پنجاب فوڈ اتھارٹی کے مقدمہ میں ناقص تفتیش،عدالت برہم

لاہور ہائیکورٹ نے پنجاب فوڈ اتھارٹی کے مقدمے میں تفتیشی افسر کے متضاد مؤقف اور ناقص تفتیش پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ڈی پی او ٹوبہ ٹیک سنگھ اخلاق اللہ تارڈ سے وضاحت طلب کر لی

Jun 09, 2026 | 13:09:PM
  پنجاب فوڈ اتھارٹی کے مقدمہ میں ناقص تفتیش،عدالت برہم
کیپشن: فائل فوٹو
سورس: گوگل
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(ملک اشرف)لاہور ہائیکورٹ نے پنجاب فوڈ اتھارٹی کے مقدمے میں تفتیشی افسر کے متضاد مؤقف اور ناقص تفتیش پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ڈی پی او ٹوبہ ٹیک سنگھ اخلاق اللہ تارڈ سے وضاحت طلب کر لی۔

 عدالت نے ڈی پی او کو تفتیشی افسر کے خلاف کارروائی کی رپورٹ آئندہ سماعت پر پیش کرنے کا حکم دیتے ہوئے ملزمان کی عبوری ضمانتوں میں توسیع کر دی۔

جسٹس محمد طارق ندیم نے ملزمان ماجد منیر اور ضیاء الرحمن کی عبوری درخواست ضمانتوں پر سماعت کی۔ سماعت کے دوران ڈی پی او ٹوبہ ٹیک سنگھ اخلاق اللہ تارڈ، پنجاب فوڈ اتھارٹی کے افسران اور مقدمے میں نامزد ملزمان اپنے وکیل کے ہمراہ عدالت میں پیش ہوئے۔
دوران سماعت عدالت نے ڈی پی او اخلاق اللہ تارڈ سے استفسار کیا کہ کیا انہوں نے مقدمے کا ریکارڈ اور تفتیش کا جائزہ لیا ہے؟ جس پر ڈی پی او نے جواب دیا کہ انہوں نے کیس کا جائزہ لیا ہے اور ان کی رائے میں ملزم ضیاء الرحمن کی گرفتاری نہیں بنتی۔اس موقع پر جسٹس محمد طارق ندیم نے ریمارکس دیئے کہ آپ کو معلوم ہے کہ آپ کو عدالت میں کیوں طلب کیا گیا ہے؟ عدالت نے نشاندہی کی کہ گزشتہ سماعت پر تفتیشی افسر نے عدالت کے روبرو ملزم کی گرفتاری کو ضروری قرار دیا تھا جبکہ اب مؤقف تبدیل کر دیا گیا ہے۔

ڈی پی او نے عدالت کو بتایا کہ متعلقہ تفتیشی افسر نے گزشتہ روز ملزم کی گرفتاری کا مؤقف اختیار کیا تھا، تاہم بعد میں صورتحال مختلف سامنے آئی۔ اس پر عدالت نے سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ مسئلہ صرف اس ایک مقدمے تک محدود نہیں بلکہ متعدد مقدمات میں تفتیشی افسران اسی نوعیت کا رویہ اختیار کرتے ہیں۔جسٹس محمد طارق ندیم نے ریمارکس  دئیے کہ تفتیشی افسر پہلے ملزم کے حق میں رپورٹ دیتے ہیں اور بعد میں عدالت میں آ کر اس کے خلاف مؤقف اختیار کر لیتے ہیں، جو ایک غیر مناسب اور ناقابل قبول طرزِ عمل ہے۔ عدالت نے ریمارکس دیے کہ یہ پریکٹس درست نہیں اور اس سے تفتیشی نظام کی ساکھ متاثر ہوتی ہے۔

عدالت نے مزید ریمارکس دیئے کہ بظاہر لگتا ہے کہ ڈی پی او کی سپروائزری مؤثر نہیں، جس کی وجہ سے تفتیشی افسران اس قسم کے متضاد اقدامات کرتے ہیں۔ اگر تفتیش درست تھی تو پھر اس پر قائم کیوں نہیں رہا گیا؟ عدالت نے سوال اٹھایا کہ متعلقہ تفتیشی افسر ناصر کے خلاف کیا کارروائی کی گئی ہے۔اس پر ڈی پی او اخلاق اللہ تارڈ نے عدالت کو بتایا کہ مذکورہ تفتیشی افسر کو شوکاز نوٹس جاری کر دیا گیا ہے۔ تاہم عدالت اس جواب سے مطمئن نہ ہوئی اور ریمارکس دیئے کہ صرف شوکاز نوٹس جاری کرنے سے مسئلہ حل نہیں ہوگا۔ عدالت نے طنزیہ انداز میں کہا کہ شوکاز نوٹس دینے کے بعد جب تفتیشی افسر کی محبت دل میں جاگے گی تو نوٹس واپس لے لیا جائے گا۔
عدالت نے استفسار کیا کہ شوکاز نوٹس پر فیصلہ کتنے عرصے میں کیا جاتا ہے، جس پر ڈی پی او نے بتایا کہ عام طور پر سات روز کے اندر فیصلہ کر لیا جاتا ہے۔ اس پر عدالت نے ریمارکس دیے کہ اکثر عدالتی احکامات کے بعد متعلقہ معاملات کو بھلا دیا جاتا ہے اور کسی قسم کی مؤثر کارروائی عمل میں نہیں لائی جاتی، جس سے پورا نظام مذاق بن کر رہ جاتا ہے۔

جسٹس محمد طارق ندیم نے ریمارکس دیئے کہ کہ کسی ایک تفتیشی افسر کے خلاف مؤثر تادیبی کارروائی کر کے اسے مثال بنایا جائے تاکہ آئندہ اس نوعیت کی بے ضابطگیوں کا سدباب ہو سکے۔بعد ازاں عدالت نے ملزمان ماجد منیر اور ضیاء الرحمن کی عبوری ضمانتوں میں توسیع کرتے ہوئے سماعت 22 جون تک ملتوی کر دی اور ڈی پی او ٹوبہ ٹیک سنگھ کو ہدایت کی کہ آئندہ سماعت پر تفتیشی افسر کے خلاف کی گئی کارروائی کی تفصیلی رپورٹ پیش کی جائے۔