قیمتی جواہرات سے بھرا بینک والٹ 100 سال بعدکھولنے کا فیصلہ
Stay tuned with 24 News HD Android App
(ویب ڈیسک) بنگلہ دیشی حکومت نے ایک صدی سے زائد عرصے سے بندخزانوں سے بھرے بینک والٹ کو کھولنے کا فیصلہ کرلیا ۔
یہ خزانہ 1908 میں ڈھاکا کے نواب خاندان نے مالی مشکلات کے باعث بینک میں بطور ضمانت رکھا تھا۔
عدالتی ریکارڈ کے مطابق اس خزانے میں 108 قیمتی نوادرات شامل تھے جن میں سونے اور چاندی کی ہیرے جڑی تلوار، قیمتی پتھروں سے مزین ٹوپی اور ایک نایاب بروچ شامل ہے جو ایک فرانسیسی ملکہ کے پاس بھی رہا تھا۔
نواب خاندان کے موجودہ وارث خواجہ نعیم مراد جو ایک وقت میں مقبول فلمی اداکار رہ چکے ہیں، آج بھی پرامید ہیں کہ خزانہ اپنی اصل حالت میں موجود ہے، ان کے مطابق دریائے نور ہیرے کی شکل مستطیل تھی جس کے گرد کئی چھوٹے ہیروں کی جڑت تھی اور یہ ہیرہ کوہِ نور کے ساتھ دنیا کے مشہور ترین ہیروں میں شمار ہوتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:چیٹ جی پی ٹی میں نیا فیچر ’’پیرنٹل کنٹرول‘‘ متعارف کرانے کا اعلان
یہ خزانہ نواب سلیم اللہ بہادر نے برطانوی دور میں رہن رکھا تھا، تاہم اس کے بعد سے کبھی اس کی تصدیق نہ ہوسکی کہ والٹ کھلا یا نہیں؟ بینک حکام کے مطابق اب تک صرف والٹ کا بیرونی دروازہ کھولا گیا مگر اصل تجوری کو نہیں چھیڑا گیا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ خزانہ اصل حالت میں ملا تو اس کی موجودہ قیمت اربوں ڈالر تک پہنچ سکتی ہے۔