انگلینڈ سے مزید 60 ہزار افراد ملک بدر کر دیئے گئے
Stay tuned with 24 News HD Android App
(ویب ڈیسک) انگلینڈ کی پاکستانی نژاد فیملی سے تعلق رکھنے والی وزیر داخلہ شبانہ محمود کی پالیسی کے تحت غیر قانونی تارکین وطن کے خلاف گھیرا مزید تنگ کر دیا گیاہے۔ انگلینڈ سے مزید 60 ہزار افراد ملک بدر کر دیئے گئے ہیں۔ اب تک نکالے گئے افراد کی تعداد ستاسی ہزار ہو گئی۔
انگلینڈ میں وزار داخلہ کے اداروں نے ڈنکی کے ذریعہ انگلینڈ میں گھسنےکے سلسلے کو روکنے کے لیے فرانس کے ساتھ مل کر برطانیہ میں کئی کاروائیاں کیں اور انسانوں کو انگلینڈ میں سمگل کرنے والی ہیومن سمگلروں کے لیے زمین تنگ کر دی ۔، غیر قانونی تارکین وطن کے لیے اب انگلینڈ میں چھپنا مشکل ہو گیا۔
انگلینڈ کے ہوم آفس (وزارتِ داخلہ)نے بتایا ہے کہ 2024 کے انتخابات کے بعد سے 60,000 غیر قانونی امیگرنٹس کو انگلینڈ سے نکالا جا چکا ہے۔
ہوم آفس کے مطابق 43,000 غیر قانونی تارکین وطن نے قانونی حکم کے بعد خود انگلینڈ سے واپسی اختیار کی، پندرہ ہزار سے زیادہ کو انگلینڈ کے اداروں نے پکڑ کر انگلینڈ سے نکالا۔ غیر ملکی مجرموں کی بے دخلی میں 32 فی صد اضافہ ہو گیا ہے، ملا جلا کر 8,700 سے زائد افراد ملک بدر کیے گئے۔
یہ بھی پڑھیئے: ٹی 20 ورلڈکپ: فہیم اشرف نے بازی پلٹ دی ،پاکستان کی سنسنی خیز مقابلے میں نیدرلینڈ کو شکست
انگلینڈ کی ہوم سیکریٹری شبانہ محمود نے بغیر قانونی طور پر گھسنے والوں کی بے دخلیاں بڑھانے کا عزم ظاہر کیا ہے۔ دوسری طرف سمندر کے راستے سے برطانیہ میں 65,000 سے زائد غیر قانونی تارکین وطن ملک میں داخل ہو چکے ہیں۔ جب کہ حکومت غیر قانونی تارکین وطن کو انسانی حقوق کی بنیاد پر اپیلیں روکنے کے بل پر بھی کام کر رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیئے: کل کے سانحہ نے سب کو ہلا کر رکھ دیا، صبح 3 بجے تک بھارتی سپانسرڈ داعشی نیٹ ورک کو ادھیڑ دیا