نورِ سحر میں’’ سیدنا عبدالقادر جیلانیؒ قدس سرہ۔۔۔حیات و تعلیمات‘‘بصیرت افروز علمی نشست
جسٹس (ر) نذیر احمد غازی نے کہا کہ حضرت عبدالقادر جیلانیؒ کی ولادت کی بشارت ان کے والد کو رحمتِ دو عالم ﷺ نے خواب میں دی
Stay tuned with 24 News HD Android App
(24نیوز)معروف دینی و فکری ٹی وی پروگرام "نورِ سحر" میں ایک بصیرت افروز علمی نشست منعقد ہوئی جس کا موضوع " سیدنا عبدالقادر جیلانیؒ قدس سرہ۔۔۔حیات و تعلیمات " تھا ۔
پروگرام کے میزبان جسٹس (ر) نذیر احمد غازی نے کہا کہ حضرت عبدالقادر جیلانیؒ کی ولادت کی بشارت ان کے والد کو رحمتِ دو عالم ﷺ نے خواب میں دی، جس دن آپ کی ولادت ہوئی، پورے گیلان میں صرف بیٹے پیدا ہوئے۔
انہوں نے کہا کہ آپؒ کی کرامات اس قدر تواتر کے ساتھ بیان ہوئی ہیں کہ ان کا انکار ممکن نہیں،حتیٰ کہ ابن تیمیہ جیسے محقق نے بھی ان کرامات کا اعتراف کیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ غوث الاعظمؒ ان اولیاء میں سے ہیں جنہیں اللہ کا خاص قرب حاصل ہوااور انہیں علم کا ایسا سمندر عطا ہوا جو رسول اللہ ﷺ اور حضرت علیؑ کے لعاب دہن کا فیض تھا۔
علامہ حافظ عدیل یوسف صدیقی نے صوفیانہ تعلیمات کو شریعت کے دائرے میں رہتے ہوئے بیان کیا اور کہا کہ ہم صرف اسی کرامت کو مانتے ہیں جو شریعت محمدی ﷺ کے مطابق ہو۔
انہوں نے کہا کہ جو بزرگ یا پیر شریعت سے ہٹ جائے، وہ ہمارا رہنما نہیں ہو سکتا، حضرت عبدالقادر جیلانیؒ کی سیرت میں تقویٰ، عاجزی، علم اور اخلاق نمایاں نظر آتے ہیں۔
پروفیسر ڈاکٹر عائشہ ابوبکر نے کہا کہ غوث الاعظمؒ مادرزاد ولی تھے، مگر انہوں نے کبھی کسب کو ترک نہیں کیا بلکہ ہمیشہ جدوجہد اور محنت کو اپنا شعار بنایا۔
انہوں نے کہا کہ آپؒ کی علمی بصیرت اور روحانی مقام اپنی مثال آپ ہے، آپؒ کا رمضان کے روزے کی حالت میں دودھ نہ پینا، فطری پرہیزگاری کا مظہر ہے۔
پروفیسر فہد کاظمی نے کہا کہ اولیاء اللہ دلوں پر آج بھی حکمرانی کرتے ہیں، لیکن افسوس کہ بعض لوگ ان کے نام پر ذاتی مفادات کا کاروبار کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ غوث پاکؒ نے کبھی حکمرانوں سے مالی نذرانے قبول نہیں کیے بلکہ ان کو حق بات سنائی، آپؒ نے فرمایا کہ طریقت کی پہلی منزل کرامات ہیں، لیکن جو اسی میں رک جائے وہ درگاہ سے ہٹا دیا جاتا ہے۔