شہر لاہور کی سکرین پر نئی روشنی — "کھوسٹ پروڈکشن اینڈسٹوڈیوز" سے ٹی وی انڈسٹری میں نئی روح
تحریر: زین مدنی حسینی
Stay tuned with 24 News HD Android App
کبھی لاہور کو فلم، موسیقی اور تھیٹر کا گڑھ کہا جاتا تھا۔ پاکستان کی ثقافتی روح اسی شہر کی گلیوں میں سانس لیتی تھی۔ مال روڈ سے ریگل چوک تک، ہر سمت اداکار، ہدایتکار اور گلوکاروں کا ہجوم ہوتا۔ ایورنیو۔ باری۔شباب۔ایچ ایم اور شاہنور اسٹوڈیوز میں دن رات شوٹنگز جاری رہتیں، اور لالی وڈ کی فلمیں پورے ملک کے سینما گھروں میں چھا جاتی تھیں۔
مگر وقت کے ساتھ ساتھ، لاہور کی وہ چمک دھیرے دھیرے ماند پڑ گئی۔ نجی چینلز کے قیام کے بعد ٹی وی پروڈکشن کا مرکز کراچی منتقل ہو گیا۔ لاہور کے اسٹوڈیوز سنسان ہوگئے، اور وہ شہر جو کبھی ہر روز کسی نئی کہانی، نئے کردار اور نئے خواب کو جنم دیتا تھا، خاموشی میں ڈوب گیا۔
اداکار کراچی منتقل ہونے لگے، پروڈیوسرز نے اپنے دفاتر وہاں قائم کیے، اور لاہور کی ٹی وی انڈسٹری گویا ایک تاریخی وقفے میں چلی گئی۔
گزشتہ چند برسوں میں صورتحال میں حیران کن تبدیلی آئی ہے۔
کراچی کی بڑی پروڈکشن کمپنیاں اب دوبارہ لاہور کا رُخ کر رہی ہیں۔ اس کی سب سے بڑی وجہ یہاں کی سستی پروڈکشن لاگت، تربیت یافتہ تکنیکی عملہ، اور متنوع لوکیشنز ہیں۔
لاہور میں ایک ہی وقت میں تاریخی عمارتیں، دیہی ماحول، جدید سیٹ اپ اور قدرتی مناظر دستیاب ہیں — یہی وہ سہولتیں ہیں جو پروڈیوسرز کے بجٹ کو کم اور معیار کو بہتر بناتی ہیں۔
کئی معروف ڈراما پروڈیوسرز جو پہلے کراچی میں کام کرتے تھے، اب لاہور کے اسٹوڈیوز میں شوٹنگز کروا رہے ہیں۔
یہ رجحان اس بات کا اشارہ ہے کہ لاہور دوبارہ میڈیا پروڈکشن کا فعال مرکز بن رہا ہے۔
اسی نئے دور میں پاکستان کے سینئر ترین اداکار، ہدایتکار اور پروڈیوسر عرفان کھوسٹ نے لاہور میں ایک اہم اور دور اندیش قدم اٹھایا ہے۔
انہوں نے اپنے نام سے ایک نیا پروڈکشن ادارہ قائم کیا ہے —
"کھوسٹ پروڈکشن اینڈ اسٹوڈیوز"
اس پروڈکشن ہاؤس کی لانچ تقریب لاہور میں منعقد ہوئی جس میں آرٹس، میڈیا اور ثقافت سے وابستہ شخصیات نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔
عرفان کھوسٹ کا شمار ان فنکاروں میں ہوتا ہے جنہوں نے پاکستان ٹیلی ویژن کے سنہرے دور سے لے کر آج تک ہر دور میں اپنی موجودگی ثابت کی۔
ان کی اداکاری کی رینج، گفتگو کا انداز، اور کردار کی نفسیات پر گرفت انہیں ایک انسٹی ٹیوشن بنا چکی ہے۔
یہ پروڈکشن ہاؤس ان کے خاندان کے فنی ورثے کا تسلسل ہے۔
عرفان کھوسٹ کے بیٹے سرمد سلطان کھوسٹ آج کے جدید اور تخلیقی فلم سازوں میں نمایاں نام رکھتے ہیں۔
انہوں نے "مندے لاہور دے"، "ہو من جہاں"، "کملی" اور "زیادہ گرمی" جیسے پراجیکٹس سے یہ ثابت کیا کہ وہ نہ صرف ہدایتکار بلکہ ایک فنکارانہ وژن رکھنے والے تخلیق کار ہیں۔
یہ نیا پروڈکشن ہاؤس محض ایک کمپنی نہیں، بلکہ لاہور میں فنی احیاء کا سنگ میل بننے جا رہا ہے۔
اس میں جدید ترین ریکارڈنگ آلات، ایڈیٹنگ سوئٹس، ساؤنڈ اسٹوڈیوز، گرین اسکرین ٹیکنالوجی اور آرٹسٹک ورکشاپس شامل کی گئی ہیں۔
یہاں نہ صرف ٹی وی ڈرامے بلکہ فلمیں، ڈیجیٹل سیریز، اشتہارات اور ثقافتی دستاویزی منصوبے بھی تیار کیے جائیں گے۔
عرفان کھوسٹ کا کہنا ہے کہ ان کا مقصد لاہور کے نوجوان فلم میکرز، رائٹرز اور اداکاروں کو ایک ایسا پلیٹ فارم دینا ہے جہاں وہ تجربہ بھی کریں اور سیکھیں بھی۔
یہ ادارہ لاہور کے تخلیقی نوجوانوں کے لیے ایک فنی نرسری کا کردار ادا کرے گا۔
لاہور کی پہچان صرف اس کی عمارتوں، باغوں یا کھانوں سے نہیں، بلکہ اس کے آرٹ، تھیٹر اور موسیقی سے ہے۔
یہ وہ شہر ہے جہاں سے “وارث”، “اندھیرا اجالا”، “الفا براوو چارلی” اور “عینک والا جن” جیسے کلاسک ڈرامے بنے۔
یہی شہر وہ ہے جہاں فنونِ لطیفہ کی اصل روح بستی ہے۔
اگر یہاں دوبارہ پروڈکشن سرگرم ہو رہی ہے، تو یہ محض معیشت یا روزگار کا معاملہ نہیں بلکہ ثقافتی بحالی کی علامت ہے۔
عرفان کھوسٹ کا "کھوسٹ پروڈکشن اینڈ اسٹوڈیوز" صرف ایک نیا ادارہ نہیں، بلکہ ایک نئی اُمید ہے۔
یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ لاہور کا فن ابھی زندہ ہے، اور یہاں کے لوگ اب بھی کہانی سنانے، کردار تخلیق کرنے اور خواب دکھانے کی طاقت رکھتے ہیں۔
اگر حکومتِ پنجاب اور متعلقہ ادارے اس اقدام کی سرپرستی کریں تو وہ دن دور نہیں جب لاہور ایک بار پھر پاکستان کے ٹی وی اور فلمی نقشے پر مرکزی حیثیت حاصل کر لے گا۔
عرفان کھوسٹ نے وہ شمع دوبارہ روشن کی ہے جو برسوں پہلے بجھ گئی تھی — اور اب اس کی روشنی پورے ملک کے فنکاروں کو راستہ دکھا رہی ہے۔