آیت اللہ خامنہ ای کا حجاب پر تنقیدکرنے والوں کو دلیل کیساتھ کرارا جواب

Dec 06, 2025 | 18:06:PM
 آیت اللہ خامنہ ای کا حجاب پر تنقیدکرنے والوں کو دلیل کیساتھ کرارا جواب
کیپشن: فائل فوٹو
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(ویب ڈیسک) جمہوری اسلامی ایران کے سپریم رہنما آیت اللہ خامنہ ای نے حجاب پر تنقیدکرنے والوں دلیل کیساتھ کرارا جواب دیتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ مغرب کے سرمایہ دارانہ نظام نے خواتین کی عزت وحرمت و وقار کو نقصان پہنچایا ہے۔ مغربی دنیا نے خواتین کا استحصال کیا ہے۔انہوں نے مغربی سرمایہ داری کو خواتین کو اشیاء کی طرح دیکھنے اور ان کی عزت پامال کرنے کا ذمہ دار قرار بھی دیا۔

غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایرانی پارلیمان نے حجاب کے قانون کو نافذ کرنے میں ناکامی پرعدالیہ کو سخت و سست کہا ہے۔ اس کے بعد، ایران کے سپریم رہنما آیت اللہ خامنہ ای نے بھی سوشل میڈیا پر کئے پوسٹ کیے ۔انھوں ان پوسٹس میں حجاب،معاشرتی زندگی میں اس کی اہمیت اور مغرب کے خواتین کے تعلق سے رویے پرتبصرہ کیا ہے۔سوشل میڈیا ایکس پر پوسٹ میں آیت اللہ خامنہ ای نے  حجاب کے تعلق سے ایرانی معاشرے میں خواتین کے حقوق کے اسلامی نظریے کو پیش کیا۔جس میں حجاب کے لزوم ، جنس کی علیحدگی اور خلاف ورزی پر سخت سزائیں شامل ہیں۔ انہوں نے مغربی سرمایہ داری کو خواتین کو اشیاء کی طرح دیکھنے اور ان کی عزت پامال کرنے کا ذمہ دار قرار بھی دیا۔انھوں نے پوسٹ میں مزید لکھا ہے کہ خاتون کی عزت،وقار اورسلامتی کا تحفظ ان کا بنیادی حق ہے اور ان کی حرمت کی حفاظت کی جانی چاہیے۔

انھوں نے لازمی حجاب کے اصولوں کی حمایت کرتے ہوئے لکھا کہ خواتین پھول کی مانند ہوتی ہیں ان کی حفاظت کرنا ضروری ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ خواتین گھر کی منتظم ہیں، خادمہ نہیں، اور پھول کا خیال رکھا جائے تو وہ اپنے رنگ، خوشبو اور خصوصیات سے خاندان کو مالا مال کرے گا۔انھوں نے اپنی باتیں پُراثرانداز میں رکھنے کے لیے  قرآن سے حوالے بھی دیئےتاکہ یہ واضح کیا جا سکے کہ اسلام خواتین کو بلند مقام دیتا ہے۔انہوں نے مغرب پر خواتین کی عزت و حرمت کو پامال کرنے کا الزام عائد کیا ۔ایران کے سپریم رہنما نے لکھا کہ مغربی دنیا میں خواتین کا استحصال کیا جارہا ہے۔انھیں ایک جیسے کام کے لیے مردوں سے کم تنخواہ دی جاتی ہے۔

آیت اللہ خامنہ‌ ای نے امریکی معاشرے میں خاندانی تنانے بانے کی تنزلی اور بچوں کی پرورش میں ناکامی کو سرمایہ داری کا نتیجہ قرار دیا۔ انھوں نے لکھا کہ ’آزادی‘ کے نام پر والدین کے بغیربچے،خاندانی ڈھانچے کازوال ، نوجوان لڑکیوں کا شکار کرتے گینگس اور جنسی بے راہ روی عام ہے۔

 اگرچہ ایرانی رہنما نے سوشل میڈیا پوسٹ میں مغرب اور مغربی معاشرے میں خواتین کی حالت پر تنقید کی ہے، عالمی انسانی حقوق تنظیمیں ، ایران کو خواتین کے حقوق کے پیمانے پر پیچھے قرار دیتی ہیں۔واضح رہے کہ  2024 میں پارلیمان میں حجاب سے متعلق نیا بل منظور کیا گیا تھا ۔نئے قانون کی رو سے ایران میں عوامی مقامات پر خواتین کے لیے اسکارف پہننا لاز می ہے ۔قانون کی خلاف ورزی کرنے جرمانہ عائد کیا جاسکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:بچہ مین ہول میں گر کر جاں بحق, مریم نواز کا ڈی سی کو عہدے سے ہٹانے کا حکم