پاکستان میں فی الحال سو فیصد الیکٹرک گاڑیاں بننا ممکن نہیں ؛ہارون ایس خان
موبائل یا گاڑی کی بیٹری سو فیصد تک چارج نہ کریں تاکہ بیٹری کی عمر زیادہ ہو،مارننگ ودفضامیں گفتگو
Stay tuned with 24 News HD Android App
(24نیوز )حکومت پاکستان کی انرجی وہیکلز پالیسی کے مطابق آئندہ پانچ برسوں میں 30 فیصد گاڑیاں الیکٹرک سسٹم پر منتقل کرنے کا منصوبہ ہے، تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ ملک میں اس ہدف کے حصول کے لیے بنیادی انفراسٹرکچر موجود نہیں۔
الیکٹرک وہیکلز اور ٹیکنالوجی کے ماہر ہارون ایس خان نے24نیوزکے پروگرام’’مارننگ ود فضا‘‘ میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت پورے پاکستان میں صرف 12 ای وی چارجنگ اسٹیشنز ہیں جن کے ذریعے یہ ہدف پورا کرنا ممکن نہیں، اگر آئندہ دو سے تین برسوں میں تین ہزار ای وی اسٹیشنز لگانے کا منصوبہ ہے تو یہ چیلنجنگ کام ہوگا کیونکہ ای وی نظام کا انحصار بھی گرڈ اسٹیشنز پر ہی ہوتا ہے جہاں پہلے ہی بجلی کی پیداوار محدود ہے۔

ہارون ایس خان نے کہا کہ اگر پالیسی میں ٹیکس شامل کیے گئے تو الیکٹرک گاڑیوں کی قیمت مزید بڑھ جائے گی، پاکستانی صارف اپنی گاڑی کو سرمایہ کاری کے طور پر خریدتا ہے اس لیے اسے ری سیل ویلیو، مینٹیننس اور پارٹس کی دستیابی بھی درکار ہوتی ہے۔
ہارون ایس خان کے مطابق ہائبرڈ گاڑیاں، پی ایچ ای وی اور ای وی میں نمایاں فرق ہے، ہائبرڈ گاڑیاں اُن افراد کے لیے موزوں ہیں جو روزانہ 150 کلومیٹر تک گاڑی چلاتے ہیں جبکہ روزانہ 40 سے 50 کلومیٹر چلانے والوں کے لیے بچت کے امکانات کم ہیں، اگر واقعی بچت کرنی ہے تو صارف کو مکمل بیٹری وہیکلز کی طرف جانا ہوگا۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان میں فی الحال سو فیصد الیکٹرک گاڑیاں بننا ممکن نہیں کیونکہ انفراسٹرکچر موجود نہیں، اس مقصد کے لیے ہمیں مقامی پیداوار کو فروغ اور درآمدات پر انحصار کم کرنا ہوگا، اگر ملک میں ای وی گاڑیاں مقامی طور پر تیار ہونا شروع ہو جائیں تو مستقبل میں یہ سستی ہو سکتی ہیں۔
ہارون ایس خان نے کہا کہ پٹرول صرف ایندھن کی قیمت تک محدود نہیں بلکہ انجن پارٹس، مینٹیننس اور ریپئرنگ کے اخراجات بھی شامل ہوتے ہیں، اس کے مقابلے میں ای وی گاڑیاں صرف چارج ہوتی ہیں جو سولر یا اے سی چارجر سے تین سے چار دن چلتی ہیں۔
انہوں نے مشورہ دیا کہ کبھی بھی موبائل یا گاڑی کی بیٹری کو سو فیصد تک چارج نہ کریں بلکہ 85 فیصد پر رکھیں تاکہ بیٹری کی عمر زیادہ ہو، ان کے مطابق کمرشل چارجنگ سٹیشنز ڈی سی پاور پر کام کرتے ہیں جو زیادہ مؤثر چارجنگ فراہم کرتے ہیں اور وہاں فی گھنٹہ کتنے کلو واٹ کا چارج لگایا گیا ہے ؟یہ اہم فیکٹر ہے۔