ولادت مصطفیٰ اور فیضان نورنبوت ٰ ﷺ کے پندرہ سو سال
تحریر:سفیر رضا چغتائی
Stay tuned with 24 News HD Android App
پندرہ سو برس قبل جب دنیا تاریکیوں میں ڈوبی ہوئی تھی، ظلم و جبر کا بازار گرم تھا، انسانیت لہولہان اور قبائل کی انا میں معصوم جانیں قربان ہو رہی تھیں، عورت کو زندہ دفن کرنا فخر سمجھا جاتا تھا، طاقتور کمزور کو نگل جاتا تھا اور معاشرہ جہالت کی اتھاہ گہرائیوں میں جا گرا تھا، ایسے میں اللہ تعالیٰ نے اپنی سب سے عظیم نعمت عطا فرمائی۔
ماہِ ربیع الاول کی بارہ تاریخ کو مکہ مکرمہ میں ایک ایسا نور طلوع ہوا جس نے کائنات کے اندھیروں کو چیر کر رکھ دیا۔ وہ عظیم ہستی تشریف لائی جن کے بارے میں قرآن کریم نے فرمایا‘ ”اور ہم نے آپ کو تمام جہانوں کے لیے رحمت بنا کربھیجاہے۔“ حضور سرور عالم ﷺ کی ولادت باسعادت محض ایک تاریخی واقعہ نہیں بلکہ انسانیت کی معراج اور کائنات کی تقدیر بدلنے والا لمحہ تھا۔
رسول اکرم حضرت محمد مصطفی ٰ ﷺ کی بعثت نے دنیا کو عدل، رحم، علم اور ہدایت کی روشنی عطا کی۔ آپ ﷺ نے انسان کو اس کا مقام سمجھایا، عورت کو عزت، غلاموں کو آزادی اور معاشرے کو انصاف دیا۔ آپ ﷺ نے اعلان فرمایا کہ ”سب سے بہتر انسان وہ ہے جو دوسروں کے لیے زیادہ فائدہ مند ہو۔“ یہی تعلیم آج بھی ہمیں یاد دلاتی ہے کہ حضور ﷺ کی سیرت پر عمل کیے بغیر دنیا میں امن اور آخرت میں نجات ممکن نہیں۔
گزشتہ پندرہ سو برسوں میں امتِ مسلمہ نے علوم و فنون، تہذیب و تمدن، حکمرانی اور عدل و انصاف کے میدان میں ایسے کارنامے انجام دیے جن کی نظیر نہیں ملتی۔ بغداد، قرطبہ، سمرقند اور دہلی کی درسگاہیں دنیا بھر کے لیے علم و دانش کا مینار بنیں۔
لیکن سوال یہ ہے کہ آج ہم کہاں کھڑے ہیں؟ ہمارے نوجوان مغربی تہذیب کے نقال بننے پر فخر محسوس کرتے ہیں، سوشل میڈیا کے منفی رجحانات نے ان کی سوچ کو مسخ کر دیا ہے، اور امت کی اکثریت محض تقریبات اور رسومات تک محدود ہو کر رہ گئی ہے۔
ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ عشق ِسول ﷺ صرف جشن تک محدود نہیں، بلکہ آپ ﷺ کے بتائے ہوئے عملی پیغام کو اپنی زندگی کا حصہ بنانا ہی اصل کامیابی ہے۔ قرآن پاک میں ارشاد ہے‘ ”کہہ دو اگر تم اللہ سے محبت کرتے ہو تو میری پیروی کرو، اللہ تمہیں اپنا محبوب بنا لے گا اور تمہارے گناہ معاف فرما دے گا۔“یہ آیت مبارکہ واضح طور پر سمجھاتی ہے کہ حقیقی محبت رسول ﷺ کا تقاضا اتباعِ رسول ﷺ ہے۔
