بھارتی ریاست گجرات میں ہائی کورٹ کا مسلم دشمن فیصلہ، 49 مسلمانوں کو سنگین سزائیں سنا دیں

Jul 09, 2026 | 00:09:AM
بھارتی ریاست گجرات میں ہائی کورٹ کا مسلم دشمن فیصلہ، 49 مسلمانوں کو سنگین سزائیں سنا دیں
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(ویب ڈیسک) بھارت کی ریاست احمد آباد میں ہائی کورٹ کے متعصب جج نے مسلمانوں کی دشمنی کی انتہا کرتے ہوئے نام نہاد  خصوصی عدالت کی جانب سے 38  مسلمانوں کو دی گئی متنازعہ سزائے موت اور 11  مسلمانوں کی عمر قید کی سزا برقرار رکھنے کا متنازعہ فیصلہ صادر کر دیا۔ 

بھارت کی ریاست گجرات  میں احمد آباد ہائی کورٹ نے مسلم دشمنی کی نئی تاریخ رقم کرتے ہوئے  2008 کے احمد آباد بم دھماکوں کے مقدمے میں  49 مسلمانوں کی متنازعہ سزائے موت اور عمر قید کی سزائیں برقرار رکھیں بلکہ ان کو جرمانے بھی عائد کردیے۔

بھارتی میڈیا کے مطابق گجرات ہائی کورٹ کے ججوں نے یہ متنازعہ فیصلہ مسلمان وکٹمز کی اپیل پر سنایا جنہوں نے نام نہاد خصوصی عدالت کے متنازعہ فیصلے کو ہائی کورٹ میں چیلنج کیا تھا۔

عدالت نے  2008 کے  دھماکوں میں مرنے والے 56 افراد کے وارثوں کو فی کس 10 لاکھ روپے اور زخمی ہونے والے ہر شخص کو ایک لاکھ روپے معاوضہ  بھی ان مسلمانوں کو ادا کرنے کا حکم دیا جن کا کہنا ہے کہ وہ کسی دھماکے میں ملوث ہی نہیں تھے۔

 احمد آباد ہائی کورٹ سے سنایا گیا یہ نیا متنازعہ فیصلہ جسٹس اے وائی کوگجے اور جسٹس سمیر دوے پر مشتمل دو رکنی بینچ نے آج سنایا جو عدالت نے تقریباً ایک سال تک روزانہ کی بنیاد پر اپیلوں کی سماعت کے بعد فیصلہ محفوظ کیا تھا۔

2008 کے بم دھماکوں کے مقدمہ کا پس منظر

26 جولائی 2008 کو گجرات کمیں  احمد آباد اور کئی دوسرے شہروں میں مختصر وقفوں سے متعدد بم دھماکے ہوئے تھے۔ ان حملوں میں 56 افراد ہلاک جبکہ 200 سے زائد زخمی ہوئے تھے جس کے بعد ملک بھر میں بڑے پیمانے پر تحقیقات کا آغاز کیا گیا۔

مشکوک تحقیقات میں 78  مسلمانوں کو ملزم نامزد کیا گیا جن میں سے عدالت نے فروری 2022 میں فیصلہ 49 افراد کو مجرم قرار دیا ؛ 38 کو سزائے موت اور 11 کو عمر قید کی سزا سنائی۔ 28  مسلمانوں کو شواہد ناکافی ہونے پر بری کر دیا۔ بھارتی  ریاستی اداروں نے ان تمام افراد کو انڈین مجاہدین کے کارکن قرار دیا تھا۔  جن سے بارودی مواد برآمد کرنے کے دعوے کئے گئے ان سے ایسا کوئی مواد ملنے کے کوئی قابل تصدیق ثبوت سامنے نہیں لائے گئے تھے۔ ان تمام لوگوں کو بم دھماکوں کی منصوبہ بندی اور عمل درآمد میں ملوث قرار دیا گیا لیکن ان الزامات کے ثبوت من گھڑت تھے۔ 

استغاثہ کے مطابق ان مسلمانوں نے 2002 کے گجرات فسادات کا بدلہ لینے اور ملک میں خوف و ہراس پھیلا کرحکومت کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کے مقصد سے سلسلہ وار بم دھماکوں کی منصوبہ بندی کی تھی۔

تفتیش کے دوران مختلف ریاستوں سے گرفتار  کئے گئے افراد پر دھماکا خیز مواد جمع کرنے، بم تیار کرنے اور حملوں کی منصوبہ بندی میں ملوث ہونے کے الزامات عائد کیے گئے۔

عدالتی ریکارڈ کے مطابق سزا پانے والے افراد کا تعلق گجرات، اتر پردیش، مہاراشٹر، کرناٹک، کیرالا، مدھیہ پردیش، آندھرا پردیش، راجستھان، بہار اور دہلی سمیت مختلف ریاستوں سے ہے۔

گجرات کے نائب وزیر اعلیٰ ہرش سانگھوی نے فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے اسے دہشت گردی کے خلاف سخت پیغام قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ فیصلہ دہشت گردی میں ملوث عناصر کے لیے "زیرو مرسی" کی پالیسی کی عکاسی کرتا ہے۔

جمعیت علمائے مہاراشٹر کا سپریم کورٹ جانے کا اعلان

بم دھماکوں کے اس مقدمہ میں پھنسائے گئے درجنوں مسلمانوں کی قانونی معاونت کرنے والی  تنظیم جمعیۃ علمائے مہاراشٹر  نے احمدآباد ہائی کورٹ کے تعصب بھرے  فیصلے پر شدید مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے اسے سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے کا اعلان کیا ہے۔

جمعیت علما مہاراشٹر کے مطابق اس نے جمعیۃ علمائے احمد آباد کے تعاون سے 39 ملزمان کو قانونی معاونت فراہم کی تھی۔ تنظیم کے صدر مولانا ارشد مدنی کا کہنا ہے کہ ہمیں سپریم کورٹ سے انصاف ملنے کی امید ہے اور ملزمان کی مؤثر قانونی پیروی کے لیے ملک کے ممتاز فوجداری وکلا کی خدمات حاصل کی جائیں گی۔

جمعیت نے اپنے بیان میں کہا کہ ماضی میں بھی کئی مقدمات میں نچلی عدالتوں اور ہائی کورٹ کے فیصلے سپریم کورٹ نے کالعدم قرار دیے۔

انھوں نے اکشردھام مندر حملہ کیس کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ اس مقدمے میں بھی متعدد افراد کو پہلے سزائے موت اور عمر قید سنائی گئی تھی تاہم بعد میں سپریم کورٹ نے تمام ملزمان کو بری کرتے ہوئے تفتیشی عمل پر سخت تنقید کی تھی۔

اب احمد آباد بم دھماکا کیس کا اگلا مرحلہ سپریم کورٹ میں اپیل کی صورت میں سامنے آئے گا جہاں ہائی کورٹ کے فیصلے کو قانونی طور پر چیلنج کیا جائے گا۔