عمران خان کی طبعیت خراب ہوئی،ہسپتال لایا گیا اور اہل خانہ کو بتایا تک نہیں،راجا ناصر عباس
Stay tuned with 24 News HD Android App
(ویب ڈیسک) سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر اور اپوزیشن اتحاد کے رہنما راجا ناصر عباس نے کہا ہے کہ ہمیں پی ٹی آئی کے بانی کی صحت کے متعلق تشویش ہے۔ پتہ چلا ہے کہ عمران خان کی جیل مین طبعیت خراب ہوئی، ان کو ہسپتال لایاگیا لیکن ان کے اہل خانہ کو اس معاملہ کی اطلاع تک نہیں دی گئی۔
اپوزیشن اتحاد کے رہنما راجا ناصر عباس نے یہ باتیں اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس میں کہیں، ان کے ساتھ اور پی ٹی آئی کے رہنما بیرسٹر گوہر اور سلمان اکرم راجا بھی موجود تھے۔
بیرسٹر گوہر نے اس پریس کانفرنس میں کہا، عمران خان سے ہماری آخری ملاقات 20 دسمبر کو ہوئی تھی، آج تک ہمیں ملاقات کرنے کے لئے نہیں کہا گیا، ہم نے پٹیشن بھی دائر کی لیکن ملاقات کی اجازت نہ مل سکی، ایک نیوز پیپر میں رپورٹ ہوا کہ عمران خان کو ہسپتال لایا گیا اور پھر جیل واپس لایا گیا، اس بات سے پارٹی اور فیملی میں شدید تشویش پائی جا رہی ہے کیوں کہ آج تک یہ نہیں بتایا جارہا کہ کس بیماری کی وجہ سے لایا گیا؟ اس عمل کی ہم شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیئے: 16 سالہ بچوں کو موٹرسائیکل چلانے کی اجازت ملنے کیلئے اہم پیش رفت
بیرسٹر گوہر نے کہا،آپ لوگ اپنی طاقت بڑھانے کے لئے آئین میں تبدیلی کر رہے ہیں۔ 8 فروری تک ملاقات نہ روکیں۔ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ آج نہیں تو کل تک بانی سے ہماری ملاقات کروائی جائے۔
سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر علامہ راجہ ناصر عباس نے کہا کہ یہ خبریں چل رہی ہیں کہ عمران خان کو ہسپتال لایا گیا اور پارٹی کو نہیں پتا، ان کی فیملی کو بھی نہیں پت۔ اس سب کا انہیں جواب دینا پڑے گا۔ ایسا نہیں ہوگا کہ آپ ظلم کریں اور جواب نہ دینا پڑے۔
آٹھ فروری کو یوم سیاہ
راجا ناصر عباس نے کہا، 8 فروری کو عوام نے آپ کو ٹھکرایا تھا۔ عوام نے ہر رکاوٹ کو گرا دیا۔ عمران خان اگر آج باہر ہوتے ڈونلڈ ٹرمپ کا یہ بورڈ ہی نہ بنتا۔ جب غزہ کے عوام چیخ رہےتھے تب آپ ان کی مدد کے لیے نہیں گئے۔
آپ سمجھتے تھے کہ نشان چھین لیں گے اور کارنر میٹنگ نہیں کرنے دیں گے، عوام نے جو آپ کے ساتھ کیا وہ آپ نے دیکھا۔ سیاسی بحران 8 فروری کے الیکشن سے پیدا ہوا۔ بے روزگاری بڑھی ہے۔ کسانوں کا نقصان ہوا ہے۔ اسی لئے ہم نے 8 فروری کو یوم سیاہ کا اعلان کیا ہے۔
سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ عمران خان اور بشری بی بی سے ملاقاتیں نہیں ہو رہیں۔ یہ قابل قبول نہیں ہے۔ ان کے ذاتی معالج کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں ۔ ہم نے پٹیشن دائر کی ہے ملاقاتوں کے لی۔ آج ہمیں پتہ چلا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ نے پٹیشن کو سائیڈ پر کر دیا ہے۔ہم چاہتے ہیں کہ عمران خان کو ذاتی معالج اور فیملی ممبرز کو ان سے ملنے دیا جائے، یہ ایک ایسا عمل ہے جو ظلم پر مبنی ہے۔
یہ بھی پڑھیئے: نوجوانوں کو تین لاکھ روپے بلاسود ملیں گے، بڑی خوشخبری آگئی
انہوں نے مزید کہ ہو سکتا ہے کہ سیاست کو بھی دفن کر دیا جائے، ہم نے کوئی ایسا کام نہیں کرنا جو آئین اور قانون کے خلاف ہو۔ ہم یہی کہہ رہے ہیں کہ اپنی بے زاری کا اظہار کریں۔