، ہزاروں کیسز پینڈنگ ہیں، وفاق اور صوبوں کے درمیان تنازعات کو حل کرنے کے لئے آئینی عدالت ہونا ضروری ہے، ہمارا اس وقت سب سے بڑا مسئلہ نیشنل سیکیورٹی کا ہے،  اس وقت ہمیں اپنی فوج کو مضبوط کرنے کی ضرورت ہے، بہت سارے ایسے ڈسٹرکٹ ہیں جو بہت پیچھے رہ گئے ہیں۔ 

انہوں نے کہاکہ میری ہاؤس سے گزارش ہے کہ چترال میں کرپشن ، انفراسٹرکچر اور ٹورزم کی پروموشن کے لئے کمیٹی تشکیل دی جائے، جس طرح باقی علاقے ترقی کے مستحق ہیں ویسے ہی یہ علاقے بھی ترقی کے مستحق ہیں۔

سینیٹر مسرور احسن نے ایوان میں اظہار خیال  کرتے ہوئے کہاکہ میں پی ٹی آئی کی بطور سیاسی جماعت احترام کرتا ہوں ،یہاں آپ بات کرتے ہیں اور تجاویز دیتے ہیں لیکن آپ مذاکرات کسی اور سے کرنا چاہتے ہیں ،پیپلز پارٹی کے کارکنان نے جمہوریت کی بحالی کیلئے ہزاروں کوڑے کھائے ہیں،فلک ناز چترالی ابھی باہر نکلیں تو شہید بی بی کا نام لیتے ہی رو پڑیں گی،پیپلز پارٹی بات چیت پر یقین رکھتی ہےاور اسی سے جمہوریت مضبوط ہوگی ،علی ظفر کمیٹی میں جا کر بیٹھیں اور بات چیت میں حصہ لیں۔

سینیٹر محسن عزیزنے کہاکہ اس آئینی ترمیم کی کس بات کی اتنی جلدی ہے،کیا آئینی ترمیم پر بحث ضروری نہیں،اب تو اس ترمیم پر ایوان میں بحث کی گنجائش ہی نہیں ، اجازت ہی نہیں،ایسے موقع پر اپوزیشن لیڈر نہیں ، یہ کس جمہوریت کی نشاندہی کرتا ہے۔انہوں نے کہاکہ چھبیسویں آئینی ترمیم عجلت میں کی اور اس میں خامیاں رہ گئیں،آج پھر ہم عجلت میں آئین جو تبدیل کر رہے ہیں، اتنی جلدی کیا ہے،کیا ہم آئینی ترمیم میں عدلیہ کو مضبوط بنا رہے ہیں ؟ یا اسے کمزور سے کمزور تر کر رہے ،ہمیں مضبوط فوج ، صحت اور تعلیم اور معیشت چاہیے،ہم میثاق معیشت تو کر سکتے ہیں،ہم ادارے کو جاکر حقائق بتا سکتے ہیں،ہم میں وہ ہمت پیدا ہو جائے تو ملک ترقی کرے گا۔

سینیٹر محسن عزیز نے کہاکہ خیبر پختونخوا کے نام کو دوبارہ تبدیل کرنے کی بات کی جا رہی ہے،عجلت نہ کریں،جو اچھی ترامیم ہوں گی ہم آپ کے ساتھ بیٹھ کر مانیں گے،ہماری تجاویز پر ہمارے ساتھ بیٹھا جائے،لیکن ہم بلڈوز کا حصہ نہیں بنیں گے۔

سینیٹر افنان اللہ خان کا کہناتھا کہ اپوزیشن نے ساری باتیں کی لیکن یہ نہیں بتایا کہ ان ترامیم میں مسئلہ کیا ہے؟ یہ لوگ باہر گھومنے جاتے ہیں مراعات لے رہے ہیں اور کمیٹیوں میں نہیں بیٹھتے ، یہ بتائیں کہ 2018 میں آر ٹی ایس کس نے بیٹھایا، 33 بل نومبر 2021 میں اکٹھے منظور کروائے انہوں نے۔ آپ کو تب سول سپریمیسی کا خیال کیوں نہیں آیا جب آپ کا لیڈر کہتا تھا کہ میں ایجنسیوں سے بندے پورے کرواتا ہوں، اس وقت آپ کو جمہوریت یاد کیوں نہیں آئی؟ 

ن لیگ کے سینیٹر نے کہاکہ ان کے کالے کرتوتوں کی وجہ سے آئینی ترامیم آئی ہیں، آپ کے اور عدلیہ کے گٹھ جور کی وجہ سے آئینی ترمیم آئی ہے، آپ کو 8 فروری کا الیکشن تو یاد آتا ہے پر 15 جولائی کا یاد نہیں آتا؟ آپ کو وہ والی عدلیہ پسند ہے جو آپ کو طاقت میں لے کر آئے، ان کاکہناتھا کہ 63-A کا فیصلہ دیا گیا ثاقب نثار کی طرف سے، بہتر ہوتا اگر آپ لوگ ڈرافٹ کو پڑھ لیتے، ان کے سی ایم نے اخلاق سے گری ہوئی بات کی ہے الزام لگائے ہیں افواج کے اوپر ، ملک میں اتنشار پھلانے سے آپ کو حکومت نہیں ملے گی، جو گڑھا آپ لوگوں نے ہمارے لئے کھودا تھا اس میں خود گرے، اپوزیشن اپنا کردار ادا کرے، اگر یہ کمیٹی میں بیٹھے ہوتے تو ان ترامیم پر بہت فرق پڑتا ۔

دیگر کیٹیگریز: پاکستان - قومی
ٹیگز: