حکومتی قرضوں کی شرح نمو گزشتہ 15 برس کی کم ترین سطح پر آ گئی 

حکومت کی اقتصادی اصلاحات سے ملک پرقرض کا دباؤ کم اورزرمبادلہ کے ذخائرمیں اضافہ ہوگیا

Jun 27, 2026 | 15:29:PM
حکومتی قرضوں کی شرح نمو گزشتہ 15 برس کی کم ترین سطح پر آ گئی 
کیپشن: فائل فوٹو
سورس: گوگل
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(احمدمنصور)حکومت کی اقتصادی اصلاحات سے ملک پرقرض کا دباؤ کم اورزرمبادلہ کے ذخائرمیں اضافہ ہوگیا۔
 اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے مطابق مرکزی حکومتی قرضوں کی شرح نمو گزشتہ 15 برس کی کم ترین سطح پر آ گئی،مرکزی حکومتی قرض نجی شعبے کے 100 کھرب واجبات سمیت 81.9 کھرب روپے ہے۔ 
مشیروزیرخزانہ خرم شہزادکے مطابق پاکستان کا قرض جی ڈی پی تناسب 76 فیصد سے کم ہو کر 68 فیصد رہ گیا، 2023میں حکومتی قرض بڑھنے کی رفتار23فیصد تھی جو اب 5فیصد پرآگئی ہے،حکومتی قرض بڑھنے کی شرح 15 برس کی کم ترین سطح پر ہے۔
 مشیروزیرخزانہ خرم شہزاد کے مطابق مقامی قرضوں کی اوسط مدت 2.8 سال سے بڑھ کر 3.8 سال ہونے سے قرضوں کی واپسی کا خطرہ کم ہوا،پاکستان میں پہلی بار 4.7 کھرب کے قرضے قبل از وقت ختم یا واپس کردیئےگئے ،مالی سال 2026 میں سودی اخراجات 8.89 سے کم ہوکر 6.94 کھرب رہ گئے، 2 کھرب کی بچت ہوئی، مالی سال 2023میں وفاقی آمدن کا 64 فیصد سود کی ادائیگی پر خرچ ہوتا تھا جو کم ہو کر 40 فیصد رہ گیا،زرمبادلہ ذخائربہترہونے سے درآمدی بل ادائیگی کی گنجائش 2 ہفتوں سے بڑھ کر 3 ماہ تک جاپہنچی۔

یہ بھی پڑھیں:آزاد کشمیر انتخابات کیلئےپاکستان پیپلز پارٹی کا سیاسی سرگرمیاں تیز کرنے کا فیصلہ
 مشیروزیرخزانہ کے مطابق حکومت کی اقتصادی اصلاحات سے قرض کا دباؤ کم اورزرمبادلہ کے ذخائرمیں اضافہ ہواہے، حکومت کے معاشی اقدامات سے خزانے پر قرض کا بوجھ نسبتاً کم ہوا اور مالی نظم و ضبط میں نمایاں بہتری دیکھنے میں آرہی ہے۔