سیارہ زحل پر سمندر، زندگی کے ثبوت دریافت

Oct 02, 2025 | 14:21:PM
 سیارہ زحل پر سمندر، زندگی کے ثبوت دریافت
کیپشن: فائل فوٹو
سورس: گوگل
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(24 نیوز)ہمارے نظام شمسی کے سیارے زحل کے برفیلے خول میں چھپے ہوئے سمندر نے دنیا بھر کے سائنسدانوں کی توجہ ایک بار پھر اپنی جانب مبذول کرائی ہے۔

 ایک حالیہ مطالعے کے مطابق، زحل کے اس چھوٹے سے چاند ’’اینسیلیڈس‘‘ کے زیرِ سطح سمندر میں پیچیدہ آرگینک مالیکیولز کی موجودگی کا ٹھوس ثبوت ملا ہے۔

اینسیلیڈس یہ ایک چھوٹا، برف سے ڈھکا ہوا چاند ہے، جو اپنی برف کی موٹی تہہ کے نیچے ایک وسیع نمکین پانی کا سمندر چھپائے ہوئے ہے۔

 اسی سمندر کی وجہ سے یہ سائنسدانوں کے لیے زندگی کی تلاش کے حوالے سے نظام شمسی کے سب سے اہم مقامات میں سے ایک بن چکا ہے۔

اس کا قطر تقریباً 500 کلومیٹر ہے،صرف آنکھ سے یہ چاند نظر نہیں آتا،ایک طویل عرصے تک یہ خیال کیا جاتا تھا کہ سورج سے زیادہ دوری کی وجہ سے یہ چاند زندگی کے لیے بہت ناموزوں ہے۔

تاہم، 2004 سے 2017 کے درمیان زحل کا چکر لگانے والے ’’کیسینی خلائی جہاز‘‘ نے اپنے مشن کے دوران کئی بار اینسیلیڈس کے قریب سے پرواز کی۔

 اس کے نتیجے میں یہ حیران کن انکشاف ہوا کہ چاند کی کئی کلومیٹر موٹی برف کی تہہ کے نیچے نمکین پانی کا ایک وسیع سمندر موجود ہے۔

 کیسینی کے جمع کردہ ڈیٹا کا مسلسل تجزیہ جاری ہے، اور اب تک یہ ظاہر ہو چکا ہے کہ زحل کے چاند اینسیلیڈس، سمندری زندگی کے لیے ضروری سمجھے جانے والے کئی عناصر سے مالا مال ہے۔  

جب اسپیس پروب کیسینی نے چاند کے جنوبی قطب کے اوپر سے پرواز کی، تو اس نے سطح پر موجود دراڑوں سے پانی کے فواروں کو خلا میں نکلتے ہوئے دیکھا۔

  فوارے ریت کے دانے سے بھی چھوٹے برف کے ذرات خلا میں پھینک رہے تھے، ان ذرات میں سے کچھ تو واپس چاند کی سطح پر گر گئے، مگر باقی زحل کے ای رنگ’ کا حصہ بن گئے۔

یہ بھی پڑھیں:جماعت اسلامی کا غزہ صمود فلوٹیلا پر حملے کیخلاف کل ملک گیر احتجاج کا اعلان

 فری یونیورسٹی آف ہیمبرگ سے تعلق رکھنے والے سائنسدان مرکزی مصنف نوزیر خواجہ کے مطابق، جب کیسینی اس ’’ای رنگ‘‘ سے گزرتا تھا تو اسے اینسیلیڈس کے نمونے   ملتے رہتے تھے۔

 ان نمونوں میں پہلے بھی سالمات کی نشاندہی ہوئی تھی، لیکن ان کے بارے میں یہ خدشہ تھا کہ خلا میں طویل عرصے تک رہنے اور شعاعوں سے متاثر ہونے کے بعد ان کی اصلیت بدل گئی۔

 سائنسدانوں کو تازہ ترین اور غیر متاثر نمونوں کی ضرورت تھی ،خوش قسمتی سے، کیسینی اسپیس پروب نے 2008 میں براہ راست چاند کی سطح سے نکلنے والے فوارے کے اندر پرواز کی تھی۔

 اس وقت، برف کے ذرات تقریباً 18 کلومیٹر فی سیکنڈ کی رفتار سے کیسینی کے کاسمک ڈسٹ اینالائزرسے ٹکرائے۔

ان ذرات کا تفصیلی کیمیائی تجزیہ ایک پیچیدہ عمل تھا جس میں کئی سال لگ گ، رسالے ’نیچر ایسٹرونومی‘ میں شائع ہونے والے اس مطالعے کا موضوع یہی تجزیہ تھا۔

 مطالعے کے شریک مصنف فرینک پوسٹ برگ نے تصدیق کی ہے کہ یہ تحقیق ثابت کرتی ہے کہ کیسینی نے زحل کے  ای رنگ میں جن پیچیدہ نامیاتی سالمات کا پتہ لگایا تھا۔

 وہ صرف خلا میں لمبے عرصے تک رہنے کا نتیجہ نہیں ہیں، بلکہ وہ اینسیلیڈس کے سمندر میں پہلے سے ہی باآسانی دستیاب ہیں۔

فریسی نیٹ نے یہ بھی نشاندہی کی کہ اے آئی جیسی جدید ٹیکنالوجی پرانے ڈیٹا کا نئے سرے سے تجزیہ کرنے میں سائنسدانوں کی مدد کر رہی ہے۔

تاہم، اینسیلیڈس میں اصل میں کیا ہو رہا ہے، اس کا سب سے بہترین اندازہ لگانے کے لیے ایک نئے مشن کی ضرورت ہے، جو اس برفیلے فوارے کے قریب اتر کر نمونے جمع کرے۔

 یورپی سپیس ایجنسی اس طرح کے ایک مشن کے امکانات کا جائزہ لے رہی ہے۔