پاکستان سمیت 8 مسلم ممالک کا رفح کراسنگ یکطرفہ کھولنے کے اسرائیلی بیانات پر اظہار تشویش

Dec 06, 2025 | 00:58:AM
 پاکستان سمیت 8 مسلم ممالک کا رفح کراسنگ یکطرفہ کھولنے کے اسرائیلی بیانات پر اظہار تشویش
کیپشن: فائل فوٹو
سورس: گوگل
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(انور عباس) پاکستان سمیت 8 مسلم ممالک کے وزرائے خارجہ کے مشترکہ بیان میں رفح کراسنگ یکطرفہ کھولنے کے اسرائیلی بیانات پر تشویش ظاہر کی گئی ہے۔

 ترجمان دفتر خارجہ طاہر حسین اندرابی کے مطابق اس گروپ میں پاکستان، مصر، اردن، متحدہ عرب امارات، انڈونیشیا، ترکیہ، سعودی عرب اور قطر کے وزرائے خارجہ شامل ہیں۔

ترجمان کے مطابق وزرائے خارجہ نے رفاہ کراسنگ کو یکطرفہ طور پر کھولنے اور غزہ کے رہائشیوں کو مصر منتقل کرنے کے مقصد سے متعلق اسرائیلی بیانات کو انتہائی تشویشناک قرار دیا،وزرائے خارجہ نے فلسطینی عوام کو اپنی سرزمین سے بے دخل کرنے کی کسی بھی کوشش کو مکمل طور پر مسترد کر دیا۔

ترجمان دفتر خارجہ نے بتایا کہ وزرائے خارجہ نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے تجویز کردہ امن منصوبے پر مکمل عمل درآمد کی ضرورت پر زور دیا، جس کے مطابق رفاہ کراسنگ کو دونوں سمتوں میں کھلا رکھنا، آمد و رفت کی آزادی یقینی بنانا اور غزہ کے کسی بھی شہری کو وہاں سے جانے پر مجبور نہ کرنا شامل ہے۔ طاہر حسین اندرابی نے کہا کہ یہ شرائط خطے میں امن و استحکام کے لیے بنیادی اہمیت رکھتی ہیں۔

طاہر حسین اندرابی کے مطابق وزرائے خارجہ نے فلسطینیوں کے لیے موزوں حالات پیدا کرنے، انہیں اپنی سرزمین پر رہنے، اپنے وطن کی تعمیر میں حصہ لینے اور انسانی صورتحال میں بہتری کے لیے فوری اقدامات کا مطالبہ کیا۔ اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے جنگ بندی کے تسلسل، شہریوں کی تکالیف میں کمی، غزہ میں انسانی امداد کے بلا تعطل داخلے، اور جلد از جلد بحالی و تعمیرِ نو کے آغاز پر بھی زور دیا۔

ترجمان نے مزید کہا کہ وزرائے خارجہ نے صدر ٹرمپ کی امن کے لیے وابستگی کو سراہا اور "ٹرمپ پلان" پر بلا تاخیر مکمل عمل درآمد کے مطالبے کو دہرایا تاکہ خطے میں سیکیورٹی، امن اور علاقائی استحکام کو مضبوط بنایا جاسکے۔

فلسطینی اتھارٹی کی غزہ میں ذمہ داریوں کی بحالی کے لیے بھی مناسب حالات پیدا کرنے کی ضرورت پر زور دیا گیا تاکہ خطے میں استحکام کے ایک نئے دور کی بنیاد رکھی جاسکے۔

وزرائے خارجہ نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ان کے ممالک امریکہ سمیت تمام متعلقہ علاقائی و عالمی فریقین کے ساتھ تعاون جاری رکھیں گے تاکہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 2803 اور دیگر متعلقہ قراردادوں پر مکمل عمل درآمد یقینی بنایا جا سکے۔

ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق وزرائے خارجہ نے عالمی قوانین، دو ریاستی حل اور منصفانہ، جامع اور پائیدار امن کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے 4 جون 1967 کی سرحدوں کے مطابق ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کے عزم کا اعادہ کیا، جس کا دارالحکومت مشرقی یروشلم ہو اور جو غزہ اور مغربی کنارے کے علاقوں پر مشتمل ہو۔