پی ٹی آئی کی قیادت آج کے احتجاج پر شش و پنج کا شکار ہے:سلیم بخاری
Stay tuned with 24 News HD Android App
(فرخ احمد)معروف تجزیہ کار سلیم بخاری نے کہا ہے کہ آج پانچ اگست پی ٹی آئی کے احتجاج کا دن ہے جبکہ اس کی قیادت ابھی تک شش و پنج کا شکار ہے کہ کل کرنا کیا ہے؟ ٹی وی شو ’’گونج ‘‘ میں گفتگو کرتے ہوئے سلیم بخاری نے بتایا کہ پی ٹی آئی کی اپنی لیڈر شپ میڈیا سے یہ کہہ کر جان چھڑاتی ہے کہ یہ ایک راز ہے کہ کل احتجاجی تحریک کیسے چلے گی جو وہ بتا نہیں سکتے ہیں۔ان کا کہنا تھا پی ٹی آئی اپنی کسی بھی چیز کو نقطہ عروج پر پہنچانےکی ماسٹر ہے لیکن گراس روٹ لیول پر اپ تحریک چلانے نکلے ہیں ورکرز کو پتہ نہیں ہے کرنا کیا ہے لیڈ کون کرے گا۔
انھوں نے کہا کہ ابھی یہ طے نہیں ہو پا رہا کہ اس تحریک کو کون لیڈ کرے گا کہا جارہا ہے کہ تحریک تحفظ آئین پاکستان کے محمود خان اچکزئی اس تحریک کو لیڈ کریں گے۔ اسکی وجوہات پر چہ مگویاں ہو رہی ہیں کچھ کا خیال ہے کہ تحریک انصاف اپنے ورکرز کے رسپانس سے مایوس ہو چکی ہے جس قسم کا رسپانس ورکرز کی طرف سے مل رہا ہے اس سے مایوس ہو کر یہ کیا جارہا ہے کہ وہ اپنے تحریک کی کامیابی یا ناکامی کا طوق محمود اچکزئی کے گلے ڈالنا چاہتی ہے اگر تو کامیاب ہو گئے تو واہ واہ ناکامی کی صورت میں اچکزئی کے گلے میں پھندا ڈال دیا جائے گا۔
اس سوال کے جواب میں کہ اس تحریک کی کال تو بانی نے خود دی تھی تو یہ کیسے ناکام ہو گی، انہوں نے کہا کہ پارٹی میں کسی میں اتنی ہمت نہیں کہ وہ کوئی فیصلہ کر سکے۔ تحریک کو جیل سے لیڈ کرنے پر بخاری صاحب نےکہا کہ جیل سے بھی کبھی کوئی تحریک لیڈ ہوئی ہے جہاں نہ کسی کو ہدایت دی جاسکتی ہے نہ کوئی لائحہ عمل طے کیا جاسکتا ہے، دیکھیں گے کیسے یہ احتجاجی تحریک لیڈ ہوتی ہے۔
کیا پی ٹی آئی کی لیڈر شپ ایک پیج پر ہے؟ بخاری صاحب نےکہا کہ مجھے تو پی ٹی آئی کی قیادت ایک پیج پر نظر نہیں آتی کیوں کہ جب نصف درجن سے زائد لوگوں نے جیل سے خط لکھ کر اپنی رائے کا اظہار کیا تھا کہ بس کر دیں مذاکرات کی راہ اختیار کریں، جس کو سختی سے رد کر دیا گیا تھا اور کہا گیا تھا کہ مزاکرات اگر ہو سکتے ہیں تو صر ف اسٹیبلشمنٹ سے اس کے باوجود کہ فوجی قیادت نے تو صاف کہ دیا تھا کہ ملٹری قیادت اس میں دلچسپی نہیں رکھتی۔
بخاری صاحب نے کہا کہ علیمہ خان نےکہا کہ بانی کے بچے آرہے ہیں اور ان کو ویزے اپلائی کیے جاچکے ہیں لاکھوں لوگ ان کا استقبال کرنے جائیں گے، لیکن اس پر بانی نےیہ کہ کر پانی پھیر دیا ہےکہ وہ کسی احتجاجی تحریک کا حصہ نہیں بنیں گے۔ اگر وہ آتے ہیں تو کسی سیاسی سرگرمی کا حصہ نہیں بنیں گے، کیوں کہ وہ بلکل غیر سیاسی ہیں حالانکہ کہ حکومتی وزرا ء کے بیانات دیکھیں تو پتہ چلتا ہے کہ ان کے آنے پر حکومت کی جانب سے کوئی پابندی نہیں ہے۔ لیکن نجانےبانی کے بچے کیوں نہیں انا چاہتے ۔بخاری صا حب نے اپنی رائے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میرا خیال ہے کہ وہ پاکستان نہیں آئیں گے۔
اس سوال کے جواب میں کہ غزہ کو کنٹرول کرنے کے لیے جس قسم کی پلاننگ ہو رہی ہے کیا لگتا ہے ان میں سے کوئی کامیاب ہوگا؟ بخاری صاحب نے مشہور ضرب المثل بیان کی ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلےفلسطین پر قبضہ کی خواہش تو بہت پرانی ہے یہ آج کی تو نہیں ہے۔یہ پروپیگنڈہ کیا جاتا ہے کہ فلسطین پر یہ سب کچھ 7اکتوبر سے ہورہا ہے جو کہ ایک جھوٹ ہے جس کا مقصد اسرائیل کی قتل و غارت سے انکھیں چرانا ہے، جس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔فلسطینوں کے ساتھ سات اکتوبر سے قتل عام نہیں ہو رہا بلکہ 1936سے یہ قتل عام ہورہا ہے نسل کشی کی جا رہی ہے۔غزہ پرقبضہ کے لیے بہت سے راستوں سے عمل کیا جاتا رہا ناکامی ہوئی ، بہت سے طریقوں سے عمل کیا جارہا ہے ناکامی ہوئی اور آئندہ بھی جس طرح سے عمل کیا جائے گا ناکامی ہی ہو گی۔
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت میں پاکستان نئے دور میں داخل ہو رہا ہے۔برطانوی جریدے دی اکانومسٹ میں 3 اگست کو شائع ہونے والے مضمون میں چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے ان کی پاک امریکی تعلقات کی کوششوں کو سراہا گیا ہے۔اس پر اپنی رائے کا اظہار کرتے ہوئے بخاری صاحب نے کہا کہ امریکہ کا صدر نہ اتنا فارغ نہیں ہوتا ہے کہ وہ دو گھنٹے تک کسی جنرل کے ساتھ بیٹھ کر میٹنگ کرے، پھر امریکی صدر ٹرمپ کا یہ بیان کہ جنوبی ایشاء میں ایک قد آور شخصیت ہے ۔
جنرل عاصم منیراگرچہ یہ اپنی خود ستائش ہو جائے گی لیکن کچھ تو ہے جو امریکہ صدر تعریفوں کے پل باندھ رہے ہیں،انہوں نے مزید کہا کہ اکانومسٹ ایک انڈیپینڈنٹ اخبار ہے، مغرب میں کوئی اخبار ایسے ہی کسی کی تعریفیں نہیں کرتا۔اس اعتبار سے اگر دیکھا جائے تو یہ ایک بہت بڑی سٹیٹمنٹ ہے۔اب امریکہ پاکستان کو بکتر بند گاڑیاں اور نائٹروجن الات دیے رہا ہے۔یقینا یہ پاک امریکہ تعلقات میں ایک نئے دور کا اغاز ہے۔دوسری طرف بھارت پر 25فیصد ٹیکس عائد کر دیا گیا ہے اور مزید ٹیکس لگانے کی بات ہو رہی ہے۔اس طرح تو بھارت کے پیٹ میں مروڑ اُٹھ رہے ہونگے۔
یہ بھی پڑھیں :یو اے ای میں نئے ڈرائیونگ لائسنس کے اجرا کیلئے فیسوں کا اعلان