بلند شرح سود ، مہنگائی توانائی کی وجہ سے لوگ کاروبار بند کر رہے ہیں, سردار طاہر محمود
Stay tuned with 24 News HD Android App
(وقاص عظیم) اسلام آباد چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری نے ملک میں کاروباری مشکلات اور ریگولیٹری پیچیدگیوں پر اظہار تشویش کرتے ہوئے کہا ہے کہ بلند شرح سود ، مہنگائی توانائی کی وجہ سے لوگ کاروبار بند کر رہے ہیں۔
اسلام آباد چیمبرز آف کامرس کے صدر سردار طاہر محمود نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ریگولیٹری رکاوٹیں کو دور کیا جائے۔ ریئیل اسٹیٹ کا شعبہ بند ہو چکا ہے پاکستان سے 18 ارب ڈالر دبئی کی ریئیل اسٹیٹ مارکیٹ میں منتقل ہوچکا ہے وفاقی بجٹ کے بعد ریئیل اسٹیٹ شعبہ میں ٹرانزیکشنز کم ہوئی ہیں سپر ٹیکس کو ریشنالائز کیا جائے
ریگولیٹری رکاوٹیں آئی ایم ایف کی شرائط نہیں ہیں ریئیل اسٹیٹ سیکٹر 50 سے زائد صنعتوں کو چلا رہا ہے ملک میں اسٹیل کے بڑے کارخانے بند ہو رہے ہیں بلند شرح سود ، مہنگائی توانائی کی وجہ سے لوگ کاروبار بند کر رہے ہیں۔ ریئیل اسٹیٹ کا شعبہ بند ہو چکا ہے اس کی وجہ سے لوگ بے روزگار ہو رہے ہیں بہت سارے بلڈرز اپنا سرمایہ دبئی منتقل کر چکے ہیں۔
سردار طاہر محمود نے کہا کہ ہماری راہ میں رکاوٹیں کھڑی کر دی گئی ہیں وزیر اعظم شہباز شریف ریئیل اسٹیٹ کے شعبے کی ترقی کے لیے کانفرنس بلائیں عالمی تجربات سے ریئیل اسٹیٹ کے شعبے کو پروان چڑھایا جائے دبئی سمیت دنیا کے دیگر ممالک نے ریئیل اسٹیٹ شعبے سے ترقی کی ہے لوگوں کو کاروباری کرنے کا موقع دیا جائے۔
یہ بھی پڑھیں : کوہستان میگا کرپشن کیس؛ دس ملزموں نےسرنڈر کر دیا، پونے24کروڑ روپے واپس کرنے پر تیار
سردار طاہر محمود نے کہا کہ اسلام آباد میں جائیداد کی نئی ویلیوایشن پر مشاورت مکمل ہو چکی ہے اسلام آباد میں جائیداد کی حقیقی قیمتوں کا تعین کیا جا رہا ہے یکم فروری کو اسلام آباد میں نئی ویلیوایشن کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا جائے گا وفاقی بجٹ کے بعد ریئیل اسٹیٹ شعبہ میں ٹرانزیکشنز کم ہوئی ہیں سپر ٹیکس کو ریشنالائز کیا جائے موجودہ ٹیکس گزاروں پر بوجھ نہ ڈالا جائے۔
سردار طاہر محمود نے کہا کہ حکومت نے 20 لاکھ روپے ہاؤسنگ قرض دینے کا اعلان کیا ہے ہاوسنگ لون کو ایک کروڑ روپیہ کیا جائے سردار طاہر محمود نے کہا کہ سرکاری افسران کے پاس صوابدیدی اختیار نہیں ہونا چاہیے لوگوں کے برآمدی کنٹینرز کئی روز سے کھڑے ہوئے ہیں ملکی برآمدات 20 فیصد تک گر چکی ہیں برآمدات میں کمی کی وجوہات کو دیکھا جائے۔
یہ بھی پڑھیں: پاک آسٹریلیا ٹی ٹوینٹی سیریز کا پہلا میچ، پاکستان نے 22 رنز سے جیت لیا