لاہور میں اب تک سب سے اونچی عمارت کی تعمیر کے لئے دنیا کے ٹاپ کلاس آرکیٹیکچر آگے آ گئے
Stay tuned with 24 News HD Android App
(وقاص عظیم) لاہور میں اب تک سب سے اونچی عمارت کی تعمیر کے لئے دنیا کے ٹاپ کلاس آرکیٹیکچر آگے آ گئے۔ یہ عمارت سنٹرل بزنس ڈسٹرکٹ میں تعمیر کی جا رہی ہے۔
آرکیٹیکچرز کا کہنا ہے کہ ان کی شروع کی ہوئی عمارت کے پچاس فلور ہوں گے۔ یہ عمارت لاہور شہر کے جدید بزنس ڈسٹرکٹ میں پہلی سکائی سکریپر بلڈنگ ہو گی۔ سنٹرل بزنس ڈسٹرکٹ ٹاور لاہور جدید ترین انجینئیرنگ کا شاہکار ہوگی۔ عمارت کی تعمیر کے معاہدہ پر آج دستخط ہوئے۔
لاہور کے سنٹرل بزنس ڈسٹرکٹ میں پہلی بلند ترین عمارت گلبرگ کے مرکزی داخلی راستے پر سی بی ڈی کے پلاٹ نمبر 1 پر تعمیر ہوگی۔ اس لئے اسے 1 سی بی ڈی ٹاور کا نام دیا جا رہا ہے۔
یہ دراصل لاہور میں جدید تعمیراتی انجینئیرنگ کو کاروبار اور رہائش کے لئے عمارات کی تعمیر میں بروئے کار لانے کے پہلے سے جاری سلسلہ کی نئی کڑی ہے۔ اس سے پہلے ارفع کریم ٹاور شہر کے مرکز فیروز پور روڈ پر بنا جو کامیابی سے سینکڑوں کاروباری اداروں کو باسہولت کاروبار کے لئے بہتری نماحول فراہم کر رہا ہے۔ اب سی بی ڈی ک یشکل میں اس سے ایک قدم آگے زیادہ با سہولت ماحول کی فراہمی کا آغاز ہو رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیئے: دہشتگرد حملےکاسوگ؛ لبرٹی لاہور میں بسنت میگا شو منسوخ، سی ایم مریم نواز نے تمام بسنت مصروفیات چھوڑ دیں
ون سی بی ڈی ٹاور لاہور کی سب سے بلند ترین عمارت ہوگی ، کاروباری حلقوں میں کہا جا رہا ہے کہ اس 50 فلورز کی عمارت کے مکمل ہونے سے پہلے ہی اس سے بھی زیادہ اونچی عمارتوں کی تعمیر کا آغاز ہو جائے گا۔
ون سنٹرل بزنس ڈسٹرکٹ ٹاور کو پاکستان کارپوریٹ کنسورشیم ریئٹ فنڈ اس کمرشل بلڈنگ کو تعمیر کر رہا ہے جس میں لیک سٹی ہولڈنگز کے ساتھ چھ بڑے بزنس گروپ شامل ہیں ۔ جن میں عارف حبیب ، فاطمہ گروپ ، دین گروپ ، ہلٹن فرما ، یو ایس اپیرل گروپ اور سورتی گروپ شامل ہیں۔
ون سنٹرل بزنس ڈسٹرکٹ ٹاور کی تعمیر کے معاہدے پر لیک سٹی ہولڈنگز نے دنیا کے نمبر ون آرکیٹیکٹچر کے ساتھ معاہدے پر دستخط کئے ہیں۔ معاہدے پر دستخط کی تقریب میں سابق نگراں وفاقی وزیر گوہر اعجاز اور چیف سیکرٹری پنجاب بھی موجود تھے۔
یہ بھی پڑھیں : لاکھوں پتنگ باز چھتوں پر، لاکھوں "لٹیرے" سڑکوں پر؛ لاہور میں بسنت کے پہلے دن سیفٹی اور سکیورٹی کی مثالی صورتحال