موبائل فونز سے پی ٹی اے ٹیکس ختم کیا جائے، علی قاسم گیلانی کا قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کو خط

Nov 06, 2025 | 13:18:PM
موبائل فونز سے پی ٹی اے ٹیکس ختم کیا جائے، علی قاسم گیلانی کا قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کو خط
کیپشن: فائل فوٹو
سورس: گوگل
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(ویب ڈیسک)قومی اسمبلی کے رکن سید علی قاسم گیلانی نے قائمہ کمیٹی برائے خزانہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ موبائل فونز پر عائد کئے گئے غیر معمولی بلند ٹیکسوں کا فوری جائزہ لے۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ ٹیکس نظام لاکھوں پاکستانیوں کے لیے ڈیجیٹل سہولتوں تک رسائی میں رکاوٹ بن رہا ہے اور ملک کی ٹیکنالوجی کی ترقی کی رفتار کو سست کر رہا ہے۔ 

میڈیا رپورٹس کے مطابق کمیٹی کے ارکان کو ارسال کئے گئے ایک خط میں سید علی قاسم گیلانی نے کہا کہ اسمارٹ فون اب تعلیم، کاروبار اور سرکاری و مالیاتی خدمات تک رسائی کیلئے ناگزیر ہو چکے ہیں،ان کے مطابق فیڈرل بورڈ آف ریونیو اور پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کی جانب سے عائد کئے گئے درآمدی ڈیوٹی، سیلز ٹیکس اور رجسٹریشن فیس کی بلند شرحیں عام شہریوں کی پہنچ سے باہر ہو چکی ہیں۔

سید علی قاسم گیلانی نے بتایا کہ 500 امریکی ڈالر سے زائد مالیت والے موبائل فونز پر اب 25 فیصد سیلز ٹیکس کے علاوہ 18 فیصد جنرل سیلز ٹیکس بھی وصول کیا جا رہا ہے۔ مقامی طور پر تیار اور درآمد شدہ فونز پر مزید ٹیکس بھی عائد کیے جاتے ہیں، جن میں ڈیوائس آئیڈنٹیفکیشن رجسٹریشن اینڈ بلاکنگ سسٹم کے تحت وصول کی جانے والی فیسیں بھی شامل ہیں،یہ تمام اخراجات مجموعی طور پر صارفین، خاص طور پر کم آمدنی والے اور پہلی بار اسمارٹ فون خریدنے والوں کے لیے بڑی رکاوٹ بن رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: کیا 10 لاکھ فی تولہ سونا بکے گا؟اہم خبر جانیے

انہوں نے کہا کہ اب موبائل فونز کوئی عیش و عشرت کی چیز نہیں رہے بلکہ معاشی اور سماجی شمولیت کے بنیادی ذرائع ہیں۔سید علی قاسم گیلانی کے مطابق ٹیکسوں کا یہ بوجھ ڈیجیٹل شمولیت کی کوششوں کو نقصان پہنچا رہا ہے، کاروبار کے اخراجات میں اضافہ کر رہا ہے اور ملک کے بڑھتے ہوئے آن لائن سروس سیکٹر کی صلاحیت کو محدود کر رہا ہے،ان کا کہنا تھا کہ یہ پالیسیاں اختراعات کی رفتار کم کر سکتی ہیں اور پاکستان کی عالمی ڈیجیٹل معیشت میں مسابقت کو کمزور کر سکتی ہیں۔

انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ ایک متوازن پالیسی اپنائی جائے جو ایک طرف قومی ریونیو کو یقینی بنائے اور دوسری جانب اسمارٹ فونز کی سستی فراہمی اور ٹیکنالوجی کے فروغ کو ممکن بنائے۔ سید علی قاسم گیلانی نے کمیٹی سے درخواست کی کہ وہ اپنے مالیاتی اصلاحات کے دائرہ کار کے تحت اس مسئلے کا فوری جائزہ لے۔