وفاقی حکومت نے انکم ٹیکس ترمیمی ایکٹ 2025 متعارف کرا دیا
Stay tuned with 24 News HD Android App
(24نیوز) وفاقی حکومت نے انکم ٹیکس ترمیمی ایکٹ 2025 متعارف کرا دیا ۔
دستاویز کے مطابق ایف بی آر ٹیکس تنازعات کے متبادل حل کیلئے کمیٹی قائم کرے گا۔پانچ کروڑ روپے تک کے ٹیکس تنازعات کا معاملہ اے ڈی آر کے سپرد کیا جا سکے گا ۔ہائی کورٹ یا سپریم کورٹ کا ریٹائرڈ جج کمیٹی کا چیئرپرسن ہوگا ۔کمیٹی چیئرپرسن کیلئے ٹیکس معاملات سے نمٹنے کا تجربہ لازمی ہوگا ۔چیئرمین ایف بی آر کمیٹی چیئرپرسن کے لیے تین ناموں کا پینل تجویز کریں گے ۔
بل کے مطابق کمیٹی میں ایف بی آر کا گریڈ 21 کا افسر شامل ہوگا ۔کمیٹی میں ایف پی سی سی آئی کا نمائندہ شامل ہوگا ۔مالیاتی اداروں کے خلاف شکایات کے ازالے کے لیے تنازعات کا متبادل حل نظام متعارف کر دیا ۔ شہریوں کو مالیاتی اداروں کے خلاف شکایات کے ازالے کے لیے اب عدالتوں کے بجائے متبادل نظام فراہم کر دیا گیا ہے۔ کوئی بھی شہری یا ادارہ بینکوں، مالیاتی کمپنیوں یا سرکاری ملکیتی اداروں کے خلاف شکایت درج کرا سکتا ہے۔ شکایت کنندہ کو اپنی درخواست کے ساتھ مکمل شواہد اور دستاویزات فراہم کرنا ہوں گے اے ڈی آر معاملے کی نوعیت کا درست اندازہ لگا سکے۔
یہ بھی پڑھیں:9مئی مقدمات میں سزا یافتہ اور روپوش پی ٹی آئی رہنما نے گرفتاری دیدی
بل کے مطابق شکایات کی اقسام میں معاہدے کی خلاف ورزی، ناقص خدمات، مالی نقصان، بدانتظامی یا کسی بھی قسم کی زیادتی شامل ہیں۔ شکایت موصول ہونے کے بعد اے ڈی آر دونوں فریقوں کو سننے کے بعد فیصلہ صادر کرے گا۔ اگر اے ڈی آر کو محسوس ہو کہ شکایت میں وزن ہے تو وہ فریقین کو ثالثی یا مصالحت کے ذریعے مسئلہ حل کرنے کی تجویز دے سکتا ہے۔ ثالثی کا عمل مکمل غیرجانب دارانہ ماحول میں انجام دیا جائے گا، دونوں فریقوں کو مساوی موقع فراہم کیا جائے گا۔ اے ڈی آر کا فیصلہ تحریری صورت میں جاری ہوگا مصالحتی عمل رضاکارانہ بنیادوں پر ہوگا، جس میں اے ڈی آر کا کردار سہولت کار کا ہوگا۔
دستاویز کے مطابق فریقین کے مابین ہونے والے کسی بھی معاہدے کو قانونی حیثیت حاصل ہوگی۔ اے ڈی آر کے فیصلے پر عمل درآمد لازم قرار دیا گیا ہے، عدم تعمیل کی صورت میں متعلقہ اتھارٹی کو کارروائی کے لیے آگاہ کیا جائے گا۔ اگر کسی فیصلے میں قانونی سقم پایا جائے تو فریقین عدالت میں نظرِ ثانی کی درخواست دے سکتے ہیں۔ اے ڈی آر کا مقصد ٹیکس تنازعات کا کم لاگت میں موثر حل ہے ۔
یہ بھی پڑھیں:بچت سکیموں کی شرح منافع میں بڑا ردوبدل ،بینکوں میں پیسے رکھنے والوں کیلئے اہم خبر