نیوکلیئر ٹیسٹ کے امریکی اعلان پر روس کا سخت ردِعمل، جوابی تیاریوں کا آغاز

Nov 06, 2025 | 09:43:AM
 نیوکلیئر ٹیسٹ کے امریکی اعلان پر روس کا سخت ردِعمل، جوابی تیاریوں کا آغاز
کیپشن: فائل فوٹو
سورس: گوگل
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(24نیوز)صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی محکمۂ دفاع کو فوری طور پر نیوکلیئر ہتھیاروں کی ٹیسٹنگ دوبارہ شروع کرنے کی ہدایت دی ہے، جس پر روس نے بھی جوابی اقدامات کی تیاری شروع کر دی ہے۔

غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق روسی صدر ولادیمیر پوتن  نے اعلیٰ حکام کو ممکنہ جوہری ہتھیاروں کے تجربات کے لیے تجاویز کا مسودہ تیار کرنے کاحکم دیا گیا ہے۔

روسی صدر پوتن نے خبردار کیا ہے کہ امریکی صدر ٹرمپ کی دھمکی کے بعد روس دوبارہ جوہری تجربات شروع کر سکتا ہے۔

یہ بات واضح رہے کہ   ماسکو نے 1991 میں سوویت یونین کے خاتمے کے بعد سے جوہری تجربات نہیں کئے ہیں،21ویں صدی میں شمالی کوریا کے علاوہ کسی ملک نے ایٹمی ہتھیاروں کے دھماکہ خیز تجربات نہیں کیے۔

روسی وزیر دفاع آندرے بیلوسوف  کا کہناہے کہ امریکہ کے حالیہ ریمارکس اور اقدامات کا مطلب یہ ہے کہ "مکمل پیمانے پر جوہری تجربات کے لیے فوری طور پر تیار رہنا مناسب ہے"۔

انہوں نے کہا کہ   روس آرکٹک ٹیسٹنگ سائٹ میں  مختصر نوٹس پر اس طرح کے ٹیسٹ سرانجام دے سکتاہے۔

امریکی میڈیا کے مطابق یہ فیصلہ گزشتہ تین دہائیوں میں پہلی بار لیا گیا ہے، جبکہ امریکی حکام نے وضاحت سے گریز کرتے ہوئے کہا ہے کہ ابتدائی طور پر ’غیر نیوکلیئر دھماکے‘ کیے جا سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:ڈیجیٹل بینکوں کا بڑا اقدام، کارپوریٹ اکاؤنٹ ایک ہی دن میں فعال کرنے کا فیصلہ

تاہم صدر ٹرمپ کے بیان نے اس معاملے کو مزید غیر واضح بنا دیا ہے، کیونکہ انہوں نے کہا کہ جلد سب کو معلوم ہو جائے گا۔

ماہرین کے مطابق امریکا کا واحد قابلِ استعمال ٹیسٹ مقام نیواڈا نیوکلیئر ٹیسٹ سائٹ ہے، جسے دوبارہ فعال کرنے میں کم از کم 2 سال لگ سکتے ہیں، دوسری جانب روس نے نووایا زملیا سمیت اپنے مرکزی ٹیسٹ مراکز کو تیار حالت میں رکھنے کا عندیہ دیا ہے۔

یہ پیشرفت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب امریکہ اور روس کے درمیان اسٹریٹیجک ہتھیاروں کے کنٹرول پر اعتماد کی فضا مسلسل کمزور ہو رہی ہے۔

ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر دونوں ممالک نے ٹیسٹنگ دوبارہ شروع کر دی تو عالمی سطح پر جوہری عدم پھیلاؤ کے نظام کو شدید نقصان پہنچے گا۔

یاد رہے کہ امریکا نے آخری بار 1992 میں نیوکلیئر ٹیسٹ کیے تھے جبکہ روس نے 1990 میں اپنے تجربات ختم کیے تھے۔