اے این پی کے رہنما جمال ناصر ساتھیوں سمیت ن لیگ میں شامل ہو گئے
Stay tuned with 24 News HD Android App
(24نیوز) اے این پی کے رہنما جمال ناصر اپنےساتھیوں سمیت پاکستان مسلم لیگ ن میں شامل ہو گئے۔ اس اہم پیش رفت کا اعلان مسلم لیگ نون کےسینئیر رہنما انجینئیر امیر مقام نے خود کیا ہے۔ انجینئر امیر مقام نے بتایا کہ مسلم لیگ (ن) کی دعوت پر محمد جمال ناصر نے پارٹی کو جوائن کیا ہے ۔
وفاقی وزیر امورِ کشمیر انجینئر امیر مقام نے جمال ناصر کے ساتھ نیوز کانفرنس کے دوران اعلان کیا کہ اے این پی مردان کے رہنما محمد جمال ناصر مسلم لیگ (ن) میں شامل ہو گئے ہیں۔
نیوز کانفرنس میں گفتگو کرتے ہوئے اے این پی کے سابق سینئیر لیڈر جمال ناصر نے کہا، عوامی نیشنل پارٹی میں میں نے 15 سال کام کیا، آج میں اپنےساتھیوں سمیت مسلم لیگ(ن) میں شامل رہا ہوں۔
جمال ناصر نے بتایا، میں نےعوامی نیشنل پارٹی میں بہت اچھا وقت گزارا، پچھلے 13 سال سے پختونخوامیں بدامنی ہے، لوگ پنجاب اور خیبرپختونخوا کو دیکھتے ہیں تو صاف فرق نطر آتا ہے۔ ہمارے علاقے کے بہت سے مسائل ہیں جو حل طلب ہیں۔ جمال ناسر نے کہا کہ خیبرپختونخوا کے نوجوان بے چینی کا شکار ہو رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیئے: ایرانی ریال کی قیمت مزید گر گئی، اب پندرہ لاکھ ریا کا ایک ڈالر ملنےلگا
اس نیوز کانفرنس میں گفتگو کرتے ہوئے انجینئر امیر مقام نے بتایا کہ مسلم لیگ (ن) کی دعوت پر محمد جمال ناصر نے پارٹی جوائن کی ہے اور آج کا دن پارٹی کے لیے خوش آئند ہے۔ تعلیمی اداروں میں طلبہ کے رویئےمیں مثبت تبدیلی آرہی ہے۔
امیر مقام نے کہا، طلبہ اور عوام میں مسلم لیگ(ن) کی قیادت پر اعتماد بڑھ رہا ہے، صرف نعرے لگانا سیاست نہیں۔ عوام کو ریلیف دینا ضروری ہے، عوام اب سیاسی نعروں کے بجائے کارکردگی کو ترجیح دے رہی ہے۔
امیر مقام نے کہا، خیبرپختونخوا حکومت کی ترجیحات عوامی مسائل نہیں، پشاور یونیورسٹی میں تنخواہوں اور پنشن کے مسائل ہیں، صوبے میں تعلیم اور سرکاری ادارے مالی بحران کا شکارہیں، صوبائی حکومت عوامی مسائل کے بجائے احتجاجی سیاست میں مصروف ہیں، این ایف سی ایوارڈمیں خیبرپختونخوا کو پورا اور اضافی حصہ مل رہا ہے، دہشت گردی کیخلاف جنگ کیلئے کے پی کو خصوصی فنڈز دیئے جا رہےہیں۔
امیر مقام نے مزید کہا، فنڈز کے شفاف استعمال پر صوبائی حکومت کو جوابدہ ہونا ہو گا، پنجاب میں مریم نواز کی کارکردگی قابل تقلید ہے، کے پی حکومت کو بھی عملی اقدامات اور عوامی ریلیف پر توجہ دینی چاہیے۔
یہ بھی پڑھیئے: