آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی سے ہزاروں جہاز پھنس گئے، عالمی تجارت شدید متاثر

Apr 07, 2026 | 09:07:AM
آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی سے ہزاروں جہاز پھنس گئے، عالمی تجارت شدید متاثر
کیپشن: فائل فوٹو
سورس: گوگل
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

( ویب ڈیسک )آبنائے ہرمز میں بڑھتی ہوئی کشیدگی نے عالمی بحری تجارت کو شدید متاثر کر دیا ہے، جہاں ناکہ بندی کے باعث اس وقت تقریباً 2 ہزار بحری جہاز مختلف مقامات پر رُکے ہوئے ہیں۔

بین الاقوامی بحری ادارے بین الاقوامی میری ٹائم آرگنائزیشن کے مطابق 28 فروری سے یکم اپریل کے دوران خلیج فارس، آبنائے ہرمز اور گلف آف عمان کے اطراف 20 سے زائد جہازوں پر حملے رپورٹ ہوئے جن میں کم از کم 10 افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے، ان واقعات کے بعد بحری راستے کو محفوظ تصور نہیں کیا جا رہا۔

 رپورٹ کے مطابق موجودہ صورتحال میں تقریباً 400 جہاز خلیج عمان میں پھنسے ہوئے ہیں جبکہ دیگر بحری جہازوں کو متبادل راستوں پر منتقل کیا جا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:بارش نے موسم بدل دیا، مزید بادل برسنے کی پیشگوئی

 کئی جہازوں کو سوئز کینال کی طرف موڑا جا رہا ہے جبکہ کچھ کو طویل سفر اختیار کرتے ہوئے کیپ آف گُڈ ہوپ کے بحری راستے سے ایشیا اور یورپ کے درمیان سامان کی ترسیل کرنا پڑ رہی ہے جس سے لاگت اور وقت دونوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔

 دوسری جانب عسکری ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ امریکا ایران کی بحری صلاحیت کو محدود قرار دیتا ہے تاہم ایرانی بحریہ کی چھوٹی آبدوزیں مڈگیٹ سب میرینز اب بھی خطرہ بنی ہوئی ہیں جو اس اہم گزرگاہ کے استعمال کو مزید پیچیدہ بنا رہی ہیں۔

علاقائی کشیدگی میں اضافے کے بعد سعودی عرب نے بھی آبنائے ہرمز پر انحصار کم کرتے ہوئے بحیرہ احمر کے راستے تیل کی ترسیل شروع کر دی ہے۔

ایرانی میڈیا کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ایران کی اجازت سے صرف 15 جہاز آبنائے ہرمز سے گزر سکے جو کہ جنگ سے پہلے کے معمولات کے مقابلے میں تقریباً 90 فیصد کم ہے۔