نورِ سحر میں" فخرِ امت امام غزالیؒ۔۔۔علم و عرفان کا آفتاب ''روح پرور اور علمی نشست

جسٹس (ر) نذیر احمد غازی نےامام غزالیؒ کی علمی شان بیان کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایسی شخصیت تھے جنہوں نے ’’زمین کی حکمت اور آسمان کی دانش‘‘ کو یکجا کیا

Dec 09, 2025 | 11:58:AM
 نورِ سحر میں
کیپشن: فائل فوٹو
سورس: 24نیوز
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(24نیوز)معروف ٹی وی پروگرام "نورِ سحر" میں ایک روح پرور اور علمی نشست کا انعقاد کیا گیا جس کا موضوع " فخرِ امت امام غزالیؒ۔۔۔علم و عرفان کا آفتاب "تھا۔

پروگرام کے میزبان جسٹس (ر) نذیر احمد غازی نےامام غزالیؒ کی علمی شان بیان کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایسی شخصیت تھے جنہوں نے ’’زمین کی حکمت اور آسمان کی دانش‘‘ کو یکجا کیا، فلسفہ، منطق، تصوف اور دینی علوم کے یہ امام پوری علمی دنیا میں ’’حجۃ الاسلام‘‘ کے نام سے یاد کیے جاتے ہیں۔

انہوں نے امریکی مصنفہ مارگٹ اسمتھ کی کتاب Al-Ghazali: The Mystic کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ امام غزالیؒ نے عہدِ نظامیہ کی شان و شوکت ترک کر کے تصوف کا راستہ اختیار کیا،دمشق میں گمنامی کے عالم میں مسجد کی صفائی کرتے ہوئے انہوں نے یونانی فلسفے کے ایک پیچیدہ مسئلے کا ایسا حل پیش کیا جس سے ایک عالم نے فوراً انہیں پہچان لیا۔

پروفیسر عبدالحمید قادری نےکہا کہ امام غزالیؒ کا خاندان پانچ پشتوں سے علم و دین کا مرکز تھا، ابتدائی تعلیم کے بعد وہ بغداد پہنچے، جہاں ان کی ذہانت اور مناظرانہ صلاحیت نے انہیں کم عمری میں ممتاز بنا دیا۔
انہوں نے کہا کہ امام غزالیؒ کی تصانیف احیاء العلوم، تحافۃ الفلاسفہ، کیمیائے سعادت، مکاشفۃ القلوب، منہاج العابدین آج بھی اسلامی فکر کی بنیادوں میں شامل ہیں۔

پروفیسر حافظ ناصر محمود نے سلجوقی دور کے علمی ماحول اور نظام الملک طوسی کی علمی سرپرستی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ مدارسِ نظامیہ کے اسی ماحول میں غزالیؒ کی صلاحیتیں نکھر کر سامنے آئیں۔ صرف 28 برس کی عمر میں ان کا مدرسۂ نظامیہ بغداد کے وائس چانسلر بن جانا علمی دنیا کا غیر معمولی واقعہ تھا۔

پروفیسر سید فہد علی کاظمی نے امام ابو حامد الغزالیؒ کی علمی، فکری اور روحانی عظمت کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ غزالیؒ جیسی شخصیات تاریخِ انسانیت میں بہت کم پیدا ہوتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اقبال، رومی اور ابن عربی جیسے عظیم مفکرین کی صف میں امام غزالیؒ کا مقام منفرد اور بے مثال ہے۔

انہوں نے کہا  کہ امام غزالیؒ نے نہ صرف علمی دنیا کو جھنجھوڑا بلکہ چھ ماہ تک جاری رہنے والی داخلی جدوجہد کے بعد بغداد کے اعلیٰ منصب، شہرت اور دنیاوی جاہ کو ترک کر کے ’’علمِ حقیقت‘‘ کی تلاش کا سفر اختیار کیا۔