جنگ دو ہفتوں میں بنٹانے کی بات؛ آپ کا ذہن کام نہیں کر رہا
Stay tuned with 24 News HD Android App
(ویب ڈیسک)امریکی انٹیلی جنس نے کہا ہے کہ ایران کے تقریباً نصف میزائل لانچرز ابھی تک برقرار ہیں۔
امریکہ کی انتیلی جنس کا یہ تخمینہ اسرائیل سے مختلف ہے، یہ ممکنہ طور پر ان میزائل لانچروں کو شمار نہ کرنے کی وجہ سے جو محض ناقابل رسائی ہیں۔ اسرائیل کا تخمینہ ہے کہ ایران کے آدھے سے کچھ زیادہ میزائل لانچر ناکارہ یا ناقابل استعمال ہو چکے ہیں اور تقریباً 40 فیصد میزائل لانچر اب تک مھفوظ اور قابلِ استعمال ہیں۔ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ اسرائیل ایران کے خلاف 'ٹیم پلیئر' ہے، 'جب میں روکوں گا تو اسرائیل رک جائے گا۔
امریکی انٹیلی جنس نے اندازہ لگایا ہے کہ پورے ملک میں ایک ماہ سے زائد امریکی اور اسرائیلی بمباری کے باوجود ایران کے تقریباً آدھے بیلسٹک میزائل لانچر ابھی تک برقرار ہیں، سی این این نے جمعہ کے اوائل میں اس انٹیلی جنس تخمینے سے واقف تین ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے رپورٹ کیا۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بقیہ میزائل لانچروں میں سے کچھ کے بارے میں خیال نہیں کیا جا رہا ہے کہ وہ فضائی حملوں کی لہروں کے درمیان ملبے کے نیچے دب گئے ہیں۔
اسرائیل نے مارچ میں کہا تھا کہ اس نے ایران کے 470 بیلسٹک میزائل لانچروں میں سے 60 فیصد کو تباہ یا ناکارہ کر دیا ہے۔ تاہم، رپورٹ میں اشارہ کیا گیا کہ دونوں اندازوں کے درمیان فرق کو اسرائیل اور امریکہ کے لانچروں کی درجہ بندی کرنے کے طریقہ کار میں فرق پر رکھا جا سکتا ہے، کچھ ایسے میزائل لانچر ہیں جو برقرار تو ہیں لیکن ناقابل رسائی ہیں۔ اسرائیل نے ان کو بھی ناکارہ میں شمار کیا ہے۔
مارچ میں اسرائیل کے جائزے کے مطابق، حملوں میں تقریباً 200 لانچرز تباہ ہو گئے تھے، جب کہ دیگر 80 کو زیرِ زمین اڈوں کے داخلی راستوں پر اور سرنگوں پر حملہ کرنے کے بعد باہر نکل کر حملوں میں استعمال ہونے کے قابل نہیں چھوڑا۔ ایسے کچھ میزائل لانچر زیر زمین اڈوں میں موجود تو ہیں لیکن ان کو عمل میں نہیں لایا جا رہا ہے۔ وہ تباہ تو نہیں ہوئے لیکن وہ محفوظ ہیں۔
ہزاروں حملہ آور ڈرون ایران کے ذخائر میں موجود
امریکہ کی اس انٹیلی جنس رپورٹ میں تو نہیں کہا گیا لیکن امریکی انٹیلی جنس کے الگ سے کئے گئے جائزوں نے یہ بھی اشارہ کیا ہے کہ ایران کے پاس اب بھی ہزاروں حملہ آور ڈرونز کا ذخیرہ ہے اور استعمال کے لیے تیار ہے۔
آبنائے ہرمز کو بلاک کرنے والے کروز میزائل زیادہ تر محفوظ
ایران کے پاس اپنے ساحلی دفاعی کروز میزائلوں کا "بڑا حصہ" بھی محفوظ ہے، جو آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کے لیے ایران کے خطرات میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔
سینکڑوں کشتیاں محفوظ، آبنائے ہرمز کو بلاک کرنے والی پاسداران کی بحری فورس آدھی برقرار
امریکی انٹیلی جنس ذرائع نے بتایا کہ جب کہ ایران کی بحریہ کو بڑے پیمانے پر تباہ کر دیا گیا ہے، اسلامی پاسداران کی بحری افواج کے پاس اب بھی تقریباً نصف صلاحیتیں برقرار ہیں، جن میں "سینکڑوں، اگر ہزاروں نہیں تو سینکڑوں بہرحال چھوٹی کشتیاں اور بغیر پائلٹ کے چلنے والے سمندری جہاز شامل ہیں۔"
آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کو بلاک کرنے کے لئے پاسداران کی بحری فورس ہی بڑی حد تک ذمہ دار ہے۔
دو ہفتوں میں" نبٹانے" کی بات ؛ آپ کا ذہن کام نہیں کر رہا
سی این این نے اپنی رپورٹ میں لکھا کہ ایک ذریعہ نے خبردار کیا کہ ایران "اب بھی پورے خطے میں مکمل تباہی پھیلانے کے لیے تیار ہے۔"
جہاں تک 'جنگ کے مقاصد' کو حاصل کرنے کا تعلق ہے، ذرائع نے کہا: "ہم ان کو حاصل کر سکتے ہیں، مجھے اس میں کوئی شک نہیں، لیکن اگر آپ کو لگتا ہے کہ یہ دو ہفتوں میں ہو جائے گا تو آپ کا ذہن کام نہیں کر رہا۔"
وہ تو کامیاب ہے، وائت ہاؤس ترجمان کی ضِد
وائٹ ہاؤس نے سی این این کی رپورٹ پر تبصرہ کرنے کی درخواست کا جواب دیا کہ "گمنام ذرائع صدر [ڈونلڈ] ٹرمپ پر حملہ کرنا چاہتے ہیں اور امریکی فوج کے ناقابل یقین کام کو نیچا دکھانا چاہتے ہیں"۔
"یہ حقائق ہیں: ایرانی بیلسٹک میزائل اور ڈرون حملے تقریباً 90 فیصد کم ہو چکے ہیں، ان کی بحریہ کا صفایا ہو چکا ہے، ان کی دو تہائی پیداواری تنصیبات کو نقصان پہنچا یا تباہ کر دیا گیا ہے، اور امریکہ اور اسرائیل کا ایران پر زبردست فضائی تسلط ہے،"وائٹ ہاؤس کی ترجمان اینا کیلی نے کہا۔
فوجی مقاصد پورے کرنے میں ہدف سے آگےہیں، پینٹاگون کی ضِد
پینٹاگون کے ترجمان شان پارنیل نے کہا کہ (سی این این کی رپورٹ) مضمون "مکمل طور پر غلط" تھا۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ "ایران کے میزائل ہتھیاروں کو تباہ کرنے" سمیت "اپنے فوجی مقاصد کو پورا کرنے میں مقررہ وقت سے بہت آگے ہے۔"
جنگ کے آغاز کے بعد سے، ایران نے اسرائیل پر 500 سے زیادہ بیلسٹک میزائل داغے ہیں، اسرائیل کی دفاعی افواج نے آبادی والے علاقوں اور کلیدی انفراسٹرکچر کی طرف جانے والے حملوں میں 92 فیصد مداخلت کی شرح کی اطلاع دی ہے۔
سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، بحرین بھی مسلسل ایرانی میزائلوں اور ڈرونز کے حملوں کا سامنا کر رہے ہیں۔
تمام ملکوں میں ایران کے میزائلوں اور ڈرونز کو انٹرسیپٹ کر لینا الگ ہے اور ان ملکوں پر میزائل اور ڈرون کے حملوں کا تسلسل امریکہ کی انٹیلی جنس رپورٹ کے مواد کی تصدیق کرتا ہے کہ ایران کی میزائل لانچنگ کی صلاحیت آدھی برقرار ہے۔
مجموعی طور پر، سینکڑوں کلو گرام دھماکہ خیز مواد کے ساتھ روایتی وار ہیڈز لے جانے والے 12 میزائلوں نے اسرائیل کے آبادی والے علاقوں کو نشانہ بنایا، جس سے وسیع پیمانے پر نقصان ہوا۔ کلسٹر بم وار ہیڈز لے جانے والے میزائلوں کے آبادی والے علاقوں کو نشانہ بنانے کے 30 سے زیادہ واقعات بھی ہوئے ہیں، جن میں 200 سے زیادہ الگ الگ جگہوں پر امپیکٹ کی تصدیق ہو چکی ہے۔
ٹرمپ: اسرائیل 'ٹیم پلیئر' ہے، 'جب میں روکوں گا تو رک جائے گا'
ٹرمپ نے جمعرات کو کہا کہ اگر اسرائیل جنگ ختم کرنے کا فیصلہ کرتا ہے تو وہ ان کے احکامات پر عمل کرے گا اور فائر بند کر دے گا۔
"وہ وہی کریں گے جو میں ان سے کہوں گا،" ٹرمپ نے ایک انٹرویو میں ٹائم میگزین کو بتایا، جو وائٹ ہاؤس سے اس تنازعے کے بارے میں پرائم ٹائم تقریر کے بعد صبح دیا گیا تھا۔ "وہ ٹیم کے اچھے کھلاڑی رہے ہیں۔ جب میں رکوں گا تو وہ رک جائیں گے۔"
"وہ رک جائیں گے، جب تک کہ انہیں اکسایا نہیں جاتا، اس صورت میں، ان کے پاس کوئی چارہ نہیں ہوگا، لیکن جب میں روکوں گا تو وہ رک جائیں گے،" انہوں نے مزید کہا۔
ٹائم میگزین کی کہانی - اس بات کا ایک طویل بیان ہے کہ کس طرح ٹرمپ نے اسرائیل کے ساتھ مل کر جنگ شروع کرنے کا فیصلہ کیا اور اب امریکہ میں جنگ کی غیر مقبولیت کے پیش نظر ان کی جنگ کو دور کرنے کی کوششیں - نے ایک نامعلوم اسرائیلی اہلکار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کے پاس ٹرمپ کی حمایت کے بغیر تدبیر کرنے کی بہت کم گنجائش ہے۔
ٹائم کےمضمون میں ایران پر طویل حملے میں شامل ہونے کے لیے ٹرمپ کے لیے نیتن یاہو کی لابنگ کا ذکر کیا گیا ہے۔
ایک نامعلوم ذریعہ کا حوالہ دیتے ہوئے، جو نیتن یاہو کی واشنگٹن میں ٹرمپ سے ایک گھنٹے طویل ملاقات کے دوران کمرے میں موجود تھا، ٹائم نے کہا کہ وزیر اعظم نیتن یاہو نے امریکی صدر سے کہا، "ڈونلڈ، ہم یہاں تک پہنچ چکے ہیں، ہمیں، جو ہم نے شروع کیا تھا، اسے ختم کرنا ہے،" یہ دلیل دیتے ہوئے کہ تہران وقت کے ساتھ کھیل رہا تھا اور خفیہ طور پر جوہری بم کی طرف دوڑ تا ہوا جا رہا تھا۔
نیتن یاہو کے ساتھ کراؤن پرنس محمد بن سلمان بھی نتائج چاہتے ہیں
ٹائم کے مطابق، نیتن یاہو اور سعودی ولی عہد محمد بن سلمان دونوں ٹرمپ پر زور دے رہے ہیں کہ وہ لڑائی کو جاری رکھیں جب تک کہ ایران مزید کمزور نہیں ہو جاتا، حالانکہ دونوں تسلیم کرتے ہیں کہ انہیں امریکی صدر کی ٹائم لائن کو موخر کرنا چاہیے۔
ٹائم کےآرٹیکل میں کہا گیا ہے کہ صدر خود ایک راستہ چاہتے ہیں، لیکن وہ ایسے نتائج کو روکنے کے لیے بھی پرعزم ہیں جس سے ایران سڑک پر جوہری بم تیار کرنے کے قریب پہنچ جائے۔
ٹرمپ، لیکس leaks پر غصے میں، منصوبوں کے بارے میں کچھ عملے سے جھوٹ بولا
ٹائم میگزین نے یہ بھی اطلاع دی ہے کہ صدر ٹرمپ اپنی انتظامیہ کے کچھ اہلکاروں پر ایران پر منصوبہ بند حملے کے بارے میں معلومات لیک کرنے پر ناراض تھے۔
27 فروری کو مار-اے-لاگو مین ہونے والی میٹنگ میں، ٹرمپ نے فیصلہ کیا کہ وہ کمرے میں موجود ہر شخص پر اعتماد نہیں کرتے۔ "انہوں نے سوچا کہ یہ گروپ بہت بڑا ہے،" ایک اہلکار نے ٹائم کو بتایا، میٹنگ میں وہ لوگ شامل تھے جنہیں ٹرمپ نہیں پہچانتے تھے، یا محسوس کرتے تھے کہ وہ ان کو اچھی طرح سے نہیں جانتے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ میٹنگ میں صدر ٹرمپ نے جان بوجھر کر جھوٹا اعلان کیا کہ وہ آپریشن ختم کر دیں گے، جب کہ حقیقت میں وہ اسی رات حملہ کرنے کا فیصلہ کر چکے تھے۔
رپورٹ میں کہا گیا کہ جعلی معلومات (میٹنگ میں موجود ناقابل اعتبار اہلکاروں کے سامنے رکھنے) کے بعد، صدر نے بہت کم بھروسہ مند اہلکاروں کو آئندہ حملوں کی تیاری کے لیے ہونے والے اجلاسوں میں شریک کیا۔
اس کہانی میں گزشتہ اطلاعات کی بازگشت بھی سنائی دیتی ہے کہ وائٹ ہاؤس کو ابتدائی امریکی اسرائیلی حملے پر ایران کے ردعمل کی بے رحمی سے حیرت ہوئی تھی۔ اس نے امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ سے واقف ایک شخص کا حوالہ دیا، جس نے کہا کہ ہیگستھ (ایران کے جوابی حملوں کے) کسی دفاع کی پوزیشن میں نہیں تھے، یہ کوئی سوال ہی نہیں ہے۔"
پینٹاگون نے البتہ ہیگستھ کے جوابی حملے کے امکانات سے نا آگاہ ہونے کے اس اکاؤنٹ کو مسترد کر دیا، ہیگستھ کے ترجمان شان پارنیل نے ٹائم کو بتایا کہ فوج جنگ شروع ہونے سے پہلے ہی "متوقع، جنگی کھیل اور ہر ممکنہ ایرانی ردعمل کے لیے پوری طرح تیار" تھی۔
یہ بھی پڑھیئے: ایران سے مذاکرات کیلئے تیار ہیں: امریکہ
یہ بھی پڑھیں: فوری معاہدہ کرو ورنہ سب کچھ مٹ جائے گا، ٹرمپ کی ایران کو پھر وارننگ