اب مہمان بھی محفوظ نہیں 

تحریر: شازیہ کنول

Jul 03, 2026 | 18:46:PM
اب مہمان بھی محفوظ نہیں 
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

قومیں صرف اپنی سرحدوں سے نہیں اپنے کردار سے پہچانی جاتی ہیں۔ ملک کی اصل شناخت اس کے بلند و بالا پہاڑ، شاہراہیں یا جدید عمارتیں نہیں ہوتیں بلکہ یہ ہوتی ہے کہ اس کی سرزمین پر قدم رکھنے والا ہر انسان خود کو کتنا محفوظ محسوس کرتا ہے۔ افسوس کہ لاہور کے پوش علاقے ڈیفنس میں ہالینڈ اور وینزویلا سے تعلق رکھنے والی دو غیر ملکی خواتین کو مبینہ طور پر اغوا کرنےان سے تاوان طلب کرنے اور ان کے ساتھ زیادتی کے الزامات نے ایک بار پھر پاکستان کے چہرے پر ایسا سوالیہ نشان لگا دیا ہے جس کا جواب صرف بیانات سے نہیں عمل سے دینا ہوگا۔

پولیس نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے دونوں خواتین کو بحفاظت بازیاب کروا لیا اور چار ملزمان کو گرفتار بھی کر لیا۔ یہ قابلِ تحسین قدم ہے مگر سوال یہ ہے کہ آخر ایسا واقعہ پیش ہی کیوں آیا؟ کیا ہم ہر بار جرم ہونے کے بعد کامیاب کارروائی پر تالیاں بجاتے رہیں گے یا کبھی جرم ہونے سے پہلے اسے روکنے کا نظام بھی بنائیں گے؟

آج دنیا ایک گاؤں بن چکی ہے۔ ایک خبر چند لمحوں میں براعظموں کا سفر کر لیتی ہے۔ لاہور میں پیش آنے والا ایک واقعہ صرف لاہور تک محدود نہیں رہتا بلکہ یورپ، امریکہ، ایشیا اور دنیا کے ہر اس شخص تک پہنچ جاتا ہے جو پاکستان آنے کا ارادہ رکھتا ہو۔ جب بین الاقوامی میڈیا میں یہ سرخیاں بنتی ہیں کہ غیر ملکی خواتین پاکستان میں مبینہ طور پر اغوا اور جنسی تشدد کا شکار ہوئیں تو دنیا یہ نہیں دیکھتی کہ ملزم کتنے تھے؛ وہ صرف پاکستان کا نام دیکھتی ہے۔

پھر ہم حیران ہوتے ہیں کہ سیاح کیوں نہیں آتے؟ غیر ملکی سرمایہ کار کیوں ہچکچاتے ہیں؟ عالمی ادارے پاکستان کو خطرناک ممالک کی فہرستوں میں کیوں شامل کرتے ہیں؟ جواب ہمارے اپنے رویوں میں پوشیدہ ہے۔ ایک مجرم صرف ایک جرم نہیں کرتا وہ پورے ملک کی ساکھ کو زخمی کرتا ہے۔

ہم دنیا کو کہتے ہیں کہ پاکستان سیاحت کے لیے جنت ہے اور واقعی ہے۔  کیونکہ میں خود تنہا گلگت بلتستان سے گوادر تک تنہا سفر کر کے   اپنے وطن کی حسین وادیاں دیکھ چکی ہوں اور مجھے کبھی کسی نے میلی آنکھ سے نہیں دیکھا میرے اپنے اور دوست کلیکس سوال کرتے تھے شازیہ آپ کو ڈر نہیں لگتا میں کہتی تھی جنت میں کیسا ڈر مجھے ثابت کرنا ہے کہ خواتین پاکستان میں محفوظ ہیں ہاں یہ ضرور ہے جب تک میں کوئی غلطی نہیں کروں گی تب تک مجھے کوئی تنگ یا مجھے ہراس نہیں کر سکتا تو وہ پریشان ہوتے مگر میں حقیقت میں خوشی محسوس کرتی تھی کہ میرا ملک پاکستان ایک حسین اور جنت کا ٹکڑا ہے  جہاں میں بہت محفوظ ہوں ہمارے شمالی علاقے دنیا کی حسین ترین وادیوں میں شمار ہوتے ہیں ہماری ثقافت بے مثال ہے ہمارے لوگ محبت کرنے والے ہیں۔ مگر اگر ایک سیاح کو اپنی عزت اور جان کے تحفظ کا یقین نہ ہو تو خوبصورتی بھی خوف کے سائے میں بے معنی ہو جاتی ہے۔

