آزادکشمیر میں جوائنٹ ایکشن کمیٹی کاعوامی مسائل کے نام پر پراپیگنڈا

Jun 05, 2026 | 19:06:PM
آزادکشمیر میں جوائنٹ ایکشن کمیٹی کاعوامی مسائل کے نام پر پراپیگنڈا
سورس: Google
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(احمد منصور )آزادکشمیر میں جموں کشمیر جوائنٹ ایکشن کمیٹی عوامی مسائل کے نام پر گمراہ کن بیانیہ پھیلانے لگی،38میں سے 35 مطالبات تسلیم ہونے کے بعد بھی احتجاج پر اصرار عوامی مفاد نہیں، سیاسی ضد ہے ،ایکشن کمیٹی کو عوامی مطالبات کے نام پر مرضی مسلط کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

 حقائق اب عوام کے سامنے آ چکے ہیں۔ آزاد کشمیر کی سیاسی قیادت، حکومتی نمائندوں اور اپوزیشن جماعتوں کے درمیان اس امر پر واضح اتفاق پایا جاتا ہے کہ مسائل کا حل احتجاجی سیاست اور محاذ آرائی نہیں بلکہ مکالمے اور جمہوری عمل میں مضمر ہے۔

حکومت آزاد کشمیر نے ہمیشہ مذاکرات، ریلیف اور عمل درآمد کی پالیسی اپنائی۔ جے اے اے سی کے 38 مطالبات میں سے 35 مطالبات تسلیم کیے گئے اور ان پر عملی پیش رفت بھی کی گئی، لیکن اس کے باوجود احتجاج اور دباؤ کی سیاست پر اصرار عوامی مفاد کے بجائے سیاسی ہٹ دھرمی کی عکاسی کرتا ہے۔

آل پارٹیز کانفرنس کے اعلامیے کی آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی سے توثیق جمہوری اتفاقِ رائے کا واضح ثبوت ہے۔ اسمبلی عوامی نمائندگی کا سب سے اعلیٰ آئینی فورم ہے اور اس کے فیصلوں کو سڑکوں کے دباؤ کے ذریعے مسترد نہیں کیا جا سکتا۔

پُرامن احتجاج ہر شہری کا جمہوری حق ہے، تاہم قانون کو ہاتھ میں لینے، شاہراہیں بند کرنے، کاروباری سرگرمیوں کو متاثر کرنے اور عوامی زندگی کو مفلوج بنانے کی کسی صورت اجازت نہیں دی جا سکتی۔ عوامی مطالبات کے نام پر کسی ایک گروہ کو اپنی مرضی مسلط کرنے کا اختیار نہیں دیا جا سکتا۔

اگر ہٹ دھرمی اور دباؤ کی سیاست کے ذریعے امن و امان کی صورتحال خراب کرنے کی کوشش کی گئی تو قانون کے مطابق کارروائی ناگزیر ہوگی۔ حکومت آزاد کشمیر کی اولین ذمہ داری عوامی مفاد کا تحفظ، قانون کی عملداری اور ریاستی استحکام کو یقینی بنانا ہے۔

خصوصاً 9 جون کو انتخابی عمل میں کسی قسم کی رکاوٹ عوامی حقوق کا دفاع نہیں بلکہ جمہوری عمل کو متاثر کرنے کے مترادف ہوگی۔ عوام کو بندشوں، ہڑتالوں اور دباؤ کی سیاست کے بجائے ووٹ، مکالمے اور آئینی و جمہوری عمل پر اعتماد کرنا چاہیے۔

حکومت نے مذاکرات کے دروازے کبھی بند نہیں کیے، تاہم جے اے اے سی کی جانب سے مذاکرات کے بجائے محاذ آرائی کا راستہ اختیار کرنا افسوسناک ہے۔ آزاد کشمیر میں امن، استحکام اور ترقی پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہونا چاہیے اور عوامی زندگی کو یرغمال بنانے کی ہر کوشش کو قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے روکا جانا چاہیے۔

آزاد کشمیر کے عوام کو مسلسل احتجاج نہیں بلکہ پائیدار استحکام، مثبت مکالمے اور عملی حل کی ضرورت ہے تاکہ ریاست ترقی، خوشحالی اور جمہوری استحکام کی جانب آگے بڑھ سکے۔

یہ بھی پڑھیں :سڑکوں پر خطرناک صورتحال،5 ماہ، 6 روز میں 445 قیمتی جانیں ضائع