اڈیالہ جیل کے باہر ارکان پارلیمنٹ پر حملہ، اسمبلی میں توہین، اقبال آٖفریدی کو بیرسٹر گوہر نے پارٹی سے نکالنے کا نوٹس بھیج دیا

Jun 27, 2026 | 22:57:PM
اڈیالہ جیل کے باہر ارکان پارلیمنٹ پر حملہ، اسمبلی میں توہین، اقبال آٖفریدی کو بیرسٹر گوہر نے پارٹی سے نکالنے کا نوٹس بھیج دیا
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(24نیوز)   ‏پاکستان تحریک انصاف ن کے چئیرمین بیرسٹر گوہر خان نے MNA اقبال آفریدی کو   پارٹی نظم و ضبط کی سنگین خلاف ورزی کا مجرم قرار دے کر  شوکاز نوٹس جاری کردیا۔

بیرسٹر گوہر خان کے دستخط سے جاری کئے گئے شو کاز نوٹس مین قومی اسمبلی کے رکن اقبال آفریدی پر سنگین الزامات لگائے گئے ہیں اور انہیں ڈسپلن کی سنگین خلاف ورزی کا مجرم قرار دیا گیا ہے۔

بیرسٹر گوہر کے شوکاز نوٹس مین کہا گیا ہے کہ اقبال آفریدی ایم این اے نے مسلسل پارٹی کے اراکان قومی اسمبلی کے ساتھ نامناسب رویہ اختیار کیا۔ اس رویہ کے متعدد واقعات کیمرے میں ریکارڈ ہوئے اور ٹی وی نیوز  اور سوشل میڈیا پر نشر بھی ہوئے۔ 

شوکاز نوٹس میں کہا گیا کہ اقبال آفریدی نے  پی ٹی آئی کےارکان اسمبلی کے خلاف توہین آمیز اور غیر مہذب زبان استعمال کی۔ انہوں نے  قومی اسمبلی کی کاروائی کے دوران بارہا پارلیمانی پارٹی کے فیصلوں کی خلاف ورزی کی۔  توہین آمیز رویہ نہ صرف پارٹی کے ارکان اسمبلی بلکہ قومی اسمبلی کے جونیئر اور سینئر عملے کی جانب بھی رہا۔ 

بیرسٹر گوہر نے رکن قومی اسمبلی اقبال آفریدی پر الزام لگایا کہ انہوں نے منگل، 23 جون 2026 کو اڈیالہ جیل کے باہر  پارٹی کے ارکان اسمبلی پر حملے کی منصوبہ بندی کی۔  

یہ بھی پڑھیئے: پاکستان میں آج اور کل زلزلے کیوں آئے؟ ماہرین ارضیات نے وجہ دریافت کر لی 

شوکاز نوٹس مین اقبال آٖریسی سے کہا گیا کہ آپ کے ایک ساتھی نے متعدد ایم این ایز پر حملہ بھی کیا،آپ خود بھی اس حملے میں براہِ راست ملوث تھے۔ آپ کے اقدامات اور رویے نے عوامی سطح پر پارٹی کی بدنامی کا باعث بن کر سنگین بدانتظامی، نظم و ضبط کی خلاف ورزی اور پارٹی کے اتحاد و یکجہتی کو نقصان پہنچایا۔

شوکاز نوٹس میں بیرسٹر گوہر نے کہا کہ ابقال آفریدی ایم این اے وضاحت کریں کہ آپ کی بنیادی رکنیت کیوں نہ منسوخ کی جائے اور آپ کو فوری طور پر پاکستان تحریکِ انصاف سے کیوں نہ خارج کر دیا جائے۔ آپ کو ہدایت کی جاتی ہے کہ اس نوٹس کے موصول ہونے کے سات دن کے اندر اپنی تحریری وضاحت جمع کرائیں۔ مقررہ مدت میں جواب نہ دینے کی صورت میں پارٹی کے آئین کے مطابق مزید کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

یہ بھی پڑھیں:  خواتین کرکٹرز پر مسوجینسٹ تنقید کا غصیلا جواب؛سابق کیپٹن ثنا میر نے مردوں کو کھری کھری سنا دیں