سابق شامی صدر بشارالاسد کو روس میں زہر دیے جانے کا دعویٰ
Stay tuned with 24 News HD Android App
(24نیوز)شام کے سابق صدر بشارالاسد کو زہر دے دیا گیا، تاہم اب ان کی حالت قدرے بہتر ہے۔
معروف تنظیم دی سریئن آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس نے ایک ’ذاتی ذریعے‘ کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ بشار الاسد کو پیر کے روز ماسکو کے مضافات میں واقع ایک ہسپتال سے رہا کر دیا گیا ہے۔
شام کی نئی حکومت نے روس سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ بشار الاسد کو ملک واپس بھیجے، مگر روس نے ابھی تک یہ مطالبہ مسترد کیا ہے۔
روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے خود بشار الاسد کو ان کے خاندان اور دیگر قریبی ساتھیوں کے ساتھ سیاسی پناہ دی ہے۔
60 سالہ بشار الاسد کو روس پہنچنے کے بعد سے عوامی طور پر نہیں دیکھا گیا، اور یہ خیال کیا جاتا ہے کہ انہیں روسی خفیہ ادارے سخت نگرانی میں رکھے ہوئے ہیں۔
اب تک بشار الاسد کی زہریلا کرنے کی کوئی آزادانہ تصدیق نہیں ہوئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:بھرتیوں کی منظوری، سرکاری ملازمتوں سے متعلق بڑی خوشخبری
اسد کے روس میں ایک ماہ سے بھی کم عرصہ گزارنے کے بعد سامنے آنے والی ایک رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ انہوں نے اپنی سیکورٹی کو صحت کے مسائل جیسے سانس لینے میں دشواری کی شکایت کی تھی، لیکن اس رپورٹ کی تصدیق نہیں ہو سکی۔
امریکی محکمہ خارجہ کا اندازہ ہے کہ سابق صدر بشار الاسد اور ان کے خاندان کی دولت دو ارب ڈالر سے زائد ہے، جو مختلف بینک اکاؤنٹس، شیل کمپنیوں، آف شور ٹیکس پناہ گاہوں اور جائیدادوں میں چھپی ہوئی ہے۔
بشار الاسد، ان کی برطانوی اہلیہ اور ان کے تین بالغ بچے شام کے محل چھوڑ کر دسمبر میں ماسکو آگئے تھے، جہاں پیوتن نے انہیں سیاسی پناہ دی تھی۔