ایران کی آبنائے ہرمز کو نئے امریکہ حملہ کے جواب میں بند کرنے کی دھمکی

Jul 08, 2026 | 23:39:PM
 ایران کی آبنائے ہرمز کو نئے امریکہ حملہ کے جواب میں بند کرنے کی دھمکی
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(ویب ڈیسک) ایران اور امریکہ کے  ایک دوسرے پر حملوں کے بعد دونوں اطراف سے دھمکیوں کا سلسلہ جاری ہے۔   پاسدارانِ انقلاب کے ترجمان نے آبنائے ہرمز کے انتظام میں کسی بھی قسم کی مداخلت کو ناقابل قبول قرار دیدیا ہے اور ایرانی حکام نے واضح کیا ہے کہ ایران پر دوبارہ حملے ہوئے تو وہ آبنائے ہرمز کو ایک بار پھر بند کر دے گا۔

بدھ کے روز ایران کے نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے  امریکہ کے  صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ایران پر بدھ کی رات دوبارہ حملے کی دھمکیوں کے جواب میں انہیں قاتل "مجرم" قرار دیا۔

اس سے پہلے دن میں، ٹرمپ نے کہا تھا کہ تہران کے ساتھ ان کے ملک کی مفاہمت کی یادداشت "ختم ہو گئی ہے،" اور انہوں نے حملوں کا ایک اور دور شروع کرنے کی دھمکی دی۔ انہوں نے کہا کہ "ہم نے انہیں کل رات بہت زور سے مارا، شاید آج رات انہیں دوبارہ سخت مارا جائے۔"

اس کے جواب میں ایران کے نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے کہا کہ ٹرمپ کے ریمارکس "طاقت کی علامت نہیں بلکہ طاقت، پابندیوں اور دھمکیوں پر برسوں سے بنائی گئی پالیسی کی ناکامی کا اعتراف ہے، جو بالآخر ایرانی قوم کو گھٹنے ٹیکنے میں ناکام رہی۔"

یہ بھی پڑھیں:  آؤ ہم تمہارا انتظار کر رہے ہیں، ٹرمپ کی دھمکی پر ایران کا ردعمل 

ایران نے خبردار کیا ہے کہ اگر اس پر دوبارہ حملے کیے گئے تو آبنائے ہرمز بند کر دی جائے گی، جبکہ امریکی حملوں کے جواب میں بحرین اور کویت میں امریکی فوجی اڈوں سمیت 85 مقامات کو نشانہ بنانے کا دعویٰ بھی کیا ہے۔

اس سے پہلے ایرانی حکام نے تہرانی میں ایرانی میڈیا کو بتایا تھا کہ کویت میں دھماکوں اور سائرن کی اطلاعات ہیں، جبکہ بحرین میں واقع شیخ عیسیٰ ایئر بیس کو بھی نشانہ بنایا گیا۔

ایرانی وزارت خارجہ نے انتباہ کیا ہے کہ جس امریکی فوجی اڈے سے ایران پر حملہ کیا جائے گا، اسے بھی نشانہ بنایا جائے گا۔