قومی ادارہ صحت نے ہیٹ ویو اور سن سٹروک سے بچاؤ کیلئے ایڈوائزری جاری کر دی
Stay tuned with 24 News HD Android App
(بابر شہزاد ترک) ملک بھر میں شدید گرمی کی لہر کے پیش نظر قومی ادارہ صحت نے ہیٹ ویو اور سن سٹروک سے بچاؤ کیلئے ایڈوائزری جاری کر دی ہے، شہریوں کو دوپہر کے اوقات میں دھوپ سے بچنے، زیادہ پانی پینے اور احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
قومی ادارہ صحت کی جانب سے جاری کردہ ایڈوائزری میں عوام، متعلقہ اداروں اور ہسپتالوں کو احتیاطی اقدامات مزید مؤثر بنانے کی ہدایت کی گئی ہے، قومی ادارہ صحت کے مطابق موسمیاتی تبدیلیوں اور گلوبل وارمنگ کے باعث پاکستان میں شدید گرمی کی لہروں کی شدت اور دورانیے میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے جس کے نتیجے میں ہیٹ سٹروک، پانی کی کمی اور گرمی سے متعلق دیگر بیماریوں کے خطرات بڑھ گئے ہیں۔
این آئی ایچ نے خبردار کیا ہے کہ ہر سال ہیٹ ویو کے اثرات زیادہ سنگین ہوتے جا رہے ہیں اور اگر بروقت احتیاطی تدابیر اختیار نہ کی گئیں تو بیماریوں اور اموات میں اضافہ ہو سکتا ہے، ادارے نے شہریوں کو براہ راست دھوپ میں جانے سے گریز کرنے، جسم میں پانی کی مناسب مقدار برقرار رکھنے اور زیادہ سے زیادہ سیال اشیاء استعمال کرنے کی ہدایت کی ہے۔
ایڈوائزری میں کہا گیا ہے کہ شدید گرمی کے دوران خاص طور پر دوپہر 11 بجے سے شام 4 بجے تک غیر ضروری طور پر باہر نکلنے سے اجتناب کیا جائے، عوام روزانہ کم از کم 3 سے 4 لیٹر پانی پئیں جبکہ نمکیات سے بھرپور غذا کا استعمال بھی مفید ثابت ہو سکتا ہے، قومی ادارہ صحت کے مطابق سر کو ڈھانپ کر رکھنا، ہلکے رنگ اور ڈھیلے کپڑے پہننا اور سایہ دار مقامات پر رہنا ہیٹ سٹروک سے بچاؤ میں اہم کردار ادا کرتا ہے، ایڈوائزری میں بزرگ افراد، بچوں، حاملہ خواتین، دائمی بیماریوں میں مبتلا افراد اور کھلے ماحول میں کام کرنے والے مزدوروں کو خصوصی احتیاط برتنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
این آئی ایچ نے واضح کیا کہ شدید گرمی میں جسم کا درجہ حرارت 106 ڈگری فارن ہائیٹ تک پہنچ سکتا ہے، جو جان لیوا ثابت ہو سکتا ہے، ادارے کے مطابق چکر آنا، متلی، الٹی، دھندلا نظر آنا، شدید کمزوری اور پسینہ بند ہو جانا ہیٹ سٹروک کی نمایاں علامات ہیں، ایڈوائزری میں کہا گیا ہے کہ اگر کسی شخص میں ہیٹ سٹروک کی علامات ظاہر ہوں تو اسے فوری طور پر سایہ دار یا ٹھنڈی جگہ منتقل کیا جائے، کپڑے ڈھیلے کیے جائیں اور جسم پر ٹھنڈے پانی کی پٹیاں یا اسپنج کیا جائے۔
ماہرین نے زور دیا ہے کہ ایسے مریض کو 10 سے 15 منٹ کے اندر طبی مرکز یا ہسپتال منتقل کرنا ضروری ہے کیونکہ تاخیر جان لیوا ثابت ہو سکتی ہے، قومی ادارہ صحت نے چائے اور کافی کے زیادہ استعمال سے بھی گریز کرنے کا مشورہ دیا ہے کیونکہ یہ جسم میں پانی کی کمی بڑھا سکتی ہیں۔ علاوہ ازیں تمام سرکاری و نجی ہسپتالوں کو ہیٹ سٹروک سینٹرز قائم کرنے اور ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے ضروری انتظامات مکمل رکھنے کی ہدایت بھی جاری کی گئی ہے، این آئی ایچ کا کہنا ہے کہ عوام احتیاطی تدابیر اختیار کرکے شدید گرمی اور سن سٹروک کے خطرات سے خود کو اور اپنے اہلِ خانہ کو محفوظ رکھ سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں : ملک بھر میں موسم گرم اور خشک، درجہ حرارت 50 ڈگری رہنے کا امکان