نوجوانوں کیلئے سب سے بڑی ضرورت یہی ہے کہ وہ اپنی توانائیاں مثبت سمت میں لگائیں،سوشل میڈیا پر وقت ضائع کرنے کی بجائے قرآن و سنت کو اپنائیں انہی پاکیزہ تعلیمات کو عام کریں، دنیا کی چکاچوند کے دھوکے میں آنے کے بجائے اپنی اصل پہچان یعنی ”امت ِ محمد ﷺ“ ہونے پر فخر کریں۔ جب نوجوان عشقِ رسول ﷺ کو ایمان کا جزو سمجھ کر کردار کی پختگی پیدا کریں گے تو امت پھر سے دنیا کی رہنما بنے گی۔
ہمارے معاشرے کو درپیش مسائل‘انتشار، بے عملی اور اخلاقی زوال اسی وقت حل ہوسکتے ہیں جب ہم سب حضور ﷺ کی سیرت کو اجتماعی زندگی میں نافذ کریں۔ آپ ﷺ نے فرمایا‘ ”مؤمن مؤمن کے لیے ایک عمارت کی مانند ہے، جس کا ہر حصہ دوسرے حصے کو مضبوط کرتا ہے۔“ یہی وہ جذبہ ہے جو ہمیں اپنی صفوں میں پیدا کرنا ہوگا۔آج جب ہم پندرہ سو سالہ جشنِ میلاد النبی ﷺ منا رہے ہیں تو یہ ہمارے لیے محض مسرت کا موقع نہیں بلکہ ایک عہد ِ نو کا آغاز ہے۔
ہمیں سوچنا ہوگا کہ کیا ہم نے واقعی آپ ﷺ کی تعلیمات کو اپنی زندگی کا حصہ بنایا ہے؟ کیا ہم نے عدل، برداشت، ایثار اور خدمت کے وہ تقاضے پورے کیے ہیں جو آپ ﷺ نے اپنی سنت سے ہمیں سکھائے؟ اگر نہیں تو یہ موقع ہے کہ ہم اپنی کوتاہیوں کو دور کریں اور ایک نئی منزل کی طرف بڑھیں۔
اسی تناظر میں مظفرآباد آزاد کشمیر کی قدیم اور معتبر دینی تنظیم مرکزی سیرت کمیٹی نے بھی حسب روایت استقبالِ ربیع الاول کی روح پرور تقریبات سے ماہ مبارک کا آغازکیا۔
مرکز سیرت کمیٹی نے اس بابرکت مہینے کی آمد پرحسب سابق پرچم کشائی کی باوقار محافل منعقد کیں اور شہر کے دینی و روحانی ماحول کو ایمان افروز کر دیا۔ مصطفائی رضاکاروں نے قبرستانوں کی صفائی، مساجد و مدارس کی آرائش و ستھرائی اور گزرگاہوں کی بہتری جیسے عملی اقدامات بھی کیے جو دراصل اسی پیغام کی عکاسی کرتے ہیں کہ عشقِ رسول ﷺ صرف جذبات کا نام نہیں، بلکہ خدمت،اخوت و محبت، اتحاد اور نظم و ضبط کی صورت میں معاشرتی زندگی میں ڈھل جانا ہی اس کی اصل روح ہے۔
آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم سب مرکزی سیرت کمیٹی جیسے معتبر اور متفقہ پلیٹ فارم پر یکجا ہوں، اپنے اختلافات بھلا کر حضور نبی کریم ﷺ کی سیرتِ طیبہ کو اپنی انفرادی و اجتماعی زندگی میں عملی طور پر اپنائیں، اور پندرہ سو سالہ جشن ِ میلاد النبی ﷺ کو امت کی بیداری، کردار سازی اور اتحاد کا سنگِ میل بنائیں یہی عشقِ مصطفی ﷺ کا حقیقی تقاضا اور ہماری دنیا و آخرت کی کامیابی کا راستہ ہے۔