افغان طالبان رجیم میں معاشی بحران عروج پر، سرمایہ کار خوفزدہ، اقوام متحدہ کی رپورٹ جاری

Feb 07, 2026 | 09:31:AM
افغان طالبان رجیم میں معاشی بحران عروج پر، سرمایہ کار خوفزدہ، اقوام متحدہ کی رپورٹ جاری
کیپشن: فائل فوٹو
سورس: گوگل
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(24نیوز)افغان طالبان رجیم میں معاشی بحران عروج پر پہنچ گیا،افغان طالبان رجیم کےمستحکم معیشت و سرمایہ کاری کے غیر حقیقی دعوے دھرے کے دھرے رہ گئے، اقوامِ متحدہ نے حقیقت فاش کر دی۔

اقوامِ متحدہ کے ترقیاتی پروگرام ازہ ترین رپورٹ کے مطابق افغانستان کی معیشت شدید بحران کا شکار ہو چکی ہے اور طالبان رجیم کی انتہا پسندانہ پالیسیوں نے سرمایہ کاری، مالیاتی نظام اور عوامی فلاح کو بری طرح متاثر کیا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ طالبان حکومت کی ترجیحات معاشی اصلاحات کے بجائے دہشت گرد گروہوں کی حمایت اور سرپرستی پر مرکوز ہیں، جس کے باعث ملکی معیشت تباہی کے دہانے پر پہنچ چکی ہے۔ ان پالیسیوں نے سرمایہ کاروں کے اعتماد کو شدید نقصان پہنچایا ہے اور ملک میں سرمایہ کاری میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔

یو این ڈی پی کے مطابق طالبان رجیم کے مستحکم معیشت اور سرمایہ کاری سے متعلق دعوے غیر حقیقی ثابت ہوئے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:عازمینِ حج کیلئے اہم اطلاع، سعودی ویزہ بائیو میٹرک کے آخری 2 دن باقی

رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ شفاف مالی نظام نہ ہونے کے باعث سالانہ تقریباً 5 ارب ڈالر غیر قانونی طور پر ہوالہ ہنڈی کے ذریعے منتقل ہو رہے ہیں، جو ریاستی کنٹرول اور ریگولیٹری نظام کی ناکامی کی عکاسی کرتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق افغانستان میں بینکنگ سہولیات انتہائی محدود ہو چکی ہیں اور صرف 6 فیصد آبادی کے پاس بینک اکاؤنٹ موجود ہے، جس سے مالی شمولیت تقریباً ختم ہو کر رہ گئی ہے۔ معاشی بدحالی اور غیر یقینی صورتحال کے باعث 16 لاکھ سے زائد شہری ملک چھوڑ چکے ہیں، جس سے برین ڈرین میں خطرناک حد تک اضافہ ہوا ہے۔