مذاکرات کی بات تب کی جاتی ہے جب پی ٹی آئی کی تحریک مومنٹم پکڑتی ہے؛شفیع جان

Jan 06, 2026 | 19:09:PM
 مذاکرات کی بات تب کی جاتی ہے جب پی ٹی آئی کی تحریک مومنٹم پکڑتی ہے؛شفیع جان
کیپشن: فائل فوٹو
سورس: گوگل
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

 (ارشاد قریشی) پاکستان تحریک انصاف(پی ٹی آئی) رہنما و ترجمان خیبر پختونخوا حکومت شفیع جان نے کہا ہے کہ  مذاکرات کی بات تب کی جاتی ہے جب پی ٹی آئی کی تحریک مومنٹم پکڑتی ہے، مذاکرات کے لیے اعتماد کی فضا ضروری ہے، ذمہ داری حکومت پر زیادہ ہے۔ 
 شفیع جان نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ عدالتی احکامات کے مطابق آج بانی پی ٹی آئی عمران خان کی فیملی اور وکلا سے ملاقات کا دن ہے،4 دسمبر کے بعد بانی پی ٹی آئی کی فیملی سے کوئی ملاقات نہیں ہوئی،وکلا سے آخری ملاقات 16 اکتوبر کو ہوئی، جو ان کا بنیادی حق ہے،

انہوں نے کہا کہ  توشہ خانہ ٹو کا فیصلہ عدالتی عمل پر سوالیہ نشان ہے،59 صفحات کا فیصلہ جونیئر وکیل کے ذریعے سنانا دنیا کے لیے تماشا ہے۔ 

 ترجمان کا کہنا تھا کہ مذاکرات کی بات تب کی جاتی ہے،لاہور میں پی ٹی آئی کی سرگرمیوں پر کرفیو جیسی صورتحال پیدا کی گئی، لنڈا بازار میں دکانیں بند کر کے 80 افراد پر مقدمات بنائے گئے، ہمیں آزادانہ سیاسی سرگرمیوں کی اجازت نہیں دی گئی،کراچی میں سندھ حکومت کا رویہ خوش آئند اور ویلکم کرنے والا ہے، سندھ میں آئینی اور قانونی حق کے تحت سیاسی سرگرمیاں کریں گے۔ 

 صحافی کو جواب دیتے ہوئے شفیع جان کا کہنا تھا کہ رانا ثنا اللہ کی مذاکرات سے متعلق بیان مذاق کے مترادف ہے، پانچ بڑوں میں واحد حقیقی مینڈیٹ بانی پی ٹی آئی کے پاس ہے،پی ٹی آئی بانی پی ٹی آئی کی قیادت میں ایک مضبوط قوت ہے۔ 

ان کا مزید کہنا تھا کہ  مذاکرات کے لیے اعتماد کی فضا ضروری ہے، ذمہ داری حکومت پر زیادہ ہے، نواز شریف اور شہباز شریف بااختیار نہیں،اسٹیبلشمنٹ کے تابع ہیں،احتجاج سے روکنے کے لیے 9 مئی کے مقدمات بطور دباؤ استعمال ہو رہے ہیں، 9 مئی کے کیسز ایک فالز فلیگ آپریشن ثابت ہوتے جا رہے ہیں۔ 

یہ بھی پڑھیں: مملکت سعودی عرب کا امن و استحکام امت مسلمہ کے امن کی  ضمانت ہے؛مولانا فضل الرحمان