غزہ میں تعلیمی سرگرمیاں بحال، سکولوں میں دوبارہ رونق
Stay tuned with 24 News HD Android App
(24 نیوز)تباہ حال غزہ میں 2 سال بعد تعلیمی سرگرمیاں بحال ہوگئی ہیں جس سے سکولوں میں رو نق لوٹ آئی ہے۔
پہلےدن سکول پہنچنے کے بعد غزہ کی نوعمر شام العبید خوشخطی سے اپنا سبق لکھ رہی تھیں، انہوں نے اپنی کاپی کو یوں تھام رکھا تھا جیسے طویل جدائی کے بعد کسی قیمتی شے کو گلے لگایا ہو۔
دو سالہ جنگ میں انہیں سکول جانے کا موقع نہیں ملا تھا، دوبارہ کمرہ جماعت میں آ کر وہ بہت خوش تھیں۔
دیر البلح کے ایک مخلوط پرائمری سکول میں انہوں نے بتایا کہ وہ پڑھنا لکھنا اور معمول کی زندگی کی جانب واپس جانا چاہتی ہیں۔
اس وقت انہیں کتابوں کے ساتھ ساتھ پڑھائی کے لئے درکار چیزوں کی ضرورت ہے۔
اقوام متحدہ کے امدادی ادارے (انروا) کے قائم کردہ اس سکول میں طلبہ پرانے اور شکستہ میز کرسیوں پر بیٹھے دکھائی دیئے۔
مزید پڑھیں:ایران کی امریکہ سے مذاکرات کیلئے شرط
کمرے کی دیواروں پر ان کی بنائی تصاویر آویزاں تھیں، شام کی ہم جماعت اسیل اللوح بھی یہاں واپس آ کر بہت خوش تھیں۔
ان کا کہنا تھا کہ وہ حسب سابق پڑھنے لکھنے اور کھیلنے کی خواہش مند ہیں۔
غزہ میں جنگ بندی کے بعد انروا ان اسکولوں میں تعلیمی عمل بحال کرنے کی کوشش کر رہا ہے جو پناہ گاہوں میں تبدیل ہو گئے تھے۔
ادارے کے کمشنر جنرل فلپ لازارینی نے کہا کہ ادارہ غزہ میں’تعلیم کی جانب واپسی‘ کے پروگرام کو وسعت دے رہا ہے جو بالمشافہ اور آن لائن دونوں انداز میں جاری ہے۔