چڑیا کیوں روٹھ گئی

تحریر; روزینہ علی 

Mar 30, 2026 | 16:53:PM
چڑیا کیوں روٹھ گئی
کیپشن: چڑیا کیوں روٹھ گئی
سورس: 24نیوز
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

صبح کی پہلی کرن نمودار ہوتے ہی سب سے پہلے کانوں میں چڑیوں کی چوں چوں سنائی دیتی تھی، چڑیوں کی چہچہاہٹ گھڑی کے الارم سے زیادہ خوبصورت لگتی تھی.

رئیس فروغ کیا خوب لکھتے ہیں کہ 

چوں چوں کرتی چڑیا نے،
 ننھے منے پنکھ ہلائے 
اوس کی ننھی بوندوں نے 

 کلیوں کے چہرے چمکائے

 لیکن یہ بات تو بہت پرانی ہو گئی آج وہ صبحیں اس بے مثال پرندے کی میٹھی آواز کے بغیر ہوتی ہیں، صبح کے سماں میں اس پرندے کی کمی شدت سے محسوس ہوتی ہے، یہ حسین صبحیں تب نصیب تھیں جب ہم سمارٹ فونز سے اینڈرائیڈ سے دور تھے، تب نہ راتوں کو دیر تک جاگنا ہوتا تھا نہ صبح کو دیر سے اٹھنے کا کوئی بہانہ تھا، آج وقت بدل چکا ہے،کیوں کہ رات کو دیر سے سونے کا عذر ہے کہ سمارٹ فونز پر مختلف سوشل ایپس پر ریلز دیکھتے وقت گزر جاتا ہے یا پھر کوئی ڈرامہ یا فلم دیکھتے گھنٹوں گزر جاتے ہیں، جس کا نتیجہ پھر یہی نکلتا ہے کہ صبح جلدی آ نکھ نہیں کھلتی۔

خیر بات تو چڑیا کی ہو رہی ہے ،اب جب جلدی آنکھ نہیں کھلتی تو اس نازک سے پرندے سے ملاقات بھی ناممکن ہو گئی ہے لیکن دن میں بھی جب یہ پرندہ نظر نہ آیا تو تشویش بڑھ گئی، آج پھر دل نے دوبارہ چاہا کہ چڑیا کی آواز بنا جائے، تین سال پہلے جو صورتحال تھی، آج بھی ویسی ہے یا شاید پہلے سے بھی زیادہ خراب، تو سوچا چلو ایک بار پھر اس پرندے کی معلومات لیتے ہیں،رپورٹ بنانے کے لیے مجھے جتن تو بہت کرنے پڑے، میرے ذہن میں پہلا خیال آیا کہ اسلام آباد وائلڈ لائف منیجمنٹ بورڈ سے رابطہ کروں لیکن وہاں سے کورا سا جواب ملا کہ یہ ہمارا موضوع نہیں ہے،ہم نہیں دیکھتے خیر میں نے رپورٹ بنانے کی ٹھان لی تھی تو مزید چھان بین کرنے لگی کہ شاید کسی ایسے انسان سے رابطہ ہو جس کو کچھ معلومات ہوں، تو رابطہ کیا ،چیف وائلڈ لائف رینجرز مری محمد ابرار سے، انہوں نے بتایا کہ چڑیا کی نسل میں ہر سال 3 سے 5 فیصد کمی ہو رہی ہے  اور ابھی تک 60 سے 70 فیصد چڑیا کی نسل ختم ہو چکی ہے، جس کی بنیادی وجہ فصلوں پر زہریلی ادویات کا بے جا استعمال، جنگلات کا تیزی سے خاتمہ اور چڑیوں کا شکار ہے۔

ایک اور بھی برا مسئلہ ہے جس کا مکمل خاتمہ ابھی تک نہیں ہو سکا ،وہ ہے چڑیوں کو پنجروں میں قیدکر کے پھر صدقہ جاریہ کے نام پر ان چڑیوں کو بیچا جاتا ہے، چڑیوں کو پکڑ کر قید کرنے کے مرحلے کے دوران بھی کئی چڑیا مر جاتی ہیں، جس کا ریکارڈ کسی ادارے کے پاس موجود ہی نہیں، پھر چڑے کھانے کے شوقین افراد بھی چڑیوں کی نسل کشی کے ذمہ دار ہیں  اور آج پنجاب کے مختلف علاقوں میں چڑوں کے کھابوں سے مشہور ہوٹل ہیں جن پر پابندی ضروی ہے۔

سریلی اور میٹھی آواز میں سہانی صبح میں روشن اجالوں کے ساتھ چہچہانے والی چڑیوں کی نسل کشی کو روکنے اور عوام میں شعور اجاگر کرنے کے لیے اس دن کو منانے کا آغاز بھی ہوا 2010 میں تاکہ اس ننھے خوبصورت پرندے کی نسل کشی کو روکا جا سکے ،عوام میں شعور بیدار کیا جا سکے اور انہیں بتایا جا سکے کہ چڑیا سے چڑوں سے پیار کرنا ہے، انہیں اس ماحول کی زینت بنے رہنے دینا ہے۔

میں اسلام آباد میں رہتی ہوں ،میں نے تو چڑیوں کی کمی کو محسوس کیا ،پھر میری بہن نے بھی کہا کہ ہاں چڑیاں نظر نہیں آتی، میری والدہ نے کہا کہ چھت پر دانہ پانی رکھنے کے لیے جاتی ہوں مگر چڑیاں نظر نہیں آتی اور پھر یہ صرف ہم نے ہی نہیں اسلام آباد کے کئی شہریوں نے بھی چڑیوں کی کمی کو محسوس  کیا ہے، رپورٹ بنانے کے سلسلے میں مختلف شہریوں سے پوچھا کہ چڑیا آخری بار کب دیکھی تو کہنے لگے سات آٹھ ماہ پہلے جب اپنے آبائی علاقے میں گئے، تب دیکھی، کچھ نوجوانوں سے بات ہوئی تو ان کا بھی یہی جواب تھا کہ اسلام آباد میں چڑیا نہیں دیکھی،  اتنا ہی نہیں یہ  بھی سچ ہے کہ  اسلام آباد کے سرسبز درخت بھی اس بے مثال پرندے کے گھونسلوں سے محروم ہیں،ایسا لگتا ہے جیسے شہر بے مثال کی معطر فضاؤں سے یہ پرندے  بالکل ہی روٹھ گئے ہیں، ان پرندوں کی میٹھی سریلی آوازوں سے محظوظ ہونے والے شعراء نے کیا خوبصورت نظمیں اور غزلیں لکھیں۔

برکت علی فراق نے کیا خوب لکھا کہ 

آؤ بچو گیت سنائیں 

گیت سنائیں خوب ہنسائیں 

اک بڑھیا نے چڑیا پالی 

ننھی منی بھولی بھالی 

بڑھیا بیٹھی کھیر پکاتی 

چڑیا اس کو گیت سناتی 

اک دن بڑھیا بھوکی آئی 

جلدی جلدی کھیر پکائی 

منہ دھو کر وہ کھانے بیٹھی 

چڑیا گیت سنانے بیٹھی 

بڑھیا نے سب کچھ کھا ڈالا 

چڑیا کو بھوکا ہی ٹالا 

چڑیا جب پنجرے میں آئی 

بھوک سے اس کو نیند نہ آئی 

چوں چوں چوں چوں کر کے روئی 

ساری رات اسی میں کھوئی 

صبح ہوئی اور مرغا بولا 

بڑھیا نے جب پنجرا کھولا 

پیار سے جب اس نے چمکارا 

چڑیا نے چونچوں سے مارا 

بڑھیا بھاگی گھر میں آئی 

مٹھی بھر کر دانا لائی 

جب بڑھیا نے دانا کھلایا 

تب چڑیا نے گیت سنایا 

کیا خوبصورت نظم ہے، مگر پہلے کتابوں میں پڑھنے کے ساتھ یہ ننھی منھی چڑیا ادھر اُدھر پھدکتی رہتی تھی اور کتاب میں پڑھی کہانی کا مزہ دوبالا ہو جاتا تھا، چڑیوں کی چہچہاہٹ سے ماحول میں ایک عجیب رونق تھی  مگر دنیا بھر میں ہر بچے کی آنکھ کا تارا یہ ننھا سا پرندہ اب تیزی سے بڑھتی آبادی کے رش میں گم ہوتا جارہا ہے،چڑیا کی نسل کشی روکنے کے لیے سنجیدہ اقدامات کرنا ہونگے،چڑیا کے شکار پر پابندی لگانا ہوگی ورنہ یہ چڑیا بھی کتابوں میں صرف قصے کہانیوں تک رہ جائے گی ،فصلوں پر زہریلی ادویات کے بے جا  سپرے کا بھی خاتمہ کرنا ہوگا اور اس ضمن میں حکومت کو پرندوں سے متعلق پالیسی پر نظرثانی کرنی چاہیے۔

 قارئین سے گزارش ہے کہ گرمیوں میں خاص طور پر اپنے گھر کی چھتوں پر یا لان میں چڑیا سمیت مختلف پرندوں کے لیے دانے پانی کا ضرور بندوبست کریں، اب موسم تیزی سے بدل رہا ہے اور گرمی بھی بے انتہا ہوتی ہے تو اس ننھے پرندے سمیت دیگر پرندوں کے لیے مناسب انتظام ضرور کریں۔

یہ بھی پڑھیں :  لاہور سے کراچی جانے والی پی آئی اے کی پرواز سے پرندہ ٹکرا گیا