کوہستان میگا کرپشن کیس؛ دس ملزموں نےسرنڈر کر دیا، پونے24کروڑ روپے واپس کرنے پر تیار

Jan 29, 2026 | 18:56:PM
کوہستام میگا کرپشن کیس، سرنڈر، فرنٹ مین، بے نامی دار، نیب، پیش رفت، احتساب کورٹ پشاور، ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل ، Kohstam Mega Corruption Case, Surrender, Frontman, Anonymous, NAB, Progress, Accountability Court Peshawar, Deputy Prosecutor General
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(24نیوز)  پشاور میں کوہستان کرپشن اسکینڈل میں  پیشرفت سامنے آئی ہے۔ خیبر پختونخوا میں میگا کرپشن میں ملوث 10 ملزمان نے سرنڈر کردیا  ہے۔

نیب کے ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل نے عدالت کو بتایا کہ سرنڈر کرنے والے یہ ملزمان کوہستان  کرپشن سکینڈل میں بے نامی دار ہیں۔ یہ ملزمان 23 کروڑ 77 لاکھ روپے  سے زائد کے اثاثے واپس کرنا چاہتے ہیں۔

ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل نیب نے یہ بھی بتایا کہ  ان دس ملزمان کو نیب نے نوٹس جاری کئے تھے،  یہ ملزمان رضاکارانہ طور پر اپنے اثاثے واپس کرنا چاہتے ہیں۔

سرنڈر کر کے  غبن شدہ رقوم واپس کرنے والے ملزمان میں شعیب الرحمن،صادق زمان، اعجاز احمد، شبنم عاصم،  سید علی خان، زوبیا اعجاز، مہوش بی بی، ہاشم خان، اصغر اقبال اور فصیح الرحمن  شامل ہیں۔

 کوہستان میگا  کرپشن کیس  میں جنوری کے دوران اہم پیش رفت

خیبر پختونخوا میں صوبائی حکومت کے ملازمین نے بہت بڑے پیمانے پر سرکاری فنڈز خورد برد کئے۔ اس سکینڈل کوہستال ضلع سے سامنے آیا، اس لئے یہ کوہستان کرپشن سکینڈل کے نام سے مشہور ہے۔  کوہستان کے 40 ارب روپے کے میگا کرپشن کیس میں حالیہ دنوں (جنوری 2026) میں درج ذیل اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔
تاریخی ریکوری اور پلی بارگین

 نیب (NAB) نے اس کیس کے مرکزی ملزم قیصر اقبال کے فرنٹ مین اور سابق ڈمپر ڈرائیور ممتاز خان سے 4.05 ارب روپے کی ریکارڈ ریکوری کی ہے۔ احتساب عدالت پشاور نے اس پلی بارگین کی منظوری دے دی ہے، جس کے بعد ملزم کو رہا کر دیا گیا۔
اثاثوں کی واپسی

 اس ریکوری میں نقد رقم کے علاوہ مختلف جائیدادیں اور قیمتی گاڑیاں بھی شامل ہیں جو قومی خزانے میں جمع کرا دی گئی ہیں۔


اب مزید 10 ملزمان کا سرنڈر

تازہ ترین پیش رفت آج ی ہسامنے آئی کہ 10 مزید ملزمان نے احتساب عدالت میں خود کو سرنڈر کر دیا ہے۔ یہ ملزمان "بے نامی دار" تھے اور انہوں نے تقریباً 23 کروڑ 77 لاکھ روپے مالیت کے اثاثوں سے دستبرداری کی درخواست جمع کرائی ہے۔یہ موقف اختیار کرتے ہوئے کہ یہ جائیدادیں اصل میں مرکزی ملزمان کی ہیں۔
پہلی سزا

 ممتاز خان کی پلی بارگین اور عدالت سے اس کی توثیق کو اس ہائی پروفائل سکینڈل میں پہلی باقاعدہ سزا (Conviction) قرار دیا جا رہا ہے۔


تحقیقات کا دائرہ

نیب کے مطابق اب تک اس کیس میں مجموعی طور پر 36 سے زائد افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔ ان میں سرکاری افسر، بینکرز اور ٹھیکے دار شامل ہیں۔ کئی دیگر ملزمان کی پلی بارگین کی درخواستیں بھی زیرِ غور ہیں۔ 
یہ کیس خیبر پختونخوا کے ضلع اپر کوہستان میں ترقیاتی منصوبوں کے نام پر جعلی بلنگ اور قومی خزانے سے اربوں روپے کی غیر قانونی منتقلی سے متعلق ہے۔ 

یہ بھی پڑھیئے:  بانی کی ملاقات؛ سہیل آفریدی نے اڈیالہ جیل والی سڑک پر دھرنا دے دیا