امریکا کا تانبے پر 50 فیصد درآمدی ٹیکس عائد کرنے کا فیصلہ، قیمتوں میں ریکارڈ اضافہ

Jul 09, 2025 | 01:38:AM
امریکا کا تانبے پر 50 فیصد درآمدی ٹیکس عائد کرنے کا فیصلہ، قیمتوں میں ریکارڈ اضافہ
کیپشن: فائل فوٹو
سورس: 24 نیوز
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(ویب ڈیسک)  امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ امریکا تانبے (Copper) کی درآمدات پر 50 فیصد ٹیرف (درآمدی ٹیکس) عائد کرے گا  جس کا مقصد اس اہم دھات کی ملکی پیداوار کو فروغ دینا ہے،یہ دھات الیکٹرک گاڑیوں، فوجی ساز و سامان، بجلی کے گرڈ اور متعدد صارف اشیاء کی تیاری میں کلیدی حیثیت رکھتی ہے۔

ٹرمپ کے اعلان کے بعد نیویارک کی کموڈٹی مارکیٹ میں تانبے کے فیوچر (Comex copper futures) کی قیمت 12 فیصد اضافے کے ساتھ بلند ترین سطح پر پہنچ گئی۔

صدر ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں کابینہ اجلاس کے دوران صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میں سمجھتا ہوں ہم تانبے پر 50 فیصد ٹیرف لگائیں گے۔ 

امریکی وزیر تجارت ہاورڈ لٹ نک (Howard Lutnick) نے میڈیاکو دیے گئے انٹرویو میں تصدیق کی کہ تانبے پر نیا ٹیرف جولائی کے آخر یا یکم اگست سے نافذ کیے جانے کا امکان ہے، صدر ٹرمپ تفصیلات منگل کے روز اپنی سوشل میڈیا پلیٹ فارم "ٹروتھ سوشل" پر جاری کریں گے۔

 یہ فیصلہ ایسے وقت آیا ہے جب امریکا اپنی تانبے کی ضرورت کا تقریباً نصف حصہ بیرون ملک سے درآمد کرتا ہے،2024 میں امریکا کے بڑے تانبہ سپلائرز میں چلی، کینیڈا، اور میکسیکو شامل تھے، تینوں ممالک نے امریکی حکومت سے اپیل کی ہے کہ ان پر ٹیرف نہ لگایا جائے کیونکہ ان کی درآمدات امریکی مفادات کے لیے خطرہ نہیں۔

 امریکی وزیر تجارت نے کہا کہ یہ اقدام امریکی صنعتی شعبے کو مضبوط بنانے کے لیے اٹھایا جا رہا ہے،مقصد یہ ہے کہ تانبہ واپس امریکا لایا جائے، یہاں پیداوار ہو تاکہ صنعت کا انحصار بیرونی دنیا پر نہ رہے۔ 

 امریکی کمپنی "فری پورٹ-میکمورن" (Freeport-McMoRan)، جو ملک کی سب سے بڑی تانبہ پیدا کرنے والی کمپنی ہے  کے شیئرز میں منگل کی سہ پہر کو تقریباً 5 فیصد اضافہ دیکھا گیا۔ کمپنی نے باضابطہ ردعمل نہیں دیا۔

ماہرین کے مطابق اس فیصلے سے امریکی صنعتیں متاثر ہو سکتی ہیں جو تانبہ درآمد کر کے اشیاء تیار کرتی ہیں، کیونکہ مقامی پیداوار ابھی بھی ملکی ضروریات کو پورا کرنے سے کافی دور ہے۔

سیکسو بینک کے کموڈٹی تجزیہ کار اولے ہینسن کے مطابق امریکا نے پچھلے چھ ماہ میں ایک سال کی مانگ کے برابر تانبہ درآمد کر لیا ہے، اس لیے ذخائر میں کمی کا فوری خطرہ نہیں لیکن قیمتیں وقتی طور پر اوپر جا سکتی ہیں۔ 

 چلی، کینیڈا اور پیرو نے امریکا کو یاد دہانی کروائی ہے کہ وہ آزاد تجارتی معاہدوں کا حصہ ہیں اور ان پر ٹیرف لگانا معاہدوں کی روح کے خلاف ہوگا  تاہم ان کی وزارتوں نے فوری طور پر ردعمل نہیں دیا۔

یہ بھی پڑھیں: امریکا کا تانبے پر 50 فیصد درآمدی ٹیکس عائد کرنے کا فیصلہ، قیمتوں میں ریکارڈ اضافہ