امریکی دھمکیوں کے بعد ایران کا آبنائے ہرمز میں فوجی مشقوں کا اعلان، فضائی حدود کا نوٹم جاری
Stay tuned with 24 News HD Android App
(24نیوز) بحری بیڑے کی آمد، امریکی اور اسرائیلی دھمکیوں کے بعد ایران نے خلیج فارس کے اہم سمندری گذرگاہ آبنائے ہرمز کے قریب فضائی حدود میں لائیو فائر مشقیں کرنے کا اعلان کرتے ہوئے نوٹم جاری کیا ہے۔
یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی فوجی اثاثے مشرقِ وسطیٰ پہنچ چکے ہیں، جس سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔
ایران کے نوٹس کے مطابق یہ فوجی مشقیں 27 سے 29 جنوری تک پانچ ناٹیکل میل کے دائرے میں، زمین کی سطح سے لے کر 25,000 فٹ تک کے فضائی حصے میں کی جائیں گی۔
اس دوران متعلقہ فضائی حدود کو خطرناک قرار دیا گیا ہے اور پروازیں محدود رہیں گی،ہرمز کی تنگی عالمی تجارت کے لیے انتہائی اہم سمندری راستہ ہے، جہاں سے روزانہ لاکھوں بیرل تیل منتقل ہوتا ہے،کسی بھی قسم کی رکاوٹ بین الاقوامی توانائی کی منڈیوں میں ہلچل پیدا کر سکتی ہے اور جغرافیائی سیاسی کشیدگی بڑھا سکتی ہے۔
یہ فضائی انتباہ امریکی فوجی سرگرمیوں میں اضافے کے درمیان آیا ہے، تاکہ فوری تعیناتی اور سپورٹ کی صلاحیتیں دکھائی جا سکیں۔
یہ بھی پڑھیں:امریکی مسلم رکن کانگریس الہان عمر پر خطاب کے دوران بدبودار مائع چیز سے حملہ
واشنگٹن کے حکام نے واضح کیا ہے کہ ایران کے معاملے میں تمام آپشنز زیر غور ہیں، جس میں عسکری کارروائی بھی شامل ہے۔
ایرانی حکام نے خبردار کیا ہے کہ کسی بھی حملے کا جواب فوری اور مکمل ہوگا،اس دوران شہری اور فوجی پروازیں محتاط رہیں اور متعلقہ فضائی ہدایات کی سختی سے پیروی کریں۔
ادھر پاسدران انقلاب نے بھی دوٹوک الفاظ میں واضح کردیا کہ امریکی جہاز ایرانی سمندری حدود میں آئے تو حملہ کریں گے۔
پاسدران انقلاب نے بیان میں کہا کہ امریکی صدر گفتگو زیادہ کرتے ہیں، جنگ کا فیصلہ تو میدان میں ہوگا۔