یہ وقت خود احتسابی کا ہے۔ سوال صرف یہ نہیں کہ مجرم کون ہیں بلکہ یہ بھی ہے کہ انہیں قانون کا خوف کیوں نہیں؟ آخر وہ کون سا خلا ہے جہاں سے ایسے عناصر جنم لیتے ہیں؟ جب سزا یقینی نہ ہو، جب انصاف سست ہو جب اثر و رسوخ قانون پر بھاری پڑ جائے، تو جرائم پیشہ افراد کے حوصلے بڑھتے ہیں۔ جرم کبھی اچانک طاقتور نہیں ہوتا، اسے کمزور نظام طاقت دیتا ہے۔

حکومت اگر واقعی پاکستان کو عالمی سیاحتی نقشے پر نمایاں دیکھنا چاہتی ہے تو اسے سڑکوں اور اشتہاری مہمات سے زیادہ انصاف کے نظام پر سرمایہ لگانا ہوگا۔ غیر ملکی شہریوں کے تحفظ کے لیے خصوصی پروٹوکول، سیاحتی مراکز پر مؤثر نگرانی، جدید ٹیکنالوجی، پولیس کی پیشہ ورانہ تربیت اور تیز رفتار عدالتی کارروائی ناگزیر ہیں۔ دنیا تقریروں سے نہیں نتائج سے متاثر ہوتی ہے۔

اس کے ساتھ ہمیں بطور معاشرہ بھی اپنے ضمیر سے سوال کرنا ہوگا۔ ہم اپنی بیٹیوں کی عزت کی بات کرتے ہیں، مگر کیا ہم اپنے ملک میں آنے والی ہر خاتون کو بھی وہی احترام دیتے ہیں؟ مہمان نوازی صرف چائے پلانے کا نام نہیں بلکہ مہمان کو ایسا تحفظ دینا ہے کہ وہ اپنے وطن واپس جا کر پاکستان کا نام احترام سے لے۔

یاد رکھیے! جب کسی غیر ملکی کی عزت پامال ہوتی ہے تو صرف ایک فرد نہیں روتا، پورا ملک شرمندہ ہوتا ہے۔ جب کسی سیاح کا اعتماد ٹوٹتا ہے تو صرف ایک سفر منسوخ نہیں ہوتا، ہزاروں آنے والے راستہ بدل لیتے ہیں۔ جب دنیا کا اعتماد متزلزل ہوتا ہے تو صرف سیاحت نہیں، تجارت، سرمایہ کاری، تعلیمی روابط اور سفارتی تعلقات بھی متاثر ہوتے ہیں۔

ریاست کی اصل طاقت ہتھیاروں کی چمک میں نہیں، قانون کی بالادستی میں ہوتی ہے۔ اگر پاکستان میں قانون اتنا مضبوط ہو جائے کہ ہر مجرم کو یقین ہو کہ جرم کے بعد بچ نکلنا ناممکن ہے تو یہی پاکستان دنیا کے لیے امن، اعتماد اور مہمان نوازی کی علامت بن سکتا ہے۔

یہ وطن ہماری شناخت ہے۔ اس کی عزت کسی درندہ صفت انسان کی ہوس، لالچ یا سفاکیت کے حوالے نہیں کی جا سکتی۔ حقیقت تو یہ ہے کہ ریاست صرف مجرموں کو گرفتار نہ کرے بلکہ ایسا نظام قائم کرے جہاں جرم کرنے سے پہلے ہی مجرم کے قدم لرز جائیں۔

کیونکہ جب مہمان  محفوظ نہ رہیں تو ریاست کے تمام دعوے کھوکھلے محسوس ہونے لگتے ہیں اور جب انصاف مضبوط ہو جائے تو دنیا خود کہتی ہے کہ یہ ملک واقعی مہذب قوموں کی صف میں کھڑا ہے

دیگر کیٹیگریز: بلاگ
ٹیگز: