پاکستان میں ویتنام کے بعد پٹرول کی قیمت میں سب سے بڑا اضافہ ہوا، بیرسٹر گوہر
Stay tuned with 24 News HD Android App
(24نیوز) پی ٹی آئی کے چئیرمین بیرسٹر گوہر اور دیگر رہنماؤں نے کہا ہے کہ دنیا میں ویتنام کے بعد پاکستان میں سب سے زیادہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔ عام پاکستانی اور غریب کاشتکار شدید متاثر ہوا ہے۔ حکومت نے غیر ضروری طور پر شدید اضافہ کیا ۔
پی ٹی آئی کے چئیرمین بیرسٹر گوہر ، تیمور سلیم جھگڑا اور اخونزادہ حسین یوسفزئی کی خیبرپختونخوا ہاؤس میں پریس کانفرنس کی جس مین بیرسٹر گوہر نے کہا، گزشتہ رات پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں جو اضافہ کیا گیا وہ ویتنام کے بعد دنیا بھر مین سب سے زیادہ ہے۔ 96 ممالک میں پیٹرولیم مصنوعات میں اضافہ ہوا۔ لیکن دنیا میں ویتنام کے بعد پاکستان میں سب سے زیادہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ہوا۔ ہم نے نائجیریا کو بھی پیچھے چھوڑ دیا۔شاہ خرچیوں کی وجہ سے پیٹرولیم لیوی کو کم نہیں کیا جارہا
بیرسٹر گوہر نے کہا، حکومت آئی ایم ایف سے ڈیل کرنے میں ناکام ہوگئی۔حکومت مینجمنٹ نہیں کرسکی ، حکومت میں پلاننگ کا فقدان تھا۔
بیرسٹر گوہر نے کہا، ثالثی کے نام پر حکومت کیا کر رہی ہے۔ حکومت نے پارلیمان کو بھی اعتماد میں نہیں لیا۔
پریس کانفرنس میں تیمور سلیم جھگڑا نے کہا، اس فیصلے سے متعلق وزیراعظم نے خود آکر اعلان کیوں نہیں کیا ۔ عوام پر پیٹرول اور ڈیزل بم گرایا گیا۔ حکومت نے پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ یک مشت اتنا زیادہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کیا۔
تیمور سلیم جھگڑا نے کہا، اپریل 2022 میں انہوں نے مہنگائی مکاؤ مارچ کیا اس وقت پیٹرول کی قیمت 139 روپے فی لیٹر تھی۔آج اضافہ اتنا کیا جارہا ہے۔ڈائیلاگ بازی کی گئی ، عوام سے جھوٹ بولا گیا۔
تیمور سلیم جھگڑا نے کہا، بانی پی ٹی آئی نے اپنے دور میں صرف یہی ہدایات کی تھیں کہ ہر اقدام سے عوام کو ریلیف دیں۔ اس وقت بھی بیوروکریسی کہتی تھی، یہ ہو جائے گا وہ ہو جائے گا ۔ حکومت عوام کا سامنا نہیں کرسکتی۔ وزیراعظم لوگوں کے سامنے نہیں جاسکتے۔
انہوں نے کہا، ہندوستان میں پیٹرول کی قیمتیں پاکستان سے کم ہیں۔حکومت نے غیر ضروری طور پر قیمتوں میں اضافہ کیا۔حکومت محدود اضافہ کرسکتی تھی۔
تیمور سلیم جھگڑا نے کہا، اگر معیشت بہتر کی ہوتی تو ناگہانی صورتحال میں پیٹرول پر ٹیکس میں اضافہ نہ کرنا پڑتا۔ایف بی آر ٹیکس اکھٹا کرنے میں ناکام ہے۔ ٹیکس ریونیو میں شارٹ فال مکمل کرنا ہے۔ عوام کو کفایت شعاری کا کہا جارہا ہے۔خود مہنگے ترین جہاز خریدے گئے۔ہر مرتبہ ٹیکس شارٹ فال غریب عوام کی جیبوں سے نکالا جاتا ہے۔ اس کا اثر صرف عوام پر ہوگا۔زراعت کا شعبہ متاثر ہوگا۔
انہوں نے کہا، دیگر ممالک نے پیٹرول کی قیمت منجمند کرنے کے لیے کئی سالوں سے پلاننگ کی۔ حکومت کی ترجیحات کچھ اور ہیں۔
حکومت آئی ایم ایف کے دباؤ میں آگئی ہے۔