کاغذی تماشا یا سنجیدہ سرپرستی؟ — پی این سی اے کی کلاسیکل میوزیکل نائٹ کا جائزہ

تحریر ؛ زین مدنی حسینی 

Nov 08, 2025 | 19:24:PM
کاغذی تماشا یا سنجیدہ سرپرستی؟ — پی این سی اے کی کلاسیکل میوزیکل نائٹ کا جائزہ
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

پاکستان نیشنل کونسل آف دی آرٹس (پی این سی اے) کے زیرِ اہتمام شاکر علی میوزیم لاہور میں منعقدہ حالیہ کلاسیکل میوزیکل نائٹ شائقین کو متاثر نہ کر سکی۔ تقریب کا مقصد تو موسیقی کی روایت کو فروغ دینا تھا، مگر مجموعی انتظامات اور کمزور پلاننگ نے اسے ایک کاغذی کارروائی میں بدل دیا۔
تقریب کا آغاز تاخیر سے ہوا۔ اعلان کے مطابق ایونٹ چھ بجے شروع ہونا تھا مگر تقریب سات بجے کے بعد شروع ہوئی۔ شائقین سخت سرد موسم میں کھلے میدان میں بیٹھے رہے اور انہیں صرف چائے پیش کی گئی۔ اکثر حاضرین نے انتظامات پر عدم اطمینان کا اظہار کیا۔
پروگرام میں پٹیالہ گھرانے کے بچوں کو مدعو کیا گیا، تاہم کسی معروف کلاسیکل گلوکار کی شمولیت نہ ہونے سے تقریب کی اہمیت اور وقار کم ہوتا محسوس ہوا۔ شائقین کے مطابق پروگرام ایسا لگا جیسے محض فوٹو اور ویڈیو شوٹنگ کے لیے منعقد کیا گیا ہو تاکہ بعد میں ادارے کی سرگرمی دکھائی جا سکے۔
تقریب میں ڈائریکٹر پی این سی اے لاہور فاطمہ سلمان بھی شریک ہوئیں۔ اُن کی موجودگی بلاشبہ اس بات کا ثبوت تھی کہ پروگرام کو ادارے کی سرپرستی حاصل ہے، مگر اُن کی انتظامی نگرانی اور پالیسی سطح کی رہنمائی تقریب میں نظر نہ آئی۔
ذرائع کے مطابق فاطمہ سلمان کو پروگرام کے انتظامات سے متعلق شکایات موصول ہوئیں، تاہم وہ موقع پر زیادہ مداخلت نہیں کر سکیں کیونکہ تقریب کی تیاری اور انتظامات کی ذمے داری پی این سی اے کے کلرک الماس کے سپرد تھی، جو پہلے بھی نجی پروگرامز کے انعقاد کے حوالے سے جانے جاتے ہیں۔
شائقین اور فنکاروں کا کہنا تھا کہ ایک ادارہ جو ملک کی ثقافتی نمائندگی کرتا ہے، وہاں پروفیشنل ایونٹ مینیجرز کی بجائے ایک کلرک کے ذریعے اس نوعیت کے پروگرام کرانا حیران کن ہے
پی این سی اے کا لاہور آفس ماضی میں کرایہ ادا نہ ہونے کے باعث بند کر دیا گیا تھا، اور اب ادارے کا عبوری دفتر شاکر علی میوزیم میں قائم ہے۔ یہی وجہ ہے کہ لاہور میں ادارے کی سرگرمیاں انتہائی محدود اور غیر منظم دکھائی دیتی ہیں۔
ثقافتی حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر ادارہ اپنے صوبائی دفاتر کو مضبوط اور فعال نہ بنائے تو ایسی تقاریب کبھی بھی عوامی دلچسپی یا قومی معیار حاصل نہیں کر سکتیں۔
تقریب میں شریک شائقین نے طنزیہ انداز میں کہا کہ "اسلام آباد کے پی این سی اے میں تو باقاعدہ ڈنر دیا جاتا ہے، مگر لاہور والوں کو چائے پر گزارا کرنا پڑا"۔
کئی حاضرین کا کہنا تھا کہ یہ پروگرام دراصل صرف "دکھاوے کے لیے" تھا، جس میں زیادہ تر وہی افراد مدعو کیے گئے جو واہ واہ کرنے والے مخصوص چہرے سمجھے جاتے ہیں
اگر پی این سی اے کا تقابل لاہور آرٹس کونسل سے کیا جائے تو فرق واضح ہے۔ لاہور آرٹس کونسل نہ صرف باقاعدگی سے کل پاکستان موسیقی کانفرنس اور یادِ سلامت جیسے پروگرام منعقد کرتی ہے بلکہ ان ایونٹس میں منظم پلاننگ، فنکاروں کا درست انتخاب اور شائقین کے لیے سہولتیں فراہم کی جاتی ہیں۔
دوسری جانب پی این سی اے کا لاہور سیٹ اپ اس معیار پر پورا نہیں اترتا — نہ فنی سطح پر، نہ انتظامی لحاظ سے۔
کلاسیکی موسیقی کا مقصد فنکاروں اور ناظرین کے درمیان روحانی اور فنی ربط پیدا کرنا ہے، مگر اگر پروگراموں کو صرف رسمی کارروائی کے طور پر منعقد کیا جائے تو یہ روایت زوال پذیر ہو جاتی ہے۔
فاطمہ سلمان بطور ڈائریکٹر اگرچہ اپنی جگہ ایک تجربہ کار منتظم سمجھی جاتی ہیں، مگر اُن کے لیے ضروری ہے کہ لاہور میں پی این سی اے کی فعالیت کو ازسرِنو منظم کریں، پروفیشنل ٹیم تشکیل دیں، اور یہ تاثر ختم کریں کہ لاہور میں صرف دکھاوے کے پروگرام ہوتے ہیں۔
شاکر علی میوزیم میں منعقدہ کلاسیکل میوزیکل نائٹ نے ایک بار پھر یہ سوال اُٹھا دیا ہے کہ کیا پاکستان نیشنل کونسل آف دی آرٹس واقعی قومی سطح پر ثقافت کی نمائندگی کر رہا ہے یا صرف نمائشی تقریبات کا اہتمام کر رہا ہے؟
اگر پی این سی اے لاہور نے اپنی انتظامی سمت درست نہ کی تو شائقین، فنکار اور نقاد سب یہی کہیں گے کہ “یہ محفلیں بس کاغذی رہ گئیں، موسیقی کہیں پیچھے چھوٹ گئی۔”

دیگر کیٹیگریز: بلاگ
ٹیگز: