تحریک انصاف کے رہنما تھک گئے لیکن عمران خان مفاہمت کیلئے تیار نہیں:سلیم بخاری
Stay tuned with 24 News HD Android App
(فرخ احمد)معروف تجزیہ کار سلیم بخاری نے کہا ہے کہ بانی جیل میں ہیں ان کی ملاقاتوں کی تعداد نکالیں تو پتہ چلتا ہے کہ ایسا کچھ بھی نہیں ہے کہ یہ پالیسی ہے کہ کسی کو ملنے ہی نہیں دینا ہے، بہنوں اور وکلا کی کئی ملاقاتیں ہو چکی ہیں لیکن ایسا نہیں ہو سکتا کہ آپ ملاقاتوں کے بعد منفی پروپیگنڈہ شروع کر دیں۔
24 نیوز کے مقبول پروگرام ’’ دی سلیم بخاری شو‘‘ میں رائے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اڈیالہ جیل میں ملاقاتیں تو ہوتی تھیں لیکن جو اکھاڑہ لگا ہوتا تھا اور جیل کے باہر جو تماشہ لگتا تھا اس کو سب نے دیکھا ہے جس میں حکومت وقت اور ملکی اداروں کے خلاف جو زبان اور زہریلا پروپیگنڈہ ہوتا ہے، اس کی اجازت کوئی حکومت کیسے دے سکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کے پاس آپشن کیا تھا ان کے پاس آپشن یہ تھا کہ موجودہ حکومت کے ساتھ بات چیت کرتے اور معاملات کو سیاسی طور پر حل کرنے کی طرف جاتے لیکن انہوں نے حکومت سے مذاکرات سے انکار کر دیا اور جن سے مزاکرات کرنے کی خواہش کا اظہار کیا وہ ان کے ساتھ بات کرنے کو تیار نہیں تھے۔
سلیم بخاری نے کہا کہ اب تحریک انصاف کے رہنما تھک گئے ہیں اور مایوسی میں ان کو مشورے دے رہے ہیں کہ مذاکرات کا راستہ نکالا جائے لیکن وہ اس پر راضی نہیں ہیں اس لیے اب بچی کھچی لیڈر شپ بھی پریشان ہے اور پارٹی کو چھوڑے جا رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ علی امین گنڈا پور کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے بڑے پن کا مظاہر ہ کیا، ان سے وزارت اعلیٰ لے لی گئی لیکن انہوں نے پارٹی کے ساتھ اپنی وابستگی ختم نہیں کی اب کیونکہ بانی کسی طرح بھی مذاکرات کے لیے راضی نہیں ہیں اور سسٹم کے ساتھ چلنا نہیں چاہتے تو پارٹی کے اندرونی حلقے اور حکومت اس بات پر متفق ہوتے دکھائی دیتے ہیں کہ پھر مائنس ون ہو جانا چاہئے۔
پاکستان کے معاشی استحکام، ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کے اعتراف کے متعلق اپنی رائے کا اظہار کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ اگر کوئی حکومت کی کمزوری یا خامی ہمارے ہاتھ لگ جائے تو حکومت کو آڑھے ہاتھوں لیتے ہیں لیکن یہ زیادتی ہے کہ حکومت کی کارکردگی کی اگر کسی انٹرنیشنل فورم سے تکریم ہوئی ہے تو اس کی حوصلہ افزئی نہیں کی جا رہی۔
سلیم بخاری نے کہا کہ پاکستان میں معیشت اور گورننس بہتر ہو رہی ہے اور اس کی تائید ٹرانسیرنسی انٹرنیشنل جیسے ادارے نے بھی کی، انہوں نے ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ کو حکومتی کارکردگی کے اوپر کلین چٹ قرار دیا جو پروپیگنڈہ کیا جاتا ہے کہ 5300ارب کی کرپشن ہوئی ہے اگر ایسا ہوا ہوتا تو کیا آئی ایم نے جو آج قرضے کی قسط جاری کی ہے کیا وہ ایسا کرتی۔
انھون نے کہا کہ یہ معاہدہ تقریبا مکمل ہونے والا ہے اور یہ معاہدہ دوسرے مرحلے میں داخل ہونے والا ہے اس مرحلے کے لیے ایک امن کونسل نے بننا ہے جس کو ہیڈ امریکی صدر ٹرمپ خود کریں گے، ٹرمپ سے دو تین چیزیں مسلم قیادت اور حماس منوا چکی ہیں جن میں سے ایک ٹونی بلئیر جس کو اس امن کونسل کی قیادت دی جا رہی تھی، مسلم ممالک اور حماس کے بار بار کے اصرار پر آخر کار اس کو تسلیم کرنا پڑا اور امن کونسل کی صدارت سے اس کو علیحدہ کرنا پڑا۔
حماس کی اسرائیل کیخلاف ہتھیار پھینکنے پر مشروط آمادگی پر اپنی رائے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حماس اس شرط پر راضی ہوئے ہیں کہ پہلے جنگ بندی کی ساری شقوں پر عملدرامد کرایا جائے، جنگ بندی کی شق میں یہ موجود ہے کہ پورا انخلا ہوگا۔پھر حماس ہتھیار پھینکے گی اور وہ ہتھیار بھی فلسطینی اتھارٹی کے سامنے ڈالیں گے۔
جب اسرائیل غزہ سے نکل جائے گا۔اس پرانہوں نے ضرب المثل دی نہ نو من تیل ہو گا نہ رادھا ناچے گی۔کیوں کہ اسرائیل اب یلو لائن کو سرحد بنا کر بیٹھا ہوا ہے جو کہ اصل میں فلسطین کا علاقہ ہے اور جنگ بندی معاہدے کے تحت اسرائیل کو یہ علاقے خالی کرنا ہوں گے۔
یہ بھی پڑھیں :اڈیالہ کا قیدی بانی ایم کیو ایم پارٹ 2 بن چکا ہے، :عظمیٰ بخاری