وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے پشاور رنگ روڈ ناردرن سیکشن پیکج ون کا افتتاح کر دیا
Stay tuned with 24 News HD Android App
(ملک رحمان) وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے پشاور رنگ روڈ ناردرن سیکشن پیکج ون کا افتتاح کر دیا۔
تفصیلات کے مطابق منصوبے کے تحت 2.1 کلومیٹر طویل مسنگ لنک 2 ارب روپے کی لاگت سے مکمل کیا گیا ہے۔رنگ روڈ ورسک روڈ تا ناصر باغ روڈ کے 3 پیکجز پر کام جاری ہے۔ناردرن سیکشن فیز ون کی مجموعی لاگت 9.6 ارب روپے ہے۔مسنگ لنک فیز ٹو اور فیز تھری کے ٹینڈرز جاری ہو چکے ہیں۔ پشاور ری وائیٹلائزیشن منصوبے کے تحت 200 ارب میں سے 171 ارب روپے کے منصوبے منظور ہو چکے ہیں۔
وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کہاکہ رنگ روڈ کے مسنگ لنک کا پیکج ون مکمل ہو چکا ہے جبکہ دیگر پیکجز پر بھی تیزی سے کام جاری ہے۔پشاور ری وائیٹلائزیشن منصوبہ 200 ارب روپے مالیت کا ایک جامع ترقیاتی پیکج ہے جس سے شہر کی مجموعی صورتحال بہتر ہوگی۔پی ٹی آئی کی حکومت نے پشاور کے عوام کو پہلے بی آر ٹی اور اب ری وائیٹلائزیشن منصوبے کا تحفہ دیا ہے۔
سہیل آفریدی کاکہناتھا کہ پشاور صوبے کا دارالحکومت ہے اور اس کی خوبصورتی پورے صوبے کی عکاسی کرتی ہے۔آؤٹر رنگ روڈ منصوبے کی فزیبلٹی سٹڈی بھی جلد مکمل ہو جائے گی۔
ان کاکہناتھا کہ ری وائیٹلائزیشن منصوبے پر تنقید کرنے والوں کو کھلا چیلنج ہے کہ اگر کرپشن کے ثبوت ہیں تو سامنے لائیں، فوری کارروائی کی جائے گی۔ این ایف سی شیئر غیر آئینی طور پر تقسیم ہو رہا ہے اور ضم اضلاع کو ان کا حق نہیں دیا جا رہا۔اگر این ایف سی کو ری وائز کیا جائے تو خیبرپختونخوا کا حصہ 14.6 فیصد سے بڑھ کر 19 فیصد ہو سکتا ہے۔
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے کہاکہ صوبے کے تقریباً 500 ارب روپے سالانہ دیگر جگہوں پر تقسیم کیے جا رہے ہیں اور اب خیبرپختونخوا کے حقوق کیلئے ایک نئے دور کا آغاز کیا جا رہا ہے، جس کے لیے تمام سیاسی جماعتوں کو ساتھ لے کر چلیں گے۔
ان کاکہناتھا کہ خیبرپختونخوا 400 ایم ایم سی ایف ڈی گیس پیدا کر رہا ہے جس میں سے صرف 150 استعمال ہوتی ہے جبکہ باقی 250 دیگر صوبوں کو دی جا رہی ہے۔حالانکہ آئین کے مطابق پہلا حق صوبے کا ہے۔ اسی طرح بجلی کی پیداوار بھی ضرورت سے زیادہ ہے اور اضافی بجلی دیگر صوبوں کو فراہم کی جا رہی ہے۔اے جی این قاضی فارمولے کے تحت خیبرپختونخوا کو سالانہ 36 ارب جبکہ پنجاب کو 65 ارب روپے دیے جا رہے ہیں، جو ناانصافی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: