داعش ،ٹی ٹی پی اور القاعدہ افغان عبوری حکومت کے ساتھ کام کر رہی ہیں،یو این ایم ٹی کی رپورٹ

Aug 06, 2025 | 22:19:PM
داعش ،ٹی ٹی پی اور القاعدہ افغان عبوری حکومت کے ساتھ کام کر رہی ہیں،یو این ایم ٹی کی رپورٹ
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(منصور احمد)اقوام متحدہ کے ادارے یو این ایم ٹی کی جانب سے جاری کردہ رپورٹ میں بتایا گیا ہےکہ کالعدم تنظیمیں داعش ،ٹی ٹی پی اور القاعدہ افغان عبوری حکومت کے ساتھ کام کر رہی ہیں،افغانستان میں کالعدم دہشت گرد گروپس کی محفوظ پناہ گاہیں موجود ہیں،ٹی ٹی پی ،داعش  القاعدہ ، سی ٹی آئی ایم اور ٹی آئی پی افغان عبوری حکومت کی مدد سے سرگرم ہیں۔

تفصیلات کے مطابق دہشتگردی کے حوالے سے اقوام متحدہ کی 36 ویں رپورٹ جاری کر دی گئی ہے،رپورٹ اقوام متحدہ کے ادارے یو این ایم ٹی کی جانب سے جاری کی گئی ہے ،رپورٹ میں افغانستان میں سرگرم دہشت گرد گروپوں کا ذکر کیا گیا ہے ،رپورٹ  میں کہا گیا ہے کہ کالعدم تنظیمیں داعش ،ٹی ٹی پی اور القاعدہ افغان عبوری حکومت کے ساتھ کام کر رہی ہیں، دہشتگرد گروپس کی افغانستان میں موجودگی کی بناء پر علاقائی اور عالمی صورتحال کے تناظر میں پاکستان کی تشویش کا ذکر بھی نمایاں ،افغانستان میں کالعدم دہشت گرد گروپس کی محفوظ پناہ گاہیں موجود ہیں ،ٹی ٹی پی ،داعش  القاعدہ ، سی ٹی آئی ایم اور ٹی آئی پی افغان عبوری حکومت کی مدد سے سرگرم ہیں،پاکستان طویل عرصہ سے اس حوالے سے اپنے خدشات کا اظہار کرتا آیا ہے ، ٹی ٹی پی کے پاس 6 ہزار جنگجو ہیں اور انھیں افغان حکام کی لاجسٹک اور آپریشنل مدد حاصل ہے ،ٹی ٹی پی کو خطرناک ترین ہتھیاروں تک بھی رسائی حاصل ہے ،ٹی ٹی پی کے داعش خراسان کے ساتھ بھی روابط موجود ہیں،اصل میں یہ دونوں گروپ ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں،

رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہےکہ جنوبی افغانستان میں بی ایل اے اور ٹی ٹی پی کا قریبی گٹھ جوڑ ہے،یہ ولی کوٹ ،شرابیت سمیت 4 تربیتی کیمپ مشترکہ چلاتے ہیں ،القاعدہ انھیں نظریاتی اور ہتھیاروں کی تربیت دیتی ہے ، آئی ایس کے پی کے پاس افغانستان میں 2 ہزار جنگجو ہیں ، یہ جنگجو بھی افغان دھڑوں سے حمایت لیتے ہیں ،رپورٹ میں افغانستان میں القاعدہ کی موجودگی اور اسکے دوسرے دہشتگرد گروپس کے تعلق کا بھی بتایا گیا ہے ،اے کیو آئی ایس افغان صوبے غزنی, ہلمند، قندھار ، کنڑ ،ارضغان اور زابل میں موجود ہیں ۔

رپورٹ میں کہا گیا ہےکہ افغان عبوری حکومت کو چاہئیے کہ وہ اس رپورٹ میں اٹھائے گئے خدشات پر ایکشن لے اور دوحہ معاہدے کے تحت اپنی زمہ داریاں پوری کرے۔افغان عبوری حکومت کسی بھی دوسرے ملک کے خلاف اپنی سر زمین استعمال نہ ہونے دے،پاکستان افغانستان سے ہونیوالی دہشت گردی کا خصوصی طور پر شکار ہے ،افغان عبوری حکومت ٹی ٹی پی، بی ایل اے اور دیگر دہشتگرد گروپس کے خلاف کارروائی کرے۔

یہ بھی پڑھیں:ریتا نہ شوہر کی رہی اور نہ ہی عاشق کی۔۔ چچازاد دیور بھارتی خاتون سے زیادتی کرکے فرار