پاکستان اور بھارت کے درمیان سر کریک تنازع کی حقیقت کیا ہے؟
Stay tuned with 24 News HD Android App
(ویب ڈیسک)بھارت کے وزیرِ دفاع راج ناتھ سنگھ کے حالیہ بیان نے ایک بار پھر جنوبی ایشیا کے امن کو خطرے میں ڈال دیا ہے، جمعرات کو ایک عوامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے راج ناتھ سنگھ نے دعویٰ کیا کہ پاکستان نے سر کریک کے قریب فوجی ڈھانچے کی توسیع کی ہے اور خبردار کیا کہ اگر کسی قسم کی "مہم جوئی" ہوئی تو بھارت ایسا فیصلہ کن ردعمل دے گا جس سے "تاریخ اور جغرافیہ بدل جائے گا۔"
بھارتی عسکری قیادت نے اس موقع پر “آپریشن سندور 2.0” کی بھی دھمکی دی، جس کے بعد خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی، بھارتی بیانات پر پاکستان کی جانب سے فوری ردعمل سامنے آیا۔
پاک فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے ہفتے کو میڈیا سے گفتگو میں ان بیانات کو "اشتعال انگیز اور خطرناک" قرار دیتے ہوئے خبردار کیا کہ ایسے اقدامات خطے میں بڑے پیمانے پر تباہی کا باعث بن سکتے ہیں، انہوں نے واضح کیا کہ اگر بھارت نے کوئی نئی مہم جوئی کی تو پاکستان "بلا جھجھک، بھرپور اور فیصلہ کن" جواب دے گا۔
اس کے بعد ایک بار پھر یہ سوال اٹھنے لگا ہے کہ آخر سر کریک تنازع کی حقیقت کیا ہے؟
سر کریک دراصل ایک پتلی آبی پٹی ہے جو پاکستان کے صوبہ سندھ اور بھارت کی ریاست گجرات کے درمیان واقع ہے، تقریباً 96 کلومیٹر طویل یہ پٹی "رَن آف کَچھ" کے دلدلی علاقے میں بحیرۂ عرب تک پھیلی ہوئی ہے، اس علاقے کی دلدلی نوعیت کی وجہ سے پانی کے بہاؤ اور زمین کے نقشے میں وقتاً فوقتاً تبدیلی آتی رہتی ہے، یہی وجہ ہے کہ دونوں ممالک اس کے سرحدی تعین پر مختلف مؤقف رکھتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:سیلاب متاثرین کی مالی معاونت کا عمل کب شروع ہوگا؟ ریلیف کمشنر پنجاب نے بتا دیا
پاکستان کا مؤقف ہے کہ برطانوی دور کے نقشے کے مطابق سرحد سر کریک کے مشرقی کنارے سے گزرتی ہے، جب کہ بھارت کے مطابق یہ تھل ویگ لائن (Thalweg Line) کے اصول کے تحت پانی کے بیچوں بیچ ہونی چاہیے۔
اس تنازع کا اثر صرف سرحدی لائن تک محدود نہیں بلکہ ماہی گیری، تیل و گیس کے وسائل، اور اقتصادی زونز جیسے بڑے مفادات سے بھی جڑا ہوا ہے، اگر کسی ایک ملک کو سر کریک پر مکمل کنٹرول مل جائے تو وہ اپنی اقتصادی حدود (Exclusive Economic Zone) میں نمایاں اضافہ کر سکتا ہے، جہاں سے اربوں روپے کے وسائل حاصل ہو سکتے ہیں۔
ماضی میں پاکستان اور بھارت کے درمیان اس مسئلے پر کئی مرتبہ فوجی و سفارتی سطح پر مذاکرات ہوئے، تکنیکی ٹیموں نے سروے بھی کیے، مگر کسی نتیجے پر اتفاق نہیں ہو سکا، نتیجتاً سر کریک کا یہ تنازع آج بھی حل طلب ہے اور وقتاً فوقتاً دونوں ممالک کے تعلقات میں تناؤ کی نئی لہر پیدا کرتا رہتا ہے۔