سلامتی کونسل میں خواجہ آصف کے پیچھے بیٹھی خاتون کون؟ وزیر دفاع کے بیان پر وزارت خارجہ کی وضاحت
Stay tuned with 24 News HD Android App
(ویب ڈیسک ) وزیر دفاع خواجہ آصف نے سلامتی کونسل میں تقریر کے دوران اپنے پیچھے بیٹھی خاتون کے حوالے سے سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ یہ خاتون کون ہیں اور ان کے پیچھے کیسے بیٹھیں، یہ وزارت خارجہ کی ذمہ داری ہے اس لیے مناسب ہے کہ اس معاملے کا جواب وہی دیں۔
سوشل میڈیا پر وزیر دفاع خواجہ آصف کی اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں تقریر کے دوران کی ایک تصویر وائرل ہو رہی ہے جس میں ان کے پیچھے ایک خاتون کو بھی بیٹھے دیکھا جا سکتا ہے۔
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس میں متعلقہ خاتون کی پاکستانی وفد کے ساتھ موجودگی اور پھر خواجہ آصف کے پیچھے براجمان ہونے سے متعلق سوشل میڈیا پر شدید تحفظات کا اظہار کیا گیا۔
سوشل میڈیا پر برپا ہونے والے طوفان پر خواجہ آصف بھی خاموش نہ رہے اور ایکس اکاؤنٹ پر ایک تفصیلی پوسٹ لکھ کر وائرل ہونے والی تصویر سے متعلق وضاحت پیش کی۔
خواجہ آصف نے اپنی پوسٹ میں لکھا وزیراعظم مصروف تھے اس لیے ان کی جگہ میں نے سلامتی کونسل میں یہ تقریر کی تھی، یہ خاتون یا کس نے میرے پیچھے بیٹھنا ہے دفتر خارجہ کی صوابدید و اختیار تھا اور ہے، فلسطین کے مسئلے کے ساتھ میرا 60 سال سے جذباتی لگاؤ اور کمٹمنٹ ہے۔
سلامتی کونسل میں یہ تقریر وزیر اعظم کیونکہ مصروف تھے اسلئے انکی جگہ یہ تقریر میں نے کی۔ یہ خاتون یا کس نے میرے پیچھے بیٹھنا ھے دفتر خارجہ کی صوابدید و اختیار تھا اور ھے۰ فلسطین کے مسئلہ کے ساتھ میرا 60 سال سے جذباتی لگاؤ اور کمٹمنٹ ھے۔ ابو ظہبی بینک میں ملازمت کے دوران فلسطینی… pic.twitter.com/FkyCHz4fYY
— Khawaja M. Asif (@KhawajaMAsif) September 26, 2025
وزیر دفاع نے لکھا ابو ظبی بینک میں ملازمت کے دوران فلسطینی دوست اور کولیگ بنے اور آج بھی ان کے ساتھ رابطہ ہے، غزہ سے متعلق میرے خیالات واضح ہیں اور میں ان کا برملا اظہار کرتا ہوں۔
انہوں نے مزید لکھا اسرائیل اور صیہونیت پر میرے خیالات نفرت کے سوا اور کچھ نہیں، یہ خاتون کون ہیں اور وفد میں ہمارے ساتھ کیوں ہیں اور ان کو میرے پیچھے کیوں بٹھایا گیا، ان سوالوں کا جواب دفتر خارجہ ہی دے سکتا ہے۔
خواجہ آصف نے مزید لکھا کہ میرے لیے مناسب نہیں کہ ان کی (دفتر خارجہ) جانب سے جواب دوں، میرا ٹوئٹر اکاؤنٹ کی ہسٹری اس بات کی شہادت ہے کہ میرا فلسطین کے ساتھ رشتہ ایمان کہ حصہ ہے۔
The Ministry of Foreign Affairs has noted queries regarding the seating of a certain individual behind the Defence Minister at a recent meeting of the UNSC. To clarify, the individual in question was not listed in the official letter of credence for the Pakistan delegation to the… https://t.co/60w0te9hLX
— Ministry of Foreign Affairs - Pakistan (@ForeignOfficePk) September 26, 2025
دوسری جانب وزارت خارجہ نے خواجہ آصف کی ٹوئٹ کا جواب دیتے ہوئے لکھا سلامتی کونسل میں وزیر دفاع کی تقریر کے دوران ان کے پیچھے بیٹھی خاتون کے حوالے سے مختلف چیزیں سامنے آ رہی ہیں۔
وزارت خارجہ نے لکھا یہ واضح ہے کہ متعلقہ شخصیت اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 80 ویں اجلاس کے لیے پاکستان کے اس آفیشل وفد کا حصہ نہیں ہے جسے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ نے منظور کیا اور نا ہی وزیر دفاع کی تقریر کے دوران متعلقہ خاتون کو وزیر دفاع کے پیچھے بیٹھنے کی منظوری وزیر دفاع نے دی تھی۔