ریاست کی برداشت، لاہور کی شرافت اور پی ٹی آئی کی سیاسی بدمعاشی

تحریر ۔۔۔۔۔زین مدنی حسینی

Dec 30, 2025 | 12:13:PM
ریاست کی برداشت، لاہور کی شرافت اور پی ٹی آئی کی سیاسی بدمعاشی
کیپشن: فائل فوٹو
سورس: 24نیوز
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

نو مئی 2023 پاکستان کی تاریخ کا وہ سیاہ ترین باب ہے جس نے نہ صرف ریاستی نظم و ضبط کو چیلنج کیا بلکہ بین الاقوامی سطح پر پاکستان کو شدید بدنامی سے دوچار کیا  اور اس حقیقت سے انکار اب خود فریبی کے سوا کچھ نہیں۔

پاکستان تحریکِ انصاف نے اس دن جس طرزِ سیاست کا مظاہرہ کیا وہ احتجاج نہیں بلکہ کھلی بغاوت تھی، مگر افسوسناک امر یہ ہے کہ آج تک نہ اس کی واضح مذمت کی گئی، نہ معافی مانگی گئی اور نہ ہی اپنی صفوں میں موجود شدت پسندانہ سوچ سے لاتعلقی اختیار کی گئی، نو مئی کے بعد پی ٹی آئی کی سیاست مزید بگڑتی چلی گئی، رہنما جیلوں میں ہیں مگر اوورسیز اکاؤنٹس کے ذریعے ریاستِ پاکستان کے خلاف نفرت انگیز مہم آج بھی جاری ہے، عالمی اداروں کو خطوط لکھے جا رہے ہیں، معیشت کو دباؤ میں لانے کی اپیلیں ہو رہی ہیں اور ریاستی اداروں کو مسلسل نشانہ بنایا جا رہا ہے، جو کسی بھی صورت جمہوری جدوجہد نہیں بلکہ ایک منظم سازش کے مترادف ہے۔

ایسے حالات میں جب حکومت نے سیاسی درجہ حرارت کم کرنے کے لیے مذاکرات کی پیشکش کی تو یہ امید پیدا ہوئی کہ شاید پی ٹی آئی قیادت اب سنجیدگی دکھائے گی، مگر خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ سہیل خان آفریدی نے لاہور آ کر اس امید پر بھی پانی پھیر دیا، یہ بات ریکارڈ کا حصہ ہے کہ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے واضح احکامات جاری کیے تھے کہ کے پی کے کے وزیر اعلیٰ کا لاہور میں خیر مقدم کیا جائے، انہیں عزت دی جائے اور مہمان نوازی کا مکمل اہتمام ہو، جس کی باقاعدہ تصدیق صوبائی وزیر بلال یاسین نے پنجاب اسمبلی کے فلور پر کھڑے ہو کر کی، یہاں تک کہ پنجاب اسمبلی میں ان کے استقبال کے لیے پھولوں کے گلدستے تک رکھوائے گئے، مگر اس تمام شرافت اور اعلیٰ ظرفی کے جواب میں جو رویہ اختیار کیا گیا وہ کسی مہذب سیاستدان کو زیب نہیں دیتا۔

 پنجاب پولیس نے اس پورے معاملے میں غیر معمولی تحمل، برداشت اور قانون پسندی کا مظاہرہ کیا، وہی پنجاب پولیس جسے پی ٹی آئی ماضی میں ریاستی جبر کی علامت قرار دیتی رہی، اسی پولیس نے ریاست مخالف نعرے لگانے والے کارکنان کو بھی مکمل پروٹوکول دیا، نہ لاٹھی چارج ہوا، نہ آنسو گیس، نہ زبردستی، نہ گرفتاری، حالانکہ یہی وہ عناصر تھے جو ماضی میں بھی ریاست کے خلاف کھڑے رہے اور اس بار بھی نفرت انگیز نعرے ہی لگاتے رہے، اس کے باوجود لاہور میں داخل ہوتے ہی بغیر اجازت جلسہ کرنے کی کوشش، کارکنان کے جھرمٹ کے ساتھ طاقت کا مظاہرہ، اور پھر پنجاب اسمبلی میں اس انداز سے داخل ہونے کی کوشش جیسے کوئی قبضہ گروپ کسی زمین یا جائیداد پر دھاوا بولنے آتا ہے، یہ رویہ محض سیاسی ناپختگی نہیں بلکہ آئینی اداروں کی کھلی توہین ہے۔

پنجاب اسمبلی کوئی کنٹینر نہیں، نہ ہی کوئی احتجاجی میدان ہے، یہ ایک مقدس آئینی ادارہ ہے جہاں داخلہ ضابطوں اور وقار کے ساتھ ہوتا ہے، نہ کہ نعروں، دھکم پیل اور ہجوم کے زور پر، سہیل خان آفریدی صاحب شاید یہ بھول گئے کہ وزیر اعلیٰ بننا کسی کو قانون سے بالاتر نہیں بنا دیتا، آپ اب احتجاجی سیاستدان نہیں بلکہ ایک صوبے کے چیف ایگزیکٹو ہیں، اور آپ کے ہر عمل کا اثر پورے ملک پر پڑتا ہے، اگر حکومتِ پنجاب اور پنجاب پولیس تعاون نہ کرتیں تو نہ ایسا پروٹوکول ملتا، نہ ایسی آزادانہ نقل و حرکت ممکن ہوتی، مگر پی ٹی آئی کی روایت رہی ہے کہ وہ ریاست کی شرافت کو کمزوری سمجھتی ہے۔

لاہور ایک زندہ دل مگر باشعور شہر ہے، یہ عزت دینا جانتا ہے مگر بدتمیزی کو کبھی قبول نہیں کرتا، اگر وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا چاہتے تو وہ لاہور آ کر وفاقی ہم آہنگی، بھائی چارے اور سیاسی سنجیدگی کا پیغام دے سکتے تھے، مگر انہوں نے ضد، انا اور اشتعال انگیزی کا راستہ چنا اور تین دن کے قیام میں حکمرانی کے بجائے محض دھاک بٹھانے کی ناکام کوشش کی، بالکل اسی انداز میں جیسے ماضی میں علی امین گنڈا پور کیا کرتے تھے، فرق صرف اتنا ہے کہ اس بار عہدہ بڑا تھا مگر سوچ بدستور چھوٹی رہی۔

نو مئی سے لاہور تک پی ٹی آئی نے ایک بار پھر ثابت کر دیا ہے کہ وہ آج بھی سیاست کو تصادم، احتجاج کو بغاوت اور ریاستی برداشت کو خوف سمجھتی ہے، مگر تاریخ گواہ ہے کہ ریاست صبر تو کرتی ہے مگر تماشا نہیں بنتی، اور لاہور نے یہ سب دیکھا بھی ہے، سمجھا بھی ہے اور یاد بھی رکھا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:وفاق المدارس نے بڑی پابندی عائد کر دی