گیانا کی قسمت بدل گئی، تیل سے اربوں ڈالر آمدن کا نیا دور شروع

Aug 01, 2026 | 10:10:AM
گیانا کی قسمت بدل گئی، تیل سے اربوں ڈالر آمدن کا نیا دور شروع
کیپشن: فائل فوٹو
سورس: گوگل
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(ویب ڈیسک )جنوبی امریکی ملک گیانا کو تیل سے حاصل ہونے والی آمدن میں نمایاں اضافے کی توقع ہے کیونکہ ایکسون موبل کی سربراہی میں قائم کنسورشیم نے تیل کے بڑے منصوبے پر کی گئی ابتدائی سرمایہ کاری کی لاگت پوری کر لی ہے۔

ایکسون موبل کے چیف فنانشل آفیسر نیل ہینسن کے مطابق کمپنی اور اس کے شراکت داروں نے گیانا کے اسٹابروک بلاک میں تیل کی تلاش اور ترقی پر کی گئی تقریباً 55 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری متوقع وقت سے تقریباً دو سال پہلے واپس حاصل کر لی ہے۔

اسٹابروک بلاک کو 2015 میں دریافت کیا گیا تھا اور اندازہ ہے کہ یہاں کم از کم 11 ارب بیرل تیل کے مساوی ذخائر موجود ہیں، یہ منصوبہ ایکسوں موبل کے سب سے اہم عالمی اثاثوں میں شمار ہونے لگا ہے، جبکہ اس کی وجہ سے گیانا دنیا کی تیزی سے ترقی کرنے والی معیشتوں میں شامل ہو گیا ہے۔

 یہ بھی پڑھیں:فضائی سفر پر خطرے کے بادل!امریکا نے کون سی 6 کمپنیوں کوبلیک لسٹ کر دیا؟

گیانا اس وقت روزانہ 9 لاکھ بیرل سے زائد تیل پیدا کر رہا ہے، معاہدے کے تحت ابتدائی مرحلے میں کمپنی اور اس کے شراکت دار سرمایہ کاری کی لاگت پوری کرنے کے لیے زیادہ حصہ حاصل کر سکتے تھے، تاہم اب لاگت پوری ہونے کے بعد منافع بخش تیل میں گیانا کا حصہ بڑھ جائے گا۔

ایکسون موبل کے مطابق تیسرے سہ ماہی میں کمپنی کو گیانا سے تقریباً ایک لاکھ بیرل یومیہ کم تیل ملے گا، تاہم طویل مدت میں کمپنی کے مفت نقد بہاؤ میں اضافہ متوقع ہے۔

ایکسون موبل کے سربراہ ڈیرن ووڈز نے کہا ہے کہ گیانا میں مزید تلاش کے مواقع موجود ہیں اور کمپنی مصنوعی ذہانت سمیت جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے نئے ذخائر کا جائزہ لے رہی ہے۔

اس منصوبے میں ایکسوں موبل کا 45 فیصد حصہ ہے، جبکہ شیورون کے پاس 30 فیصد اور چینی کمپنی سی این او او سی کے پاس 25 فیصد حصہ ہے، اسٹابروک بلاک کے مزید منصوبے اوارو اور وِپ ٹیل بھی رواں اور آئندہ سال پیداوار شروع کرنے کی توقع رکھتے ہیں۔

تاہم تیل سے حاصل ہونے والی دولت کے باوجود گیانا کو اپنی معیشت کو صرف توانائی کے شعبے تک محدود رکھنے کے بجائے دیگر شعبوں میں وسعت دینے، بجلی کی فراہمی اور بنیادی ڈھانچے کے مسائل حل کرنے جیسے چیلنجز کا سامنا ہے۔