تنخواہ دار طبقےکو ریلیف کیلئے بچت سکیموں اور بینک ڈپازٹ پر ٹیکس میں 2 فیصد اضافے پر غور
Stay tuned with 24 News HD Android App
(ویب ڈیسک )عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف )کی رضامندی سے تنخواہ دار اور دیگر شعبوں کو ریلیف فراہم کرنے کی کوشش، ایف بی آر کمرشل بینکوں اور بچت سکیموں میں رکھے گئے ڈپازٹس پر حاصل ہونے والی سود کی آمدنی پر ٹیکس کی شرح میں 2فیصد اضافے پر غور کر رہا ہے۔
آئندہ مالی سال 2025-26 کے بجٹ میں فائلرز اور نان فائلرز دونوں کے لیے ٹیکس کی شرح میں اضافے کی تجویز دی گئی ہے۔
ایک اعلیٰ عہدیدارکے مطابق آئی ایم ایف نے ابھی اس تجویز کی حتمی منظوری نہیں دی ہے ‘ آئی ایم ایف نے تنخواہ دار طبقے اور دیگر شعبوں کو ریلیف فراہم کرنے کی صورت میں پیدا ہونے والے خسارے کو پورا کرنے کے لیے مختلف ٹیکس تجاویز کی تفصیلات طلب کی ہیں، جہاں رسمی شعبوں کا حجم سکڑ رہا ہے، جس کے نتیجے میں آئی ایم ایف پروگرام کے تحت گزشتہ مالی سال 2024-25 کے بجٹ میں عائد کی گئی بھاری شرحوں کے بعد ٹیکس ریونیو کی وصولی میں کمی واقع ہوئی ہے۔
ایف بی آر کے سابق ممبر ٹیکس پالیسی ڈاکٹر محمد اقبال کے مطابق اگر اس ٹیکس کی شرح میں اضافہ کیا گیا تو اس سے اُن لوگوں کی زندگی مشکل ہو جائے گی جو بینکوں اور سیونگز اسکیموں میں اپنی جمع شدہ رقم سے حاصل ہونے والی سودی آمدن پر منحصر ہیں‘ اسی طرح، کمرشل بینکوں کو بھی نقصان ہوگا کیونکہ ان کی جمع شدہ رقوم میں کمی آ سکتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:بابر اعظم کو انسٹاگرام پر اَن فالو کیوں کیا؟سلمان علی آغا نے جواب دیدیا۔۔۔۔
ایک اعلیٰ عہدیدار نےبتایا کہ یہ غیر فعال آمدنی پر ٹیکس کی شرح بڑھانے کے طریقوں میں سے ایک ہے، کیونکہ افراد کے ساتھ ساتھ کمپنیاں بھی کمرشل بینکوں اور بچت اسکیموں میں پیسہ لگاتی ہیں۔ فائلرز کے لیے سود کی آمدنی پر موجودہ ٹیکس کی شرح 15 فیصد تھی، جبکہ نان فائلرز کے لیے یہ بڑھا کر 35 فیصد کر دی گئی تھی۔
آئندہ بجٹ میں فائلرز اور نان فائلرز دونوں کی غیر فعال آمدنی پر ٹیکس کی شرح میں 2 فیصد اضافہ زیر غور ہے۔ رابطہ کرنے پر، ایف بی آر کے سابق ممبر ٹیکس پالیسی ڈاکٹر محمد اقبال نے کہا کہ سود کی آمدنی پر 15 فیصد کی شرح پہلے ہی کافی زیادہ تھی کیونکہ بینک ڈپازٹس جن پر بینکوں سے آمدنی حاصل ہوتی تھی وہ بھی ایسی آمدنی سے پیدا ہوتی تھی جو کمانے کے وقت پہلے ہی ٹیکس کے تابع تھی۔
مزید برآں انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ 15 فیصد کی یہ شرح صرف اُن افراد پر لاگو ہوتی ہے جن کی سالانہ سودی آمدن 50 لاکھ روپے تک محدود ہو۔ انہوں نے وضاحت کی کہ اگر سودی آمدن 50 لاکھ روپے سالانہ سے تجاوز کر جائے تو پھر مجموعی آمدن (بشمول سودی آمدن) پر معمول کے مطابق قابل اطلاق ٹیکس شرح لاگو ہوتی ہے، اور پوری آمدن پر وہی عمومی ٹیکس ادا کرنا پڑتا ہے۔
مزید پڑھیں:جون میں جنوری کے نظارے،پہاڑوں پر بھی سفیدی چھا گئی۔۔۔
کمپنیوں کی جانب سے حاصل کی جانے والی سودی آمدن پر بھی کمپنیوں کے معمول کے ٹیکس کی شرح کے تحت ٹیکس عائد ہوتا ہے، جو کہ 29 فیصد کے علاوہ سرچارج اور سپر ٹیکس پر مشتمل ہوتا ہے۔
اگر اس ٹیکس کی شرح میں اضافہ کیا گیا تو اس سے اُن لوگوں کی زندگی مشکل ہو جائے گی جو بینکوں اور سیونگز اسکیموں میں اپنی جمع شدہ رقم سے حاصل ہونے والی سودی آمدن پر منحصر ہیں۔ وہ پہلے ہی پالیسی ریٹ میں کمی کی وجہ سے بینکوں سے ملنے والے منافع میں کمی کا سامنا کر رہے ہیں۔ اسی طرح، کمرشل بینکوں کو بھی نقصان ہوگا کیونکہ ان کی جمع شدہ رقوم میں کمی آ سکتی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ڈیویڈنڈ پر ٹیکس کی شرح 15 فیصد تھی، تو حکومت ایک اور بگاڑ پیدا کرنے پر کیوں غور کر رہی ہے؟ ۔
علاوہ ازیں ایف بی آ ر نے بینکوں سے نقد رقم نکالنے پر ودہولڈنگ ٹیکس کی شرح کو نان فائلرز کیلئے 0.6 فیصد سے بڑھا کر 1.2 فیصد کرنے کی تجویز پیش کی ہے،یہ تجویز مالی سال 2025-26 کے دوران اضافی ٹیکس ریونیو پیدا کرنے کے لیے دی گئی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت کے اس اقدام کا مقصد ان لوگوں کے لئے مالی سرگرمیوں کو مشکل بنانا ہے جو ٹیکس ریٹرن فائل نہیں کرتے ہیں تاکہ وہ بھی ٹیکس نیٹ کے تحت آجائیں۔
اس سلسلے میں حکومت یکم جولائی 2025 سے نان فائلرز کی کٹیگری کو ختم کرنے پر غور کر رہی ہے،یعنی ایسے افرادکسی بھی قسم کامالی لین دین نہیں کر سکیں گے۔
اس سلسلے میں قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ و محصول نے ٹیکس قوانین ترمیمی بل 2024” کی رپورٹ کی منظوری دے دی ہے جس کے تحت نان فائلرز کی معاشی سرگرمیوں پر سخت پابندیاں عائد کی جائیں گی اور ان تمام اقدامات کو آئندہ مالیاتی بل 2025-26 کے ذریعے نافذ کیا جائے گا۔
ایف بی آر اب انکم ٹیکس ریٹرن ڈیٹا کو بینکوں کے ساتھ شیئر کرے گا تاکہ نان فائلرز کی شناخت کو آسان بنایا جا سکے۔
فی الحال نان فائلرز سے 0.6 فیصدٹیکس وصول کیا جاتا ہے اگر وہ ایک دن میں 50،000 روپے سے زیادہ نکالنے کی کوشش کرتے ہیں چاہے اے ٹی ایم کے ذریعے ہو یا کریڈٹ کارڈ کے ذریعے اس شرح کو اب دوگنا کرکے 1.2 فیصد کرنے کی تجویز دی جارہی ہے۔