16 سالہ بچوں کو موٹرسائیکل چلانے کی اجازت ملنے کیلئے اہم پیش رفت
Stay tuned with 24 News HD Android App
(24نیوز) پنجاب میں 16 سالہ بچوں کو موٹرسائیکل چلانے کی اجازت ملنے کیلئے اہم پیش رفت ہو گئی۔ قانون میں ترمیم منظور ہو گئی۔وزیر اعلیٰ مریم نواز نے گھروں سے کام کاج کیلئے مجبوراً نکلنے والے بچوں کو موٹر سائیکل چلانے کی اجازت دینے کا وعدہ کیا تھا۔
پنجاب اسمبلی کی سٹینڈنگ کمیٹی برائے داخلہ نے موٹر وہیکلز ترمیمی بل 2026 کی منظوری دے دی ہے، جس کے تحت صوبے میں کم عمر افراد کی موٹرسائیکل چلانے سے متعلق پالیسی میں بڑی تبدیلی متوقع ہے۔
منظور شدہ بل کے مطابق 16 سال کی عمر کے بچوں کو موٹرسائیکل چلانے کی اجازت دینے کی راہ ہموار کر دی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: مسلسل غیر حاضری: سہیل آفریدی کو گرفتار کر کے عدالت میں پیش کرنے کا حکم جاری ہوگیا
کمیٹی کے اجلاس میں 16 سال کی عمر میں موٹرسائیکل چلانے کی اجازت کی تجویز منظور کی گئی، جبکہ نابالغ موٹر سائیکل سواروں کے لیے جووینائل ڈرائیونگ پرمٹ متعارف کرانے کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے۔
بل میں تجویز کیا گیا ہے کہ 16 سال سے 18 سال تک عمر کے حامل موٹرسائیکل سواروں کے لیے ایک الگ اور باقاعدہ قانونی نظام تشکیل دیا جائے گا۔
مجوزہ قانون کے تحت "جووینائل ڈرائیونگ پرمٹ" متعلقہ لائسنسنگ اتھارٹی جاری کرے گی, بچوں کے موٹر بائیک ڈرائیونگ پرمٹ کے تحت موٹرسائیکل چلانے کے لیے مخصوص شرائط نافذ ہوں گی۔ پرمٹ کے ساتھ موٹر بائیک چلانے والے بچوں کی نگرانی کے طریقہ کار اور قواعد و ضوابط پر عملدرآمد کو لازمی قرار دیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: شَبِ برات؛تعلیمی اداروں میں تعطیل کےحوالے سےاہم خبر
اس قانون سازی کا بنیادی مقصد ڈرائیونگ لائسنس سے محروم کم عمر بچوں کے موٹر بائیک چلانے کے رجحان کی حوصلہ شکنی کے ساتھ انتہائی مجبوری کے عالم میں کم عمری میں موٹر بائیک چلانے پر مجبور بچوں کی دڑائیونگ کو ریگولیٹ کرنا اور ان کی سیفٹی کو یقینی بنانے کے لئے زیادہ سے زیادہ اہتمام کرنا ہے۔اس قانون سے بچوں کے بہتر ڈرائیونگ سیکھنے، پرمٹ حاصل کرنے اور قواعد کی وائلیشن نہ کرنے کی عادات کی حوصلہ افزائی ہو گی۔
کچھ ماہ پہلے جب ٹریفک پولیس نے ہیلمٹ اور دوسری وائلیشنز میں ملوث تمام افراد کو ہتھکڑی لگانے، ایف آئی آر درج کرنے کی سخت پالیسی اپنائی تو عوامی حلقوں کی طرف سے مطالبہ کیا گیا تھا کہ جن بچوں کے والد اور دوسرے مرد سرپرست گھر کے ضروری کاموں کے لئے دستیاب نہیں، جو خود موٹر بائیک چلا کر گھر کے ضروری امور انجام دینے پر مجبور ہیں، ان کی ڈرائیو کرنے کی مجبوری کو سمجھا جائے اور انہیں ہتھکڑی لگانے سے گریز کیا جائے۔
اس مطالبے کو فوراً مان کر سی ایم مریم نواز نے تمام سکول جانے والے بچوں کو وائلیشن پر ہتھکڑی لگانے سے روک دیا اور جن بچوں کی مجبوریاں ہیں ان کے لئے ڈرائیونگ لائسنس بنانے میں عمر کی رعایت دینے کا راستہ اختیار کیا۔ اب اس فیصلے پر قانون میں ترمیم کے ذریعہ عملدرآمد کیا جا رہا ہے۔
اس ترمیم کے تحت موٹر وہیکلز آرڈیننس 1965 میں تبدیلی کی تجویز بھی شامل کی گئی ہے۔
قائمہ کمیٹی سے منظوری کے بعد اب یہ بل پنجاب اسمبلی کے اجلاس میں پیش کیا جائے گا، جہاں منظوری ملنے کی صورت میں اسے باضابطہ قانون کی حیثیت حاصل ہو جائے گی۔
یہ بھی پڑھیئے: اوورسیز پاکستانیوں کیلئے گاڑی کی خریدو فروخت پر بائیو میٹرک آسان ہوگئی