کانسٹیٹیوشن ایونیو خالی کرانے کا معاملہ، طلال چوہدری نے حقائق بتادئیے

May 01, 2026 | 15:21:PM
 کانسٹیٹیوشن ایونیو خالی کرانے کا معاملہ، طلال چوہدری نے حقائق بتادئیے
کیپشن: فائل فوٹو
سورس: گوگل
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

( ویب ڈیسک) وزیر مملکت داخلہ طلال چوہدری نے کانسٹیٹیوشن ایونیو خالی کرانے کے معاملے پر حقائق بتاتے ہوئے کہا ہے کہ وفاقی دارالحکومت میں غریب ہو یا امیر، سب کے ساتھ ایک جیسا سلوک کیا جائے گا۔

 تفصیلات کے مطابق وزیر مملکت طلال چوہدری نے نیوز کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ یہ کھیل 2005 سے شروع ہوا اور گزشتہ 20سال میں ریاست اپنی رِٹ قائم نہیں کرسکی اور ریاست اب رِٹ قائم کرنے کے پیچھے پیچھے ہے۔ لیز لینے والی کمپنی تعلقات کی وجہ سے اس عمارت پر قابض رہی۔

نیوز کانفرنس کے دوران طلال چوہدری نے کہا کہ کمپنی نے لوگوں کو جھانسہ دیا اور بینکوں سے قرضے لیے۔ 2005 میں اس پلاٹ کی نیلامی کی گئی جسے بی این پی کمپنی نے خریدا اور 4.8ارب روپے کی لیز فائیو اسٹار ہوٹل کیلئے لی۔ حکومت تجاوزات کے خاتمے کیلئے بلا تفریق کام کر رہی ہے۔

 یہ بھی پڑھیں:خطے میں نیا تنازع؟یو اے ای نے ایران کو خبردار کر دیا

یاد رہے کہ اس سے قبل وفاقئ دارالحکومت اسلام آباد میں شاہراہِ دستور پر موجود عمارت خالی کرانے کیلئے پولیس کی بھاری نفری کانسٹیٹیوشن ایونیو پہنچ گئی۔پولیس کارروائی کے دوران عمارت میں موجود اپارٹمنٹس کے دروازے توڑ دئیے گئے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق رات گئے پولیس کے ذریعے عمارت خالی کرانے کے احکامات دئیے گئے۔ ایک رہائشی کا کہنا ہے کہ چند پولیس اہلکار عمارت کو آج شام تک خالی کرنے کی ہدایت کررہے ہیں۔ اسلام آباد ہائیکورٹ نے اس عمارت کی لیز منسوخی کی درخواستیں بھی خارج کردی تھیں۔