سوشل میڈیا پر وائرل کہانی جو آپ کو رلا دے گی
Stay tuned with 24 News HD Android App
(ویب ڈیسک) فیس بک ، انسٹا گرام اور یو ٹیوب پر ایک ایک دل کو چھونے والی کہانی کو لوگ بہت پسند کر رہے ہیں ، اس میں بتایا گیا ہے کہ سال 1979 میں رچرڈ ملر نامی شخص نے 9 سیاہ فام بچیوں کو گود لیا جنہیں کوئی نہیں چاہتا تھا لیکن46 سال بعد جو ہوا وہ آپ کو رُلا دے گے۔
سن 1979 میں رچرڈ ملر کی دنیا تب چکناچور ہوگئی جب اُس کی بیوی این ہمیشہ کے لیے دنیا چھوڑ گئیں۔ وہ گھر جو کبھی ہنسی، امید اور آنے والے بچوں کے خوابوں سے بھرا رہتا تھا، اچانک ویران ہوگیا۔ دوستوں نے کہا وہ دوبارہ شادی کر لے، مگر این کے آخری الفاظ نے اُس کی زندگی بدل دیے
’’محبت کو میرے ساتھ مرنے نہ دینا… اسے آگے بڑھنے کے لیے کوئی راستہ دینا‘‘۔
ایک طوفانی رات وہ قسمت کے ہاتھوں سینٹ میری یتیم خانے تک پہنچا۔ وہاں اُس نے نو چھوٹی سیاہ فام بچیوں کو دیکھا سب ایک ساتھ چھوڑ دی گئی تھیں، سب کی آنکھوں میں خوف اور تنہائی تھی۔ کوئی بھی انہیں اکٹھا گود لینے کے لیے تیار نہیں تھا۔ ہر طرف یہی فیصلہ تھا کہ انہیں الگ کرنا ضروری ہے۔
لیکن رچرڈ اُن کے سامنے جھکا، آنکھوں میں آنسو تیرنے لگے، اور دھیمی آواز میں کہہ دیا کہ ’’میں انہیں لے جاؤں گا… ایک بھی کم نہیں‘‘۔
لوگوں نے اُسے پاگل کہا۔سوشل ورکرز نے شک کیا۔رشتہ داروں نے مذاق اُڑایا۔اور ہمسائے سرگوشیاں کرنے لگے۔’’ایک سفید فام مرد نو سیاہ فام بچیوں کی پرورش کیوں کرے گا؟”۔
مگر محبت نے رچرڈ کے قدم نہیں روکے۔اُس نے اپنا سب کچھ بیچ دیا، ڈبل شفٹیں کیں، اور اپنے ہاتھوں سے نو چھوٹے پالنے تیار کیے۔راتیں دودھ کی بوتلیں، لوریاں، اور کچن کی مدھم روشنی میں ننھی چوٹیاں بنانے میں گزرتی تھیں۔مشکلات بے شمار تھیں…لیکن محبت، ہنسی اور این کی یادیں اُن کا سہارا تھیں۔
سارہ کی کھنکتی ہنسی…ناؤمی کی شرارتیں…لیاہ کا نرم دل…
ایک ایک کر کے یہ بچیاں پروان چڑھیں کسی نے ٹیچر بن کر نسلیں بدلیں، کسی نے نرس بن کر مسیحائی کی، کسی نے ماں بن کر محبت کو آگے بڑھایا مگر سب ایک بات نہیں بھولیں کہ اُس شخص نے انہیں اپنایا تھا جب دنیا انہیں ٹھکرا چکی تھی۔
آج، 2025 میں، جب رچرڈ اپنی نو روشن بیٹیوں کو اپنے گرد بیٹھی دیکھتا ہے، تو اسے محسوس ہوتا ہے کہ این کا خواب پورا ہوگیا،وہ محبت جو این نے اُس کے سپرد کی تھی، آج نو جگمگاتی زندگیاں بن کر اس کے سامنے ہے۔اور یہ صرف محبت تھی۔ایک ایسی محبت جو مذہب، نسل، رنگ، قبیلے، شہر اور ملک سب سے اونچی ثابت ہوئی۔یہ انسانیت کی وہ روشنی ہے جو کسی سرحد کو نہیں مانتی۔
یہ بھی پڑھیں:عازمین حج کیلئے طبی ماہرین کی خدمات لینے کا فیصلہ،اہلیت کامعیارکیاہے